BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 18 June, 2005, 12:53 GMT 17:53 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ایرانی اپنی راہ کا تعین خود کریں گے

News image
انتخابات کا وقت پرانعقاد ایران میں جمہوریت کی کامیابی کی دلیل ہے
جمعہ کے روز ایران میں صدارتی انتخابات کے لیے پولنگ ہوئی۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق کسی بھی امیدوار کو فیصلہ کن اکثریت حاصل نہیں ہوئی، 24 جون کو انتخابات کا دوسرا دور ہوگا جس میں صرف سب سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے والے دو امیدوار حصہ لیں گے۔

اطلاعات کے مطابق 55 فیصد ووٹروں نے ووٹنگ میں حصہ لیا جبکہ عام خیال یہ تھا کہ لوگ ایران کے جمہوری نظام سے کچھ اتنے مایوس ہوچکے ہیں کہ اب وہ ووٹنگ میں حصہ لینے کے بجائے گھر بیٹھنا پسند کریں گے۔

لوگوں سے زیادہ اپنے صدر بش اور ان کی وزیرخارجہ محترمہ کونڈلیزارائس مایوس نظر آرہی تھیں۔ صدر بش نے تو یہ تک کہ دیا کہ ایران میں نام نہاد جمہوریت اور ان کی وزیرخارجہ محترمہ کونڈلیزا رائس نے یہ فرما دیا کہ ایران پیچھے کی طرف جا رہا ہے۔

ممکن ہے جناب بش اور ان کی وزیر خارجہ صحیح ہوں اور ایران میں جمہوریت کے نام پر ایک ناٹک رچایا جارہا ہو اور یہ کہ ایران کی جمہوریت آگے بڑھنے کے بجائے پیچھے کی طرف جا رہی ہو۔

جب سے ایران میں آئین نافذ ہوا ہے اور اس کے تحت انتخابات کرائے گئے ہیں ملک میں صدر اور مجلس یعنی پارلیمنٹ کے انتخابات بڑی باقاعدگی سے ہو رہے ہیں اور آج تک نہ وہ ٹالے گئے ہیں اور نہ کبھی ان کی راہ میں کوئی روڑا اٹکایا گیا ہے اور یہی اس بات کا ثبوت ہے کہ ایران میں جمہوریت کامیاب ہے۔ پھر اگر یہ اطلاع صحیح ہے کہ موجودہ انتخابات میں55 فیصد ووٹ ڈالے گئے ہیں تو یہ بھی کوئی اتنی مایوس کن تعداد نہیں ہے۔

اب رہا یہ مسئلہ کہ قدامت پرستوں کی گرفت بہت مضبوط ہے تو عرض یہ ہے کہ جس ملک میں ایک مطلق العنان بادشاہت 1979 تک قائم رہی ہو اور اس عرصے میں جب جمہوریت کے قیام کی کوشش کی گئی مغربی ملکوں بالخصوص امریکہ کی مدد سے اسے کچل دیاگیا ہو، وہاں صرف 26 سال میں برطانیہ اور امریکہ جیسی جمہوریت کا قائم ہونا اتنا آسان نہیں ہوگا۔ یہ تو ایک عمل ہے جو چلتا رہتا ہے اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس میں نکھار آتا رہتا ہے۔

اب آپ امریکہ کو ہی دیکھیں اس کو 1779 سے 1863 تک کی مدت لگی جب وہ کہیں جاکر ملک سے غلامی کو دور کرنے میں کامیاب ہوئے اور اس کے لیے بھی ابراہم لنکن کو اپنی جان سے ہاتھ دھونا پڑے اور ایک خانہ جنگی بھی بھگتنی پڑی۔
پھر مزید سو سال گزر جانے کے بعد بھی مارٹین لوتھر کنگ کوتما م شہریوں کے لیے، کالے ہوں یا گورے، بنیادی اور مساوی شہری حقوق کا نعریٰ بلند کرنا پڑا اور اس کے لئے انہیں بھی 1968 اپنی جان سے ہاتھ دھونا پڑا، اس سب کے باوجود اب بھی بعض لوگوں کو شکایت ہے کہ عملی طور پر کالوں اور ریڈ انڈین کو وہ مواقع حاصل نہیں جو سفید فام اکثریت کو حاصل ہیں واللہ عالم بالصواب۔

اسی طرح برطانوی پارلیمنٹ کی ابتدا یوں تو تیرہویں صدی عیسوی میں ہوئی لیکن یہ اپنی ابتدائی شکل میں محض بادشاہ کے درباریوں کا ایک ٹولا تھا جن سے بادشاہ ضرورت پڑنے پر مشورہ لیتا تھا لیکن کرتا وہی تھا جو اس کا دل چاہتا،پھر ایسا ہوا کہ مختلف انتظامی اضلاع کے نمائندے بھی بلائے جانے لگے اور1265 میں جو پارلیمنٹ منعقد ہوئی اس میں بلدیاتی نمائندے بھی بلائے گئے اور اسی پارلیمنٹ سے ہاؤز آف کامنز یا دارالعوام کی بنیاد پڑی۔

پھر کوئی تین سو سال کے بعد 1688 کا انقلاب آیا جس میں موجودہ جمہوریت کا اس کی ابتدائی شکل میں ظہور ہوا اور پارلیمنٹ کو تاج برطانیہ پر فوقیت حاصل ہوئی۔اس عرصے میں ملک خانہ جنگی کا شکار ہوا بادشاہ وقت سمیت بہت سوں کے سر کٹے اور اگر خواتین کو ووٹ کا حق بھی جمہوریت میں شامل ہے تو برطانیہ میں حقیقی جمہوریت 1928 میں قائم ہو پائی۔

اب آپ اندازہ کریں کہ جو سفر برطانوی اور امریکی جمہوریت نے کئی کئی سو سال کے بعد طے کیا ہے وہ اپنے بش صاحب اور ان کی وزیر خارجہ محترمہ کونڈلیزا رائس چاہتی ہیں کہ ایران پچیس سال میں ہی مکمل کر لے۔

مجھے یہ لگتا ہے کہ اپنے صدر بش ہر معاملے میں ذرا جلد بازی کا شکار ہو جاتے ہیں، عراق کا ہی معاملہ لے لیں، اب یہ انکشافات ہورہے ہیں کہ اصل میں فوج کشی کا مقصد صدام حسین کو حکومت سے ہٹانا تھا۔ اگر یہ صحیح ہے تو اس میں بھی جلد بازی دکھائی اور وسیع تباہی والے ہتھیار کے بہانہ بنا کر میدان میں کود پڑے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اپنے دیرینہ دوستوں سے بھی بگاڑ ہوا اور صدام عراق کی شکل میں انکے گلے پڑ گئے ، نہ اگلتے بنتی ہے نہ نگلتے۔ اور یوں لگتا ہے کہ جتنے شورش پسند مارے جارہے ہیں اتنے ہی زیادہ پیدا ہورہے ہیں۔

یہی حال افغانستان میں ہوا، وہ غالباً سمجھے تھے کہ ایک ہی جست میں ملا عمر اور اسامہ بن لادن سے بھی نمٹ لیں گے اور وسطی ایشیا پر بھی جھنڈے گاڑ دیں گے ، اب چار سال ہونے کو آئے نہ ملا عمر ہاتھ آئے نہ اسامہ اور اب آئے دن یہ خبریں آرہی ہیں کہ ملا عمر اور طالبان پھر سے اپنے آپ کو منظم کر رہے ہیں اور ان کے حملوں میں شدت آرہی ہے۔ادھر اسامہ کے بارے میں یوں لگتا ہے کہ انہوں نے اپنا اثر رسوخ اب اتنا بڑھا لیا ہے کہ مر بھی گئے تو ان کے نام پر ایک زمانے تک لوگوں کو دہشت زدہ کیا جاتا رہے گا۔

میں قطعی یہ نہیں چاہتا کہ ایران میں حقیقی جمہوریت قائم ہونے میں اتنے دن لگیں جتنے امریکہ ، برطانیہ یا کسی اور مغربی ملک میں لگے ہیں لیکن کچھ تو وقت دینا ہوگا چار صدی نہ صحیح ایک ہی صحیح۔ جلدی کا کام شیطان کا ہوتا ہے۔

صدر بش اور اپنی محترمہ کونڈلیزا رائس اگر واقعی ایرانی عوام کے دوست ہیں اور چاہتے ہیں کہ وہاں حقیقی جمہوریت قائم ہو تو انہیں صبر سے کام لینا چاہیے اور ایرانی عوام کو موقع دینا چاہیے کہ وہ اپنی راہ کا تعین خود کریں انہوں نے بڑی قربانیوں کے بعد ایک مطلق العنان بادشاہ سے نجات حاصل کی ہے وہ اگر ضروری سمجھیں گے تو’ قدامت پرست ملاؤں‘ سے بھی نجات حاصل کرلیں گے، اس کے لیے صدر بش یا کونڈالیزا رائس اگر پریشان نہ ہوں تو میرا خیال ہے ان کے لیے بھی بہتر ہوگا اور ایرانیوں کے لیے بھی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد