’بات ترجیحات کی ہے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انیس سو اڑتالیس کی جنگِ کشمیر سے لے کر انیس سو ننانوے کے معرکۂ گارگل تک پاکستان کے جتنے فوجی یا سویلین زمینی، فضائی یا بحری حملوں میں ہلاک ہوئے ہیں ان سب کی مجموعی تعداد آٹھ اکتوبر کے زلزلے میں مرنے والوں کے مقابلے میں نصف سے بھی کم ہے۔ اس پورے عرصے میں سیلاب اور زلزلوں سے کم ازکم پانچ لاکھ افراد ہلاک اور دو کروڑ سے زائد بےگھر ہوئے۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ قدرتی آفات اچانک آتی ہیں اس لیے ان کا مقابلہ بہت مشکل ہے لیکن حقائق بتاتے ہیں کہ قدرت نے پاکستان کو ایسی آفات کے مقابلے کے لیے خاصی مہلت دی لیکن کوئی فائدہ نہیں اٹھایا گیا۔ مثلاً جب مشرقی بنگال پاکستان کا حصہ تھا تو وہاں ہر سال تباہ کن سمندری طوفان اور دریائی سیلاب آنا معمول تھا لیکن اس کے اثرات سے نمٹنے کی مربوط حکمتِ عملی کے لیے کوئی ادارہ تشکیل نہ پا سکا اور نہ ہی نقصانات کو کم از کم رکھنے کے سلسلے میں لوگوں کی آگہی یا بنیادی تربیت کا کوئی اہتمام ہوسکا۔ اگر ایسا کچھ ہوتا تو انیس سو اکہتر میں ملک ٹوٹنے سے ذرا پہلے مشرقی بنگال میں آنے والے سمندری طوفان کے نتیجے میں ڈھائی لاکھ لوگ نہ مرتے اور ایک کروڑ سے زائد بےگھر نہ ہوتے یا مشرقی بنگال کی علیحدگی کے دو برس بعد پنجاب اور سندھ میں پانچ ہزار کے لگ بھگ لوگ دریائی طغیانی کا شکار نہ ہوتے اور آدھا زرعی رقبہ پانی میں نہ ڈوبتا۔ جتنے ارب روپے کا مالی نقصان ہوا اس سے آدھے پیسے حفاظتی اقدامات اور تربیت پر لگا کر نقصان بھی آدھا کیا جاسکتا تھا۔ اسی طرح انیس سو چوہتر میں جب شمالی علاقہ جات میں آنے والے زلزلے کے نتیجے میں کوئی آٹھ ہزار کے لگ بھگ لوگ مرے تو یہ بات طے ہوگئی کہ شمالی پاکستان کے پہاڑی علاقوں میں ایک علیحدہ تعمیراتی کوڈ کا سختی سے نفاذ اور تباہ حال املاک سے لوگوں کو نکالنے کے لیے نوجوانوں کی تربیت کتنی ضروری ہے۔ قدرت کی اس وارننگ کو بھی نظرانداز کیا گیا اور اس کے نتیجے میں آٹھ اکتوبر کو جتنی ہلاکتیں ہوئیں ان میں سے نوے فیصد کنکریٹ کی دیواریں اور چھتیں گرنے اور ناقص تعمیراتی میٹریل کے سبب ہوئیں۔ اگر ان ہلاکتوں کا ذمہ دار محض زلزلے کو جانا جائے تو پھر ایسا کیوں ہے کہ جب انیس سو اسی کے عشرے میں کیلیفورنیا میں اسی شدت کا زلزلہ آیا تو صرف بائیس ہلاکتیں ہوئیں۔ ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کے دوران کالجوں میں زیرِ تعلیم ان طلبا و طالبات کو بیس نمبر اضافی دیے جاتے تھے جو دو سالہ بنیادی فوجی تربیت مکمل کر لیتے تھے لیکن بعد میں آنے والی حکومتوں نے اسے ختم کر دیا۔ اگر یہ تربیت آج تک تعلیمی اداروں میں جاری رہتی اور اس میں قدرتی آفات سے نمٹنے کی بنیادی تربیت بھی شامل کرلی جاتی تو کتنے لاکھ ایسے رضاکار تیار ہوجاتے جو ملبے کے اردگرد تماشا دیکھنے کے بجائے اس میں دبے ہوئے لوگوں کو نکالنے کے سلسلے میں اپنی ذمہ داری محسوس کرتے۔ کیا یہ مناسب وقت نہیں ہے کہ پاکستان اپنی سلامتی کو لاحق فوری خطرات کی فہرست پر نظرِ ثانی کرے اور اس میں بھارت اور عالمی دہشت گردی کے موضوعات پر ہی زور نہ دے بلکہ زلزلے، سیلاب اور آتشزدگی جیسی آفات کو بھی قومی سلامتی کو درپیش خطرات کے خاکے کا حصہ بنائے۔ اس سے یہ فائدہ ہوگا کہ ایف سولہ طیاروں کے علاوہ زخمیوں کو اٹھانے والے ہیلی کاپٹرز ،فائر انجن، کرینیں اور بلڈوزر، فرانسیسی آبدوزوں کے ساتھ ساتھ فیلڈ اسپتالوں کا ساز و سامان اور سویڈش نگراں طیاروں کے سودے کے بعد دس لاکھ خیموں کی خریداری بھی دفاعی بجٹ کی مد میں شامل ہو جائے گی۔ | اسی بارے میں اگر اب بھی !23 October, 2005 | قلم اور کالم رمسا سنگھ کو کیا تکلیف ہے؟17 October, 2005 | قلم اور کالم ہم اپنے سائے میں پل رہے ہیں09 October, 2005 | قلم اور کالم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||