BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 12 November, 2005, 00:11 GMT 05:11 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
دھرتی ماں کو بھوک لگی تھی


نہ اس دن کوئی عدالت لگی
نہ ستارے ٹوٹے
’نا تے کوئی اساں نعرہ ماریا
نا تے کوئی جلوس کڈھیا،‘
مگر پھر بھی
یہ اس دھرتی کے کورے اور رنگین کاغذ پر کیوں لکھا گیا
’ان ہزاروں لوگوں،
بچوں، عورتوں اور مردوں کو بے وجہ اور بے گناہ سزائے موت دی جاتی ھے‘

’ابھی تو گود کی گرمی بھی کم نہیں ہوئی،‘ کہنے والے سید ناصرجہاں بھی تو اس بکری کی چھینک سے بھی کم پائندہ دنیا اور پنڈی سے کب کے جا چکے

ابھی تو گورنمنٹ ہائی اسکول گڑھی حبیب اللہ کے بچوں نے
’لب پہ آتی ھے دعا بن کر تمنا میری ۔۔۔‘ ختم ہی کیا ھوگا کہ
دھرتی پر بھونچال اک پیدا ہوتا ھے

کاش یہ کشمیری نسل کا بابا دینا ٹوپی والا پھر کسی ایسے علامہ اقبال کو جنم دے جو صرف بس ایک ہی ’شکوہ‘ لکھ سکے
نو جواب شکوہ، مین !
’رہنے کو گھر نہیں ھے سارا جہان ہمارا،‘ جس نے بھی کہا خوب کہا

خدا سچا، رسول سچا مگر ہمیں ڈرانے والے کی تو۔۔۔
یہ نیلی ندی میں چاند کے عکس جیسے اجلے من والے لوگوں کو مولوی کہتا ھے : ’تم پر یہ سب خدا کا ع‍ذاب ہے‘

یہ جو خود عذاب ہے تمام خدائی کیلے
یہ کذاب خدائی ! یہ حضرت یہ مولانا!

اب تو کتاب عشق کے بھی تمام اگلے پچھلے ورقے بند ہوچکے
امرتا پریتم جومر گئی
سارتر! تم کب کے سوچکے دیکھو تمھارا پیرس بھی جل رہا ہے
وہ ’سیمن دی بوا‘، سوری، ’سمین ڈی بوا‘ کا پنجابی ایڈیشن تھی
لیکن تم امروز نہیں تھے
دیکھو بات مولوی سے نکلی تھی سارتر اور کہان کہان تک جا پہونچی
اے مولوی! اے سارتر! دنیا جل رہی ہے، مر رہی ہے
یہ کوئی ہور نہیں ہے
یہ میں ہی گور پڑا ہوں

وہ چترالی چرس جیسا لڑکا بھی بالاکوٹ کی پتھریلی خاک تلے پنہاں ہوا جسے یاد کرکے میرا دل تارک وطن بستی کی طرح جل اٹھتا
’یا ایہا ایناس العبدو! میں تجھے کہاں کہاں روؤں!

سیاسی قیدی کہتے تھے ’ھمارے حوصلے ہمالیہ سے بھی بلند ہیں‘
ہمالیہ حوصلے جب ہارتا ہے
میرے بچوں کو کیوں یوں مارتا ہے!

دھرتی ماں نے اپنے بچوں کو نگل ڈالا
’کیا دھرتی ماں کو بھوک لگی تھی!‘ سننے والے بچوں نے پوچھا
دھرتی بھوکی ، بچے بھوکے ، ہم سب بھوکے تھے
پیٹ ہمارے کاٹے گئے تھے
ایف سولہ جو لینا تھے

اب وہ ہم سے ہیلی کاپٹر ہیلی کاپٹر ہیلی کاپٹرکھیلتے ہیں
وہ ہیلی کاپٹر کھا تے ہیں، ہیلی کاپٹر پہنتے ہیں، ہیلی کاپٹر پیتے ہیں، ہیلی کاپٹر سے سوتے ہیں ، ہیلی کاپٹر جنتے ہیں
ہم انکو بس تکتے تکتے مرجائیں گے
جاڑے برفيں ہم پر آکر اپنے خیمے گاڑیں گی ہم کو اور اجاڑیں گی

وہ کتنا اچھا بولتے ہیں اور دیکھو تو ہنستے جاتے ہیں جیسے پکنک پر آئے ہوں جشن مرگ انبوہ کے مارچ پاسٹ کی سلامی لے رہے ہوں
یہ سرجی ، یہ صاحب، یہ تیرے میرے اور '’کرگل‘ کے فاتح
ہم ان سے صرف ایک دفعہ، ایک منٹ، ایک عمر اپنے پیاروں اور یاروں سے ایک جھپی، ایک آنسو ، ایک گالی، ایک فاتحہ ایک ہاتھ سر پر لینے کو کہتے ہیں جو ہم اس پار چھوڑ آئے تھے یا وہ ہم کو چھوڑ گئے تھے
لیکن یہ ہم پر آنسو گیس کے گولے پھینکتے ہیں
ہمیں چوروں اور ڈھوروں کی طرح گولی اور لاٹھی سے ہانکتے ہیں
پار جانے سے پرے رکھتے ہیں
اب کہتے ہیں وہاں بارودی سرنگیں بچھی ہیں
’کس نے بچھائی تھی یہ سرنگیں؟‘ شش ۔۔۔۔!
شہیدوں سے مذاق نہیں کرتے

یہ ایل او سی کیا دیوار برلن سے بھی زیادہ ظالم اور کچی ہے
ارے او نیلی چھتری والے بس تیری ہستی سچـی ہے

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد