ہم اب بھی وحشی ہیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہر آدمی اپنی زندگی کا ایک سال مکمل ہونے پر چند لمحوں کے لیے یہ ضرور سوچتا ہے کہ اس کا یہ سال کیسا گزرا اور وہ آئندہ سال کیسے گزارے گا۔ کچھ لوگ گزرے ہوئے سال کا جائزہ لیتے ہیں ، اور اس عرصے میں ان سے جوایسی غلطیاں سرزد ہوئی ہیں جن کی بناء پر ان کے بعض منصوبے مکمل نہیں ہوسکے انہیں آئندہ سال نہ دہرانے کا عزم کرتے ہیں، کچھ آئندہ سال کے لیے نئے پروگرام بناتے ہیں اور ایک نئےجوش اورولولے کے ساتھ پھر زندگی شروع کردیتے ہیں۔ بہت کم لوگوں کواپنے آپ سے کیے ہوئے یہ وعدے ایک دو روز یا ایک دو ہفتے سے زیادہ یاد رہتے ہیں ، چند دنوں کے اندر اندر پھر زندگی اپنی سابقہ ڈگر پر آجاتی ہے۔ میں نے بھی آج اپنی زندگی کے 65 سال مکمل کرلیے اور کل سے میری عمر کا گھوڑا بقول شخصے زندگی کے 66ویں میدان میں اسی طرح سرپٹ بھاگنے لگے گا جیسے زندگی کے 65 ویں میدان میں بھاگ رہا تھا اور آج جب میں بیٹھا یہ سوچ رہا ہوں کہ پانچ کم ستر سال کی یہ عمر میں نے کیسے گزاری یا کیسے گزری تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ یہ بڑی حد تک بے صرفہ ہی گزری بلکہ میرے نزدیک یہ ایک ایسی کہانی ہے جس کا ہر باب خوف وہراس اور امید وبیم کے ایک ملے جلے احساس سے شروع ہوتا ہے اور اسی پر ختم ہوجاتا ہے۔ میں نے جب آنکھ کھولی تو دوسری جنگ عظیم اپنے اختتامی مراحل سے گزر رہی تھی اور میرے چچا فوج میں تھے اور اگر چہ وہ کبھی کسی محاذ پر نہیں بھیجے گئے لیکن میرا پورا خاندان انکے بارے میں پریشان رہتا اور جنگ کے خاتمے کے لیے بڑے پیر صاحب سے مدار صاحب تک، سب سے منتیں مانی جاتیں اور ہم سب بچوں کو بھی اللہ میاں سے دعا مانگنے کی ہر دم تلقین کی جاتی، ان کا خیال تھا کہ بچوں کی دعائیں جلدی قبول ہوتی ہیں۔ خدا خدا کرکے جنگ ختم ہوئی تو ہندوستان کی تقسیم کا سلسلہ شروع ہوگیا اور شمالی ہندوستان کے مختلف علاقوں میں ہندو مسلم فسادات پھوٹ پڑے، وہ درندگی اور حیوانیت جس کا مظاہرہ جنگ زدہ ملکوں میں ہوا تھا وہ ہمارے شہروں اور دیہاتوں میں بھی ناچنے لگیں۔ پھر وہی حوف اور ہراس کا ماحول ، پھر ہم بچوں کے معصوم ہاتھ اللہ کے حضور میں اٹھوائے جانے لگے لیکن اب وہ شاید اتنے معصوم نہیں رہے تھے، اللہ میاں نے ایک نہیں سنی اور فسادات بھی جاری رہے اور ہندوستان بھی تقسیم ہوگیا۔ میری اماں اپنےاس عزم پر بڑی ثابت قدمی سے قائم تھیں کہ جس گھر میں ان کی ڈولی اتری تھی وہاں سے اب انکا جنازہ ہی اٹھے گا ، لیکن مشیت ایزدی یہ نہیں تھی پورا خاندان پاکستان آگیا اور میرے والد نے مستقل سکونت کے لیے مشرقی پاکستان کا انتخاب کیا۔ بہت زیادہ دن نہیں گزرے کہ وہاں بنگلہ زبان کو قومی زبان بنانے کی تحریک شروع ہوگئی اور دیکھتے دیکھتے تمام بنگالی اردو داں حضرات کی نظر میں میر جعفر کی اولاد قرار پائےاور بنگالیوں کی نظر میں تمام اردوداں مغربی پاکستان کے ایجنٹ۔ پھر مشرقی پاکستان کی علیحدگی کی جدوجہد شروع ہوگئی، بنگالی اور بہاری فسادات شروع ہوگئے۔ فوجی کارروائی شروع ہوگئی۔ فوج نے اپنا حق مانگنے والے ہر بنگالی کو ملک دشمن اور غدار قراردیدیا اور پھر ان کے ساتھ وہی کیا جوہر فوج ایسےلوگوں کے ساتھ کرتی ہے۔ بہاری محب وطن قرار پائے اور انہوں نے بنگالیوں کے ساتھ اور بنگالیوں نے ان کے ساتھ وہی کیا جو عموماً ایسی صورت میں کیا جاتا ہے۔ میرے ایک ہم پیشہ بنگالی دوست نے مجھ سے اپنے خاندان کا پتہ لگانے کی درخواست کی جو فوجی کارروائی کے بعد اپنا گھر بار چھوڑ کر بھاگ گیا تھا اور جب میں اس کو یہ خوشخبری سنانے گیا کہ اس کے خاندان والے محفوظ ہیں تواس وقت تک وہ مارا جاچکا تھا۔ ایسی صورت میں مشرقی پاکستان بنگلہ دیش ہی بن سکتا تھا سو بن گیا۔ ہم لوگ نئے ارادوں اور امنگوں کے ساتھ مغربی بنگال آگئے جو اب پاکستان بن چکا تھا۔ لیکن جلد ہی یہاں پھر وہی کچھ شروع ہوگیا جو 1947 سے بھگتتے آئے تھے۔ مہاجر، سندھی، پٹھان، پنجابی، بلوچی سب محرومیوں کا شکار اور سب ایک دوسرے سے شاکی۔ چنانچہ جب میرے کچھ دوستوں نے بی بی سی کی ملازمت تجویز کی تو مجھے بڑا سکون ملا کہ اب ان تمام سیاسی اور سماجی پابندیوں سے نجات مل جائیگی جو ایک زمانے سے ہماری قسمت بنی ہوئی ہیں لیکن ایے روشنئی طبع تو برمن بلا شدی ، یہاں بیٹھ کر یوں محسوس ہونے لگا کہ دنیا میں اور بہت سے لوگ ہیں جو ہم سے بھی بد تر حالات سے دو چار ہیں۔ ہم تو کم از کم اپنے ملک میں تمام پابندیوں کے باوجود بے روزگاری کا عذاب سہنے اور جیل جانے کےلیے آزاد تھے بعض ملکوں میں تو حبس کا یہ عالم ہے کہ لوگ لو کی دعا مانگتے دکھائی دیئے۔ وہ جو ایک امید تھی کہ ’درد آئے گا دبے پاؤں لیے سرخ چراغ‘ وہ بھی سوویت یونین کے بکھرنے سے ماند پڑگئی، پھر خیال ہوا کہ اب ایک سانڈ مرگیا ہے تو دو سانڈوں کی لڑائی میں مینڈکوں کے کچلے جانے کا سلسلہ بند ہو جائے گا، لیکن جلد ہی یہ محسوس ہونے لگا امن اور شانتی انسانی فطرت کو شاید زیب نہیں دیتیں۔ ہندوستان کی تقسیم کے موقع پر اردو کے ممتاز افسانہ نگار کرشن چندر نے ’ ہم وحشی ہیں‘ کے عنوان سے ایک افسانہ لکھا تھا۔ اس کا موضوع اس وقت کے ہندو مسلم فسادات تھے لیکن اس کا اطلاق آج کے حالات پر بھی ہوتا ہے اور صرف ہندوستان پاکستان پر ہی نہیں بلکہ فلسطین، افغانستان،عراق، چچنیا، بوسنیا، روانڈا، کانگو، انگولا سب پر ہوتا ہے اور لندن کے حالیہ دھماکوں نے بھی یہ ثابت کردیا ہے کہ انسانی تہذیب نے اپنے ارتقا کی جتنی بھی منزلیں کیوں نہ طے کرلی ہوں وہ اس کو اپنے وحشی پن سے نجات دلانے میں ناکام رہی ہے ۔ آج زندگی کے 65 سال گزارنے کے بعد مجھے بڑی شدت سے یہ احساس ہورہا ہے کہ انسان خواب تو دیکھ سکتا ہے ان کی تعبیر نہیں کرسکتا، اس لیے میرا ہر شخص اور نوجوان کو مشورہ ہے کہ خواب دیکھنے سے بہتر ہے کہ اپنی زندگی کی کشتی کو چپکے سے وقت کے سمندر میں ڈال دو اور آنکھیں موند لواور بس! وہ تمہیں خود تمہارے انجام کو پہنچا دیگی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||