 |  بم دھماکوں میں سات سو افراد زخمی ہوئے جن میں کئی کی حالت نازک بتائی جاتی ہے |
لندن شہر بھی دہشت گردی کی لپیٹ میں آگیا۔ حالیہ بم دھماکوں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد تادم تحریر 49 اور بعض اطلاعات کے مطابق پچاس ہوچکی تھی، مزید لاشوں کی تلاش جاری تھی۔ زخمی سات سو تھے جن میں سے بیس کی حالت نازک تھی۔ تفتیشی حکام جہاں جہاں دھماکے ہوئے ہیں وہاں سے شہادتیں جمع کر رہے تھے تاکہ مجرموں کا سراغ لگایا جاسکے۔ پولیس اور دوسرے حفاظتی ادارے مجرموں کو پکڑنے کی ایک بڑی کارروائی میں مصروف تھے۔ اخبارات میں جائے واردات کی تصویریں اور آنکھوں دیکھا حال اور تجزیے شائع ہورہے تھے اور ٹیلی ویژن اور ریڈیو سے ماہرین کے تاثرات اور ایسے لوگوں کی کہانیاں نشر کی جارہی تھیں جو اپنی ایک ذرا سی لغزش، ذہانت یا کسی انہونی کے ہونے سے ان دھماکوں کا شکار ہونے سے بال بال بچ گئے۔ کچھ لوگ اپنے لاپتہ عزیز و اقارب کی تصویریں لئے ہسپتالوں میں گھوم رہے تھے کہ شائد کہیں زندہ یا مردہ مل جائیں۔مجھے ایسے لوگوں کے احساسات کا اندازہ ہے کہ وہ امید اور مایوسی کی کیفیت میں اسوقت تک کیسے جیتے اور مرتے رہتے ہیں جبتک انکے عزیزوں اور دوستوں کے انجام کے بارے میں انہیں قابل یقین شہادت نہ مل جائے۔  |  آلگیٹ ایسٹ کے قریب ہونے والے بم دھماکے میں سات افراد ہلاک ہوئے | میں خود بھی بہت دنوں تک اپنے عزیزوں اور رشتہ داروں کی تصویریں لیے ہسپتالوں اور کیمپوں کے چکر کاٹتا رہا ہوں اوراگرچہ وقت نے اب ان تصویروں کو اپنی گرد میں چھپالیا ہے لیکن اب بھی کبھی کبھی اگر کسی بس یا ٹرین میں کھڑکی کی جانب بیٹھنے کی جگہ مل جاتی ہے تو یہ تصویریں اپنی گرد جھاڑ کر سامنے کھڑی ہوجاتی ہیں۔کسی مرض یا کسی حادثے کے نتیجے میں موت ایک قدرتی امر ہوتی ہے اور ہر انسان ذہنی طور پر اس کے لئے تیار بھی رہتا ہے لیکن کسی جنگ یا واردات کے نتیجے میں موت چاہے وہ کتنی ہی جائز کیوں نہ ہو زندگی بھر کا روگ بن جاتی ہے۔ عام خیال ہے کہ یہ واردات القاعدہ کی ہے لیکن حکام کو ابھی تک اس سلسلے میں کوئی ٹھوس شہادت نہیں ملی ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ اس کی ذمہ دار کوئی بھی تنظیم یا شخص ہو وہ انسانیت کا مجرم ہے اور اس کی مذمت کے لئے اس کی شناخت کا انتظار نہیں کرنا چاہیے۔ بعض اخبارات میں اسطرح کے مضامین بھی شائع ہوئے ہیں کہ یہ واردات برطانیہ کی موجودہ حکومت کی جانب سے امریکی اور اسرائیلی پالیسیوں کی حمایت کا نتیجہ ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس طرح کے حملوں کا کوئی بھی جواز ہو اسے جائز نہیں قرار دیا جاسکتا۔  |  کچھ لوگ اپنے لاپتہ عزیز و اقارب کی تصویریں لئے ہسپتالوں میں گھوم رہے تھے | آپ غور تو کریں اس واردات میں مارے جانے والے یا زخمی ہونے والے کون لوگ ہیں، وہ محنت کش جو صبح صبح اپنی روزی روٹی کے چکر میں گھر سے نکلے تھے، وہ مائیں جو اپنے بچوں کو اسکول بھیج کر یا کسی کے حوالے کرکے اپنے کام پر جارہی تھیں اور جن کے بچے اب بھی ان کی واپسی کے منتظر ہوں گے۔اس حملے میں، لندن کے میئر کین لونگسٹن کے بقول، کوئی صدر نہیں ہلاک ہوا، کسی وزیر اعظم کو نہیں مارا گیا، ان لوگوں پر ضرب لگائی گئی ہے جو نہ تین میں تھے نہ تیرہ میں۔ اور میں تو یہ کہوں گا ان وارداتوں میں مارے یا زخمی ہونے والے ایسے لوگ بھی تو ہوسکتے ہیں جو عراق اور افغانستان میں امریکہ اور برطانیہ اور ان کےاتحادیوں کی فوجی کارروائی کے مخالف رہے ہوں، جنہوں نے عراق پر حملے کے خلاف احتجاجی مظاہروں میں حصہ لیا ہو، جنہوں نے ان حملوں کے سلسلے میں اپنی حکومتوں کو تنقید کا نشانہ بنایا ہو۔ مجھے اندازہ ہے کہ اس دنیا میں امن، جمہوریت اور انسانی حقوق جیسی اعلیٰ اقدار کے نام پر بڑے بڑے مظالم ہوئے ہیں۔ ان کی مثالیں ہمیں دونوں جنگ عظیم کے دوران، فلسطین ، ویتنام ، کوریا افریقہ اور لاطینی امریکہ کے ملکوں میں مل جائیں گی۔ پھر کمال یہ ہے کہ ان جنگوں میں کرروڑوں فوجی اور غیر فوجی مارے گئے یا معزور ہوئے لیکن شائد ہی چند ایک کی خدمات کا اعتراف کیا گیا باقی کے نام پر اینٹے پتھر اور گارے چونے کی بنی ہوئی کچھ یادگاریں کھڑی کردی گئیں اور بس، باقی سارا کریڈٹ رہبران قوم و وطن لے گئے یا کسی جنرل کے سینے پر بہادری کے تمغے یا بلے لگا دیے گئے۔ مجھے ایسےتمام لوگوں سے ہمیشہ ہمدردی رہی ہے بلکہ میں انہیں قابل ستائش سمجھتا ہوں جو اپنی آزادی یا اپنے حقوق کے لئے جد وجہد کرتے ہیں یا لڑتے ہیں اور ایسے لوگوں سے شدید نفرت محسوس کرتا ہوں جو ان کی آزادی سلب کئے بیٹھے ہیں لیکن ایسی لڑائی یا جد وجہد میں اگر اس طرح کے حملوں کو روا رکھا جاتا ہے جیسے کہ لندن میں ہوا یا اس سے پہلے نیویارک اور اسپین میں ہوچکے ہیں تو حملہ کرنے والے نہ صرف بیگناہ لوگوں کو ان کے ناکردہ گناہوں کی سزا دیتے ہیں بلکہ مذہب کے نام پر یا وطن پرستی کے نام پر چنگیزی کو روا رکھتے ہیں، پھر یہ آزادی یا حقوق کی جنگ نہیں رہتی بلکہ کھلی اور ننگی بربریت میں بدل جاتی ہے۔ |