ہندوستان کو کس سے خطرہ ہے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان اور امریکہ کے درمیان حال ہی میں ایک دس سالہ دفاعی معاہدے پر واشنگٹن میں دستخط ہوئے۔ دستخط امریکی وزیر دفاع رمزفیلڈ اور ہندوستانی وزیر دفاع پرناب مکرجی نے کیے ہیں۔ یہ اب تک واضح نہیں ہے کہ اس معاہدے کے تحت دونوں ممالک ایک دوسرے کے دفاع میں ایک دوسرے کی مدد کیسے کریں گے۔ بعض ماہرین کا خیال ہے کہ ہندوستانی وزیراعظم من موہن سنگھ تین روزہ دورے پرامریکہ جانے والے ہیں جو غالباً 18 جولائی سے شروع ہورہا ہے، اس میں اس معاہدے کی تفصیلات طے ہونگی۔ کچھ کا کہنا ہے کہ اس معاہدے میں کوئی ایسی بات نہیں ہے جس کی پیشکش امریکہ کی جانب سے پہلے نہ کی گئی ہو۔ اس طرح کی بھی اطلاعات ہیں کہ امریکہ میزائیل بنانے اور اس میں مزید تنوع اور جدت پیدا کرنے میں ہندوستان کے ساتھ تعاون کرے گا اور اس سلسلے میں ٹیکنالوجی بھی منتقل کرنے پر آمادہ ہے۔ ادھر پاکستان کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے اس معاہدے کے سلسلے میں اپنی حکومت کے خدشات ظاہر کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اس سے علاقے میں عدم توازن پیدا ہوگا، اسلحہ کی دوڑ شروع ہو جائےگی اور یہ کہ پاکستان صورتحال سے غافل نہیں رہ سکتا، وہ اپنی دفاعی صلاحیتوں کو برقرار رکھنے اور اس معاہدے سے جو ممکنہ عدم توازن پیدا ہوگا اسے دور کرنے کے لیے مناسب اقدامات کرے گا۔ ادھر پاکستان میں بعض حلقوں کی جانب سے اس معاہدے پر سخت ردعمل سامنے آیا ہے اور کچھ نے تو یہ تجویز بھی پیش کردی ہے کہ پاکستان کو جوابی کارروائی کے طور پر چین سے کچھ اسی نوعیت کا معاہدہ کر لینا چاہیے۔ ویسے میں چونکہ دفاعی اور جنگی معاملات سے بالکل نابلد ہوں اس لیے اس دفاعی معاہدے یا اس نوعیت کے دوسرے دفاعی معاہدوں کے بارے میں کوئی تبصرہ تو نہیں کرسکتا لیکن یہ خیال ضرور آتا ہے کہ آخر ہندوستان کو کس سے خطرہ ہے کہ روس سے پہلے ہی اس کے دیرینہ دفاعی تعلقات ہیں اوراب امریکہ سے بھی ایک معاہدے کی ضرورت پڑ گئی ۔ یہ طے ہے کہ اس کے قریبی ہمسائے بنگلہ دیش، نیپال، پاکستان، سری لنکا اور مالدیپ میں سے کوئی ایسا نہیں ہے جو اس پر قبضہ کرنے کا ارادہ رکھتا ہو اور اگر رکھتا بھی ہو( اس لیے کہ ہوس ملک گیری بھی ایک عارضہ ہے جو کسی کو بھی اور کسی بھی وقت لاحق ہوسکتا ہے) تو کس میں اتنا دم ہے کہ وہ اپنے اس ارادے کو تکمیل تک پہنچانے کی سعی کرے، صرف پاکستان نے ایک دوبار مقابلے کی ہمت کی ہے وہ بھی دس پندرہ دن کے بعد اقوام متحدہ کا منہ دیکھنے لگتا تھا کہ کب فائر بندی کا اشارہ ہوتا ہے۔ اس کے باوجود اگر ہندوستان ان ملکوں سے خطرہ محسوس کرتا ہے تو اسے ان ملکوں سے اپنے ہمسایوں سے دفاعی معاہدہ کرنا چاہیں نہ کہ امریکہ سے۔ دوسرا خطرہ چین سے ہوسکتا تھا تو وہ بھی ٹل گیا ہے، اس لیے کہ دونوں ملکوں کے تعلقات 1962 کی سرحدی لڑائی کے بعد بہتر ہی ہوتے چلے آرہے ہیں اور اب تو وہ اپنے سرحد ی تنازعے کو بھی پس پشت ڈال کر تجارت اور دوسرے شعبے میں تعاون بڑھا رہے ہیں، نہ صرف یہ بلکہ چین اپنے انتہائی قریبی اور قابل اعتماد دوست پاکستان کو ہندوستان سے اپنے تعلقات مذاکرات کے ذریعے طے کرنے کا مشورہ دیتا رہتا ہے۔ ایسی صورت میں ہندوستان کو اس دفاعی معاہدے کی ضرورت کیوں پیش آئی، اس سوال کا جواب لاکھ کوشش کے بعد بھی نہیں ملتا۔ کچھ لوگ یہ بھی سوال کرتے ہیں کہ امریکہ کو اس معاہدے کی کیا ضرورت تھی تو عرض ہے کہ امریکہ تو بیکار مباش کچھ کیا کر کے مصداق معاہدے کرتا رہتا ہے، دفاعی بھی اور اقتصادی بھی اور دونوں کا مقصد اپنا مال بیچنا ہوتا ہے۔ وہ ظاہر ہے کہ ہندوستان سے دفاعی معاہدہ کے تحت اس کے یہاں کی بنی ہوئی توپیں، میزائیل یا طیارے تو خریدنے سے رہا اس کے ہاتھ بیچےگا ہی۔ پھر وہ سرد جنگ کے خاتمے کے باوجود ساڑھے چار کھرب ڈالر اپنی دفاع پر خرچ کرتا ہے تو اس کو پورا کرنے کےلیے بھی اسے ان معاہدوں کی ضرورت پڑتی رہتی ہے۔ اچھا یہ بھی بڑے کمال کی بات ہے کہ اس کا بیشتر اسلحہ دنیا کے امیر ملک مثلاً جرمنی، جاپان، فرانس، برطانیہ، کینڈا، آسٹریلیا یا اٹلی نہیں خریدتے، ان میں سے بعض کے دفاع کی ذمہ داری تو اس نے خود اٹھا رکھی ہے، دوسرے اپنے دفاع کی صلاحیت آپ رکھتے ہیں۔ اس کا اسحہ خریدنے والے وہی ترقی پذیر اور پس ماندہ ممالک ہیں جن کے عوام نان جویں کو ترستے رہتے ہیں اور ان کے حکمران صرف اپنے دفاع کو مضبوط بنانے میں سرکرداں رہتے ہیں، بالکل ایک جواری اور شرابی باپ کی طرح جو اپنی دن بھر کی کمائی رات کو جوئے شراب اور رنڈی بازی میں اڑا دیتا ہے اور گھر پر بچے بھوک سے بلکتے رہتے ہیں۔ میں نہیں جانتا کہ اس دفاعی معاہدے سے ہندوستان کو کیا فائدہ پہنچے گا اور پاکستان کو کس طرح کے نقصان کا احتمال ہے، اس طرح کے مسائل کا جائزہ لینے کےلیے دونوں ملکوں میں بڑے بڑے جغادری موجود ہیں ، مجھے صرف یہ خدشہ ہے کہ اس سے دونوں ملکوں میں قیام امن کی جو کوششیں جاری ہیں ان کو کوئی نقصان نہیں پہنچے۔اس لیے کہ دونوں طرف ایسے’طالع آزما‘ انتظار میں بیٹھے ہیں کہ انہیں بتنگڑ بنانے کے لیے کوئی بات ملے۔ اس کی دونوں ملکوں کے تعلقات کی تاریخ میں ہمیں بہتیری مثالیں مل جائیں گی جہاں بات بنتے بنتے ایک ذرا سی غلط فہمی کے نتیجے میں بگڑ گئی اس کا اب اعادہ نہیں ہونا چاہیے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||