اسرائیل: ایٹمی تخفیف کا مطالبہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی کے سربراہ محمد البرادعی نے کہا ہے کہ اسرائیل کو اپنے ایٹمی اسلحہ میں کمی کرنے کےلیے مذاکرات شروع کرنے چاہیے۔ انہوں نے کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں سلامتی کے عدم توازن کو ختم کرنے کے لیے اسرائیلی ایٹمی اسلحہ میں تخفیف ضروری ہے۔ محمد البرادعی نے کہا ہے کہ اسرائیل تسلیم کرے یا نہ کرے سب کو علم ہے کہ اسرائیل کے پاس ایٹمی صلاحیت ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ کسی بھی خطے کے لیے یہ مناسب نہیں ہے کہ اس کے ایک ملک کے پاس ایٹمی اسلحہ ہو اور دوسروں کے پاس نہ ہو۔ مسٹر برادعی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ اگلے ماہ اسرائیل کا دورہ کرنے والے ہیں اور ان کا یہ دورہ خطے کو ایٹمی اسلحہ سے پاک کرنے کی کوششوں کا حصہ ہو گا۔ نام نہاد حکمت عملی کے تقاضوں کے تحت اسرائیل نہ تو اس بات کا اعتراف کرتہ ہے اور نہ ہی اس سے انکار کرتا ہے کہ اس کے پاس ایٹمی ہتھیار ہیں تاہم بڑے پیمانے پر یقین کیا جاتا ہے کہ اس کے پاس ایک سو ایٹمی ہتھیار ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||