ایرانیوں نے اپنا صدر چن لیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایران کے صدارتی انتخابات میں جناب محمود احمدی نژاد کو بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل ہوئی ہے جو ایران میں جمہوریت کے مستقبل اور سیاسی استحکام کے لیے ایک بڑی خوش آئند بات ہے۔ ایک عام خیال ہے کہ جناب احمدی نژاد قدامت پرست ہیں اور وہ ایران کو سیاسی اعتبار سے پیچھے کی طرف لے جائیں گے بالخصوص امریکہ کے سرکاری حلقوں نے کچھ اسی طرح کے اندیشوں کا اظہار کیا ہے لیکن جن لوگوں کا تاریخ سے ذرا بھی علاقہ ہے وہ بخوبی جانتے ہیں کہ تاریخ کے پہیے کو پیچھے کی طرف نہیں گھمایا جاسکتا وہ آگے کی طرف ہی بڑھتا ہے اور جو اس کے اس سفر کے لیے راہ ہموار کرنے میں مددگار ہوتا ہے اسے وہ ساتھ رکھتی ہے جو اس کی راہ میں رکاوٹ پیدا کرتا ہے اس کو وہ کچل کر ملیامیٹ کر دیتی ہے۔ میرے خیال میں جناب محمود احمدی نژاد کو ایران کے 62 فیصد ووٹروں نے اس لیے منتخب نہیں کیا ہے کہ وہ قدامت پرست ہیں یا انہیں قدامت پرستوں کی حمایت حاصل ہے بلکہ اس لیے منتخب کیا ہے کہ وہ دیانتدار ہیں، نیک ہیں اور ملک سے بیروزگاری ، بد عنوانی اور معاشرتی ناہمواری اور بے راہ روی دور کرنا چاہتے ہیں۔ دوسر ے امیدوار بھی یقینی یہی کرنا چاہتے تھے لیکن عوام نے ان کو اپنے اعتماد کا مستحق نہیں سمجھا اور اس کی بھی غالباً وجہ یہ ہے کہ ان کے خیال میں جناب احمدی نژاد ان ہی میں سے ہیں اس لیےان کے دکھ درد کو سمجھنے کی زیادہ صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ اتنے دنوں تک ملک کے سب سے بڑے شہر کے میئر رہنے کے باوجود انہوں نے نہ صرف میئرانہ شان و شوکت سےگریز کیا بلکہ لباس میں بھی عبا قبا اور عمامہ و دستار کے بندھنوں سے اپنے آپ کو آزاد رکھا اور اپنی بہترین صلاحیتوں کے مطابق اپنے فرائض منصبی انجام دیتے رہے۔ اس تمام عرصے میں ان پر بدعنوانی، اقربا پروری، یا اختیارات کے ناجائز استعمال کا کوئی الزام نہیں لگا۔اس کا اعتراف خود ان کے ان مخالفین کو بھی ہے جو ان پرقدامت پرست ہونے کا الزام لگاتے ہیں۔ ان کے بعض مخالفین کا خیال ہے کہ سابق صدر خاتمی نے ایران کی خارجہ پالیسی میں جو کامیابیاں حاصل کی ہیں انہیں وہ شاید برقرار نہ رکھیں اور مغربی ممالک خاص طور پر امریکہ سے ان کے رویے میں سختی پیدا ہوجائے۔ ممکن ہے یہ صحیح ہو لیکن اس کا انحصار بھی اس بات پر ہوگا کہ مغربی ممالک اور امریکہ کا اپنا رویہ کیا ہوتا ہے ۔ اگر امریکہ نے وہی پالیسی اپنائے رکھی جو صدر خاتمی کے دور حکومت میں تھی کہ آپ میری ساری باتیں مان لیں ہم اپنی جگہ سے نہیں ہلیں گے تو یقیناً انہیں مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا اس لیے کہ جناب محمود نجاد کی کامیابی کی ایک بڑی وجہ یہ بھی تھی کہ ایران کے عوام جوہری پروگرام سے متعلق سابق صدر خاتمی کی مصالحانہ پالیسی سے خوش نہیں تھے۔ ان کا خیال تھا کہ اس سلسلے میں امریکہ اور یورپی ممالک ایران سے مذاکرات نہیں کر رہے ہیں بلکہ اس سے زبردستی اپنی بات منوانے کی کوشش کر رہے ہیں، اگر مغربی ممالک ایران سے جوہری پروگرام پر مذاکرات جاری رکھنا چاہتے ہیں تو انہیں بھی اپنے رویے میں تبدیلی پیدا کرنی پڑے گی اور ایران کو ایک قابل احترام فریق تسلیم کرنا پڑے گا اور اس کی یقین دہانیوں پر اسی طرح یقین کرنا پڑے گا جیسے وہ ایران سے چاہتے ہیں کہ وہ ان کی یقین دہانیوں پر یقین کرے۔ جہاں تک ایران کے ہمسایوں اور مشرق وسطیٰ اور روس سے ایران کے تعلقات کا مسئلہ ہے تو سابق صدر خاتمی نے ان سے تعلقات میں جو نمایاں پیش رفت کی ہے میں سمجھتا ہوں کہ جناب محمود نژاد بھی اس پالیسی کو برقرار رکھیں گے بلکہ عین ممکن ہے کہ وہ اسے اور آگے بڑھائیں۔ اور آخر میں یہ کہ ایک جمہوری نظام میں قدامت پرستی اور ترقی پسندی کوئی چیز نہیں ہوتی، عوام کی مرضی اور آراء اصل حقیقت ہوتی ہے۔ وہ اپنی مرضی اور خواہشات کے مطابق لوگوں کو اقتدار میں لاتے یا اتارتے رہتے ہیں۔ دنیا کے تمام جمہوری ملکوں میں وقفے وقفے سے دائیں ، بائیں ، قدامت پرست اور ترقی پسند اقتدار میں آتے رہتے ہیں کسی کو کوئی اعتراض نہیں ہوتا اور نہ ہونا چاہیے۔ برطانیہ میں دو بڑی سیاسی جماعتوں میں ایک اپنے آپ کو قدامت پرست کہتی ہے،اور وقفے وقفے سے اقتدار میں آتی رہتی ہے لیکن وہ لیبر کے دور حکومت میں کی گئیں سیاسی یا اقتصادی اصلاحات کو یکسر غلط قرار نہیں دے دیتی اور نہ اس سے یہ خطرہ محسوس کیا جاتا ہے۔ امریکہ میں بھی صدر بش کی حکومت کو سابق صدر کلنٹن کی حکومت کے مقابلے میں قدامت پرست تصور کیا جاتا ہے۔ ہندوستان میں کانگریسی بھی اقتدار میں آتے ہیں اور بھارتی جنتا پارٹی بھی، بلکہ وہاں تو ایک ریاست مغربی بنگال میں کوئی بیس سال سے بھی زیادہ عرصے سے کمیونسٹ پارٹی کی حکومت قائم ہے لیکن سب ملک کے آئین کے تابع ہیں اور اس کے تحت مقررہ مدت میں انتخابات ہوتے رہتے ہیں اور لوگ اقتدار میں آتے جاتے رہتے ہیں۔ میرے نزدیک وہ لوگ حقیقی معنوں میں قدامت پرست ہوتے ہیں جو اس عمل میں روکاوٹیں پیدا کریں اور ایران میں شاہ کی حکومت کے خاتمے کے بعد ابتک ایسا کوئی شخص پیدا نہیں ہوا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||