BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 13 November, 2005, 15:10 GMT 20:10 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
آپریشن ریلیف یا آپریشن کنفیوژن؟

امداد
امدادی ڈھانچے کا انتظام و انصرام فوج کے ہاتھ میں ہے
کچھ سوالات کے جوابات کا مطالبہ کرنا شاید قبل از وقت ہوگا کیونکہ فی الوقت پاکستان زلزلے کے سبب غیرمعمولی حالات سے گزر رہا ہے لیکن آئندہ اس طرح کی ایمرجنسی سے نمٹنے کے لیے جو بھی حکمتِ عملی بنےگی اسے موثر بنانے کے لیے جو کچھ اب ہو رہا ہے اور جس طرح سے ہو رہا ہے اگر اس کا تجزیہ نہ ہوا اور اس کے نتائج کو نظرانداز کیا گیا تو پھر سب کچھ ویسا ہی ہوجائےگا جیسا کہ سات اکتوبر کو تھا۔

مثلاً ایسا کیوں ہوا کہ صدرِ پاکستان کے سامنے زلزلہ آنے کے گیارہ گھنٹے بعد یہ تصویر آئی کہ تباہی صرف اسلام آباد کے مارگلہ ٹاورز کی نہیں ہوئی بلکہ اٹھائیس ہزار مربع میل کے علاقے میں لاکھوں لوگ متاثر ہوئے ہیں۔

ہوسکتا ہے گیارہ گھنٹے میرے آپ کے لیے کچھ بھی نہ ہوں لیکن ملبے میں دبے ہوئے ہزاروں افراد کے لیے زندگی سے موت تک کا فاصلہ تھے۔

 تازہ دم فوجی دستوں کی فارورڈ پوزیشنوں پر ڈیپلائمنٹ کا جو ہنگامی طریقہ کار اختیار کیا گیا ویسا ہی طریقہ ملبے میں دبے ہوئے افراد تک پہنچنے کے لیے بھی تو اپنایا جا سکتا تھا۔

اس ابتدائی تاخیر کے بعد جب فوج کو زلزلہ زدہ علاقوں کی طرف روانگی کا حکم ملا تو متاثرہ علاقے سے نزدیک تر منگلا اور پنڈی کور کے بجائے کوئی دوسو کیلومیٹر کے فاصلے پر گوجرانوالہ میں متعین ڈویژن کو حرکت میں آنے کا حکم ہوا جبکہ یہ بات صدر مشرف بھی تسلیم کرچکے ہیں کہ اتنے فاصلے سے اتنی فوج کو ’مووو‘ کرنے کے لیے تین سے چارروز درکارہوتے ہیں۔

لیکن لائن آف کنٹرول پر زلزلے سے ہونے والے جانی نقصان سے جو خلا پیدا ہوا اسے پر کرنے کے لیے تازہ دم فوجی دستوں کی فارورڈ پوزیشنوں پر ڈیپلائمنٹ کا جو ہنگامی طریقہ کار اختیار کیا گیا ویسا ہی طریقہ ملبے میں دبے ہوئے افراد تک پہنچنے کے لیے بھی تو اپنایا جا سکتا تھا۔

چنانچہ جب فوج کے اولین امدادی دستے اڑتالیس سے بہتر گھنٹے کی تاخیر کے بعد متاثرہ علاقے میں پہنچنے شروع ہوئے تو ان کا سامنا ان مقامی لوگوں اور مذہبی تنظیموں کے رضاکاروں سے ہوا جو زلزلے کے چوبیس گھنٹے کے اندر اندر ان علاقوں میں امدادی کاروائی شروع کر چکے تھے۔

 حکومت کہہ رہی ہے کہ سب قابو میں ہے اور انشااللہ سرد موسم شدید ہونے سے پہلے سب متاثرین کو بنیادی ضرورت کا سامان مل جائے گا جبکہ اقوامِ متحدہ چیخ رہی ہے کہ ناکافی امداد، خراب موسم اور نقل و حمل کی دشواریوں کے سبب ایک اور قیامت سر پر کھڑی ہے۔

ارتھ کوئک ری کنسٹرکشن اینڈ ری ہیبیلیٹیشن اتھارٹی کا قیام زلزلے کے دس روز بعد ایک لیفٹیننٹ جنرل کی قیادت میں عمل میں آیا۔ یہ اتھارٹی صدر کوجوابدہ ہے اور اسے وسیع مالی اور انتظامی اختیارت دیے گئے ہیں مگر اتھارٹی کے اقدامات عدالت میں چیلنج نہیں ہو سکتے۔

فیڈرل ریلیف کمیشن ایک میجر جنرل کی سربراہی میں کام کر رہا ہے جبکہ پہلے سے قائم کرائسس مینجمنٹ کے سربراہ بھی ایک بریگیڈئر ہیں۔

زلزلہ زدہ علاقوں کی تعمیرِ نو کے لیے نیشنل والنٹیئر موومنٹ کو کھڑا کرنے کی ذمہ داری بھی کور کمانڈرز کے کاندھوں پر ہے اور متاثرین میں معاوضوں کی تقسیم کا کام بھی فوج کے ہاتھ میں ہے یوں زلزلہ زدہ علاقوں کی پوری انتظامیہ بھی ریلیف کے مقامی انچارج فوجی افسروں کے ماتحت آ گئی ہے۔

اس سب کے باوجود اس وقت ریلیف کے کاموں میں مصروف سرکردہ فلاحی، سیاسی اور مذہبی تنظیموں اور فوج کے ریلیف ڈھانچے میں کوئی موثر رابطہ نہیں ہے۔ موجودہ حکومت کی بنائی ہوئی پارلیمنٹ اور نچلی سطح تک رابطے کے لیے تشکیل کردہ بلدیاتی ڈھانچہ بھی امدادی نیٹ ورک سے عملاً باہر ہے۔

اب تک جانی و مالی نقصانات بھی اندازوں کی حدود سے باہر نہیں نکل پائے ۔ایک دن بتایا گیا کہ ستاون ہزار لوگ مرے ہیں اور چوبیس گھنٹے بعد اسی سرکاری چینل سے کہا گیا کہ اناسی ہزار لوگ مرے ہیں۔

حکومت کہہ رہی ہے کہ سب قابو میں ہے اور انشااللہ سرد موسم شدید ہونے سے پہلے سب متاثرین کو بنیادی ضرورت کا سامان مل جائے گا جبکہ اقوامِ متحدہ چیخ رہی ہے کہ ناکافی امداد، خراب موسم اور نقل و حمل کی دشواریوں کے سبب ایک اور قیامت سر پر کھڑی ہے۔

حکومت کہتی ہے کہ عالمی برادری بے حسی کا مظاہرہ کررہی ہے جبکہ پاکستان کو بحالی کے لیے کم ازکم پانچ ارب ڈالر درکار ہیں۔لیکن ساتھ ہی ساتھ سرکاری ترجمان یہ وضاحت کرنا بھی نہیں بھول رہے کہ پانچ ارب ڈالر مالیت کے ایف سولہ طیارے خریدنے کا سودا منسوخ نہیں بلکہ ملتوی کیا گیا ہے۔

یہ آپریشن ریلیف ہے یا آپریشن کنفیوژن؟

اسی بارے میں
’بات ترجیحات کی ہے‘
06 November, 2005 | قلم اور کالم
اگر اب بھی !
23 October, 2005 | قلم اور کالم
رمسا سنگھ کو کیا تکلیف ہے؟
17 October, 2005 | قلم اور کالم
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد