BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 23 July, 2005, 12:50 GMT 17:50 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مشرف کے طعنے، بلیئر کی مجبوریاں

News image
صدر پرویز مشرف نے قوم سے اپنے حالیہ خطاب میں بہت سی اچھی باتیں کہی ہیں اور مذہبی جنونیوں سے نمٹنے کا عزم بھی ظاہر کیا ہے اور دبے لفظوں میں یہ بھی تاثر دینے کی کوشش کی ہے کہ افغانستان میں سوویت یونین کے خلاف لڑائی میں مذہبی جنون کا جو سہارا لیا گیا تھا وہ سوویت افواج کو حزیمت پہنچانے میں تو یقینی کار آمد ثابت ہوا لیکن اس کا نتیجہ اب پاکستان سمیت دوسرے فریقوں کو بھی بھگتنا پڑ رہا ہے۔

میں صدر مشرف کے اس موقف سے اتفاق کرتا ہوں لیکن انہوں نے اطلاعات کے مطابق بعض غیر ملکی صحافیوں سے باتیں کرتے ہوئے یہ شکایت بھی کی ہے کہ جب انہوں نے بعض شدت پسند تنظیموں کے خلاف کارروائی کے لئے برطانوی حکومت سے کہا تو انہوں نے انسانی حقوق اور سیاسی حقوق کے حوالے دینے شروع کردیئے۔

صدر پرویز مشرف کی اس بات سے کچھ یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ انسانی حقوق میں یقین نہیں رکھتےاور غالباً یہ چاہتے ہیں کہ برطانیہ سمیت دنیا کا کوئی بھی ملک ان تکلفات میں نہ پڑے۔

یہ بتانا تو بہت مشکل ہے کہ صدر مشرف کے اس بیان کا نوٹس برطانیہ کی حکومت نے لیا یا نہیں اور اگر لیا تو اس کا کیا رد عمل ہے لیکن میں جناب مشرف کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ اگر برطانیہ دنیا کے مہذب ملکوں میں شمار ہوتا ہے تو اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ اس نے گزشتہ صدی کے پہلے نصف تک تین چوتھائی دنیا پر حکومت کی تھی بلکہ اس لئےکہ یہاں ایک جمہوری نظام نے جنم لیا جس پر پوری قوم سختی سے قائم ہے بلکہ اپنے ہر مسئلے کا حل بھی اسی میں تلاش کرنے کی کوشش کرتی ہے۔

وہ ابتک دو جنگ عظیم لڑ چکا ہے لیکن اس عرصے میں ضرورت پڑنے پر کل جماعتی یا قومی وحدت کی حکومتیں تو قائم ہوئی ہیں، ایک بار بھی مارشل لا نافذ کرنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی۔

بلکہ یہ کہا جاتا ہے کہ یہاں اگر کوئی مارشل لا یا ایمرجنسی کے نفاذ کی بات کرے تو اسکو پاگل یا مخبوط الحواس تصور کیا جائے گا۔

برطانیہ کی عدالتیں اپنے معاملات میں اتنی آزاد ہیں کہ حکومت ایسا کوئی اقدام بڑے غور وخوض کے بعد کرنے کی ہمت کرتی ہے جس سے شہری یا انسانی حقوق کی تلفی کا کوئی پہلو نکلتا ہو۔

یہاں تک کہ غیر قانونی تارکین وطن کی ملک بدری کے لئے بھی حکومت کو بڑے جتن کرنے پڑتے ہیں اور اکثر دیکھا گیا ہے کہ عدالت ایسے معاملات میں حکومت کے احکامات کے خلاف فیصلہ دیتی ہے۔

پھر دروغ حلفی ایک ایسا جرم تصور کیا جاتا ہے جس کی کوئی معافی نہیں، چنانچہ اس جرم میں ایک خطاب یافتہ بزرگ جو دارالامرا کے رکن بھی رہ چکے جیل کی ہوا کھا چکے ہیں۔

پولیس یا کسی اور حفاظتی ایجنسی کا کوئی کارندہ اپنے فرائص کی ادائیگی میں کسی کو گولی ماردے یا کسی اور طرح کا گزند پہنچائے تو اس سے اس کے اس اقدام کی وضاحت طلب کی جاتی ہے اور وہ اگر اسکی مناسب وضاحت نہ کر سکے تو اسے قرار واقعی سزا بھگتنی پڑتی ہے۔

یہی نہیں اگر کوئی عام آدمی کسی لُچے پن یا بے راہ روی کے جرم میں پکڑا جاتا ہے تو اس کے ساتھ پولیس اور عدالت تھوڑی بہت مرؤت کا مظاہر کر بھی دیتی ہے لیکن اگر کوئی ذمہ دار شخص با الخصوص وہ جو اپنی تنخواہ کے لئے سرکاری خزانے پر انحصار کرتا ہو تو اس کی معمولی سی بے راہ روی بھی احتساب کی زد میں آجاتی ہے۔

وزیراعظم ٹونی بلئیر کی اہلیہ بلا ٹکٹ ٹرین پر سفر کرنے کے الزام میں دس پونڈ جرمانہ ادا کرچکی ہیں۔اور ایک اور سابق وزیر اعظم کی بیٹی بھی نشے کی حالت میں غیر شائستہ حرکات کے الزام میں جیل جا چکی ہیں۔

پہلے تو یہی بات بڑی تعجب خیز ہے کہ وزیراعظم کی اہلیہ ٹرین میں بغیر کسی فوج فرے کےسفر کریں اور دوسرے یہ کہ اس سے ریلوے کا عملہ ٹکٹ طلب کرے اور اگر ان کے پاس ٹکٹ نہ ہو توان پر جرمانہ عائد کردیا جائے۔

میں پرویز مشرف صاحب کا بہت احترام کرتا ہوں اس لئے کہ وہ ایک ایسے ملک کے صدر ہیں جو میری بھی شناخت ہے۔لیکن میں ان سے یہ گزارش ضرور کروں گا کہ وہ ایسے مشوروں سے برطانیہ کو معاف رکھیں تو بہتر ہے جو اسےان اوصاف سے محروم کردے جو اس کا طرہ امتیاز ہیں۔

دہشت گردی تو آنی جانی شے ہے، ہر ملک کو اپنی تاریخ کے کسی نہ کسی مرحلے میں اس سے سابقہ پڑتا ہے اور وہ اس سے نمٹ بھی لیتا ہے لیکن غور کریں کہ اگر برطانیہ میں انسانی حقوق کو پامال کیا جانے لگے یا شہری حقوق کا احترام نہ کیا جائے تو کیا برطانیہ، برطانیہ رہ سکے گا۔ وہ ان ملکوں کی صف میں شامل نہیں ہوجائے گا جہاں آئے دن آئین توڑے جاتے ہیں ، مذہب اور وطن پرستی کے نام پر اپنے مخالفین کو مقید اور اپنے گرد دم ہلانے والے خوشامدیوں کو آزاد کردیا جاتا ہے۔

اگر جناب مشرف کی طبیعت گوارہ کرے تو میں انہیں مشورہ دوں گا کہ وہ اپنے ملک میں بھی آئین ، قانون، عدالت اور پارلیمان کا ویسا ہی احترام پیدا کریں جیسا کہ برطانیہ میں کیا جاتا ہے، اخبارات اور ابلاغ عامہ کے دوسرے ذریعوں کی آزادی کا خود بھی احترام کریں اور دوسروں سے بھی کرائیں، یونیورسٹیوں اور تعلیمی اداروں کو آزاد کریں اپنے اسکالروں اور دانشوروں کا احترام کرنے کی روایت ڈالیں بالکل فرانس کے ایک صدر جنرل ڈیگال کی طرح جنہیں مشورہ دیا گیا کہ سارتر آپ کی مخالفت پر ہروقت کمر بستہ رہتا ہے آپ اسے گرفتار کیوں نہیں کرلیتے تو انہوں نے کہا ’سارتر تو فرانس ہے اسے کیسے گرفتار کیا جاسکتا ہے۔‘

66بھارت کو کس کا ڈر
امریکہ سے دفاعی معاہدہ کیوں؟علی احمد خان
66ایران میں انتخابات
قدامت پسند وہ جو نہ مانے:علی احمد کا کالم
66ایرانی مایوس نہیں
ایرانی اپنی راہ کا تعین خود کریں گے
66مہاجروں کا دکھ
مہاجروں کا دکھ ایک ساہوتا ہے:علی احمد خان
66عراق: ویتنام پالیسی
ماضی کی پالیسی سے نئے نتائج کی امید کیوں؟
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد