’وسیع تباہی والے ہتھیاربنتےرہیں گے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
آپ نے کسی اخبار میں پڑھ لیا ہوگا یا کسی ٹیلی ویژن یا ریڈیو چینل پر سن لیا ہوگا کہ ساٹھ سال پہلے آج کے دن ٹھیک صبح سوا آٹھ بجے جاپان کے ایک شہر ہیرو شیما میں امریکہ نے ایٹم بم گرایا تھا جس کے نتیجے میں فوری طور پر اسی ہزارافراد ہلاک ہوگئے تھے اور تابکاری کے اثرات سے ایک سال کے اندر مزید ہزاروں افراد ہلاک ہوگئے۔ ان مرنے والوں کی یاد میں پوری دنیا میں سیمینار، سمپوزیم، مباحثے ، مناظرے اور اس قبیل کے دوسرے اجتماعات ہوئے یا ہورہے ہیں، خود ہیرو شیما میں اس موقع پر ایک بڑا اجتماع ہوا جس میں کوئی پچپن ہزار افراد نے حصہ لیا۔ اس سانحہ کے ٹھیک تین دن بعد امریکہ نے ایک اور بم جاپان کے ایک اور شہر ناگاساکی پر گرایا جس کے نتیجے میں 74 ہزارافراد موقع پر ہی ہلاک ہوگئے، لیکن کہتے ہیں کہ چونکہ ناگاساکی شہر کچھ چھوٹی چھوٹی پہاڑیوں کے درمیان آبادہے اس لیے بہت سے لوگ تابکاری کے اثر سے بچ گئے۔ پتہ نہیں ناگا ساکی کی تباہی کا دن منایا جاتا ہے یا نہیں۔ جہاں تک ہلاک ہونے والوں کی تعداد کا تعلق ہے تو وہ اتنی اہم نہیں ہے اس لیے کہ ہر جنگ میں وہ چھوٹی ہو یا بڑی ، عالم گیر ہو یا علاقائی اس کی بساط سے زیادہ لوگ مارے جاتے ہیں ، خود دوسری جنگ عظیم میں جس کا ہیرو شیما اور ناگاساکی حصہ ہیں، پانچ کروڑ سے زیادہ آدمی مارے گئے تھے۔ لیکن یوں چشم زدن میں ایک دھماکے سے اتنے سارے لوگوں کا مارا جانا یقینی ایک دہلا دینے والا واقعہ تھا اور لوگ کچھ دنوں کے لیے دہل بھی گئے ، لیکن انسانی ضمیر اس سے متاثر نہیں ہوا ۔ ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ اس واقعے کے بعد ساری دنیا بالخصوص بڑی طاقتیں یہ طے کرلیتیں کہ اب جنگ نہیں ہوگی اور سارے فیصلے پر امن مزکرات کے ذریعے ہونگے لیکن ہوا یہ کہ پوری دنیا میں اسلحے کی دوڑ تو پہلے سے ہی جاری تھی اب جوہری اسلحے کی دوڑ بھی شروع ہوگئی۔ سوویت یونین نے اپنا پہلا ایٹم بم 1949 میں بنایا، برطانیہ نے 1952 میں فرانس نے 1960 میں اور چین نے 1962 میں۔ لیکن اتنی تباہی والے بم بھی انسان کی ہوس اقتدار کی تسلی کے لیے کافی نہیں تھے اور تباہ کن اسلحہ بنانے کی کوششیں شروع ہوگئیں، چنانچہ امریکہ نے 1952 میں ہائڈروجن بم بنا ڈالا، روس نے 1953 میں یہ کارنامہ انجام دیا، برطانیہ نے 1957 میں، چین نے1967 میں اور فرانس نے 1968 میں۔ پھراور طاقتور بم بنانے کی کوششیں شروع ہوگئیں اور کہتے ہیں کہ 1977 میں امریکہ نے ایک اور طاقت ور بم بنا لیا جو یقینی طور پر اس وقت تک بنائے جانے والے سارے بموں کا باپ ہوگا۔ ان بموں کے ساتھ ساتھ ان کو پھینکنے والے میزائیل بنانے کی دوڑ شروع ہوئی جو میرا خیال ہے کسی نہ کسی شکل میں اب تک جاری ہے۔ اس عرصے میں روایتی ہتھیاروں کی ترقی کا سلسلہ بھی جاری رہا، جن میں نپام بم، کلسٹر بم اورڈیزی کٹر وغیرہ شامل ہیں۔ پھر جب ساری بڑی طاقتوں کے پاس یہ وسیع تباہی والے ہتھیار آگئے تو انہوں نے اپنے سے کم درجے والے ملکوں کو ان کے حصول سے روکنے کی کوششیں شروع کردیں لیکن کچھ اس طرح کہ جو اپنے گماشتے تھے انہیں چپکے سے اجازت دیدی یا ان کی سرگرمیوں کے بارے میں خاموشی اختیار کرلی۔ جس کی ایک مثال یہ حالیہ انکشاف ہے کہ برطانیہ نے اسرائیل کو جوہری اسلحہ بنانے میں بالواسطہ مدد دی تھی۔ نتیجہ یہ ہے کہ آہستہ آہستہ کچھ چھٹ بھیوں نے بھی ایٹمی طاقت ہونے کا اعلان کردیا ، کچھ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ایٹمی طاقت بننے والے ہیں کچھ بننے کی تگ و دو کر رہے ہیں، غرض کے وہ ممالک بھی ایٹمی طاقت بننے کے خواب دیکھ رہے ہیں جن کے عوام کی اکثریت کو مارے نقاہت کے سانس لینا بھی دو بھر ہے۔ ضیا سرحدی مرحوم نے ایک فلم ’ہم لوگ‘ بنائی تھی، فلمیں تو انہوں نے اور بھی بنائی تھیں لیکن اس فلم کے لیے انہیں یاد رکھا جائےگا۔ اس فلم میں ایک کردارکندن جو انور حسین نے ادا کیا تھا ہیرو سے جو بلراج ساہنی تھے، پوچھتا ہے کہ بھگوان اس دنیا کو چوپٹ کیوں نہیں کردیتا؟ بلراج نے کہا’ کندن یہ نیک کام بھگوان نے دنیا والوں کے ہی سپرد کردیا ہے۔‘ میں نے بچپن میں کسی اخبار میں ایک کارٹون بھی دیکھا تھا جس میں انسان کی جنگی صلاحیتوں کی ترقی کے مختلف مراحل مختلف خانوں میں دیکھائے گئے تھے۔ پہلے خانے میں دو پہلوان نماء افراد مگدروں سے لڑ رہے تھے، دوسرے خانے میں انہوں نے گنڈاسے اور کلہاڑے سنبھالے ہوئے تھے، تیسرے خانے میں تلواریں سونتے کھڑے تھے چوتھے میں گھوڑوں پر سوار ہوگئے اور یوں ہوتے ہوتے ایک خانے میں ایٹم بم کا وہ سانپ کی چھتری جیسا بادل اٹھتا ہوا دکھائی دیا اور پھر آخری خانے میں انہیں پہلے خانے کی طرح مگدروں سے لڑتے ہوئے دکھایا گیا۔ مجھے لگتا ہے کہ جب تک انسان ایک بار پھر مگدروں سے لڑنے پر مجبور نہیں ہوجاتا وہ اپنی تباہی کے ہتھیاروں کی تباہ کرنے والی صلاحیتوں میں وسعت پیدا کرنے کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||