اسرائیل اور برطانیہ جوہری تعاون | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسرائیل کے جوہری پروگرام کے لیے اہم مواد اسے برطانیہ نے فروخت کیا تھا۔ یہ بات ان قدیم دستاویزات سے سامنے آئی ہے جن کا جائزہ بی بی سی کے پروگرام ’نیوز نائٹ‘ نے کیا ہے اور جن کی بنیاد پر اس نے بدھ کو ایک خصوصی رپورٹ نشر کی۔ برطانیہ کے قومی آرکائیو میں محفوظ ان دستاویزات سے پتہ چلتا ہے کہ انیس سو اٹھاون میں برطانوی اہلکاروں نے اسرائیل کو بیس ٹن بھاری پانی فراہم کیا تھا جو کہ جوہری بم بنانے کے لیے اہم مسالہ ہوتا ہے۔ فرانس نے ڈمونا کے مقام پر بنائے گئے اسرائیلی پلانٹ کی تعمیر میں مدد کی تھی لیکن وہ اسے بھاری پانی فراہم نہیں کر سکا تھا۔ امریکہ نے بھی یہ فراہم کرنے سے اس لیے انکار کیا تھا کہ اسرائیل اسے یہ ضمانت دینے کو تیار نہیں تھا کہ یہ جوہری پلانٹ صرف پُر امن مقاصد کے لیے استعمال ہوگا۔ ایسے میں کچھ برطانوی اہلکاروں نے اسرائیل سے یہ سودا کیا اور دو برس پہلے ناروے سے خریدے ہوئے بھاری پانی کا زائد از ضرورت حصہ اسرائیل کو بھیج دیا۔ اہلکاروں نے اس کو ایسا ظاہر کیا جیسے کہ یہ سودا ناروے اور اسرائیل کے درمیان ہوا ہو۔ نہ برطانیہ کے اہم اتحادی امریکہ کو اس سودے کے بارے میں معلوم ہوا اور نہ ہی اس وقت کی برطانوی حکومت کو۔ اس وقت کے ایک دستاویز پر وزارت خارجہ کے اہلکار ڈونالڈ کیپ نے لکھا ہے کہ ’بہتر یہی ہوگا کہ اس کا ذکر ہم امریکیوں سے نہ کریں‘۔ امریکی صدر جان ایف کینیڈی کے دور حکومت میں وزیر دفاع رہنے والے رابرٹ میکنامارا نے اس سلسے میں ’نیوزنائٹ‘ سے کہا کہ وہ اس معاملے پر حیران ہیں۔ ’مجھے اس لیے حیرانی ہے کہ ہم اس وقت برطانیہ کو جوہری بم کے بارے میں تمام معلومات سے آگاہ رکھ رہے تھے اور دونوں ممالک ایک دوسرے کو معلومات دے رہے تھے۔‘ سابق برطانوی وزیر دفاع لارڈ گِلمور نے بھی ان انکشافات کو حیران کُن قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سودے میں ملوث سرکاری اہلکاروں کو یقیناً پتہ ہوگا کہ اسرائیل اس بھاری پانی کو جوہری بم تیار کرنے کے لیے استعمال کرے گا۔ان کا کہنا تھا ’ایسے لگتا ہے کہ وہ لوگ اس سودے سے پیسا کمانے کے چکر میں تھے‘۔ انیس سو اکسٹھ میں جب اسرائیل نے برطانیہ سے پھر بھاری پانی فراہم کرنے کی درخواست کی تو اسے منع کر دیا گیا۔ اسرائیل نے آج تک جوہری عدم پھیلاؤ کے عالمی معاہدے پر دستخط نہیں کیا ہے لہذا عالی جوہری ادارہ اس کی تنصیبات کا معائنہ نہیں کر سکتی۔ اس کا یہ بھی موقف رہا ہے کہ وہ جوہری ہتھیاروں کے ہونے یا نہ ہونہ پر کچھ نہیں کہے گا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||