ہم اپنے سائے میں پل رہے ہیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسوقت شمالی پاکستان اور کشمیرکے طول و عرض میں جو ملبہ پھیلا ہوا ہے اسکے تلے صرف مرد، عورتیں اور بچے ہی نہیں بلکہ نیشنل کرائسس مینجمنٹ سیل بھی دباپڑا ہے۔ یہ سیل ملک میں ہر دوتین برس بعد آنے والے تباہ کن سیلابوں، انیس سو چوہتر اور انیس سو ستانوے میں بالترتیب شمالی علاقہ جات اور بلوچستان میں آنے والے زلزلوں، قحط سالی،اور انسانی اور قدرتی وجوہات کے نتیجے میں جنم لینے والی آتشزدگیوں جیسے واقعات سے نمٹنے کے لیے متعلقہ ہنگامی اداروں کے وسائل اور منصوبہ بندی کو یکجا اور مربوط بنانے کی نیت سے قائم کیا گیا تھا۔ سنیچرآٹھ اکتوبر کی صبح کوئی پونے نوبجے زلزلے کے پہلے جھٹکے کے ساتھ ہی یہ سیل بکھر کر رہ گیا۔اگر اس سیل نے ہنگامی حالات سے کیسے نمٹا جائے نامی کوئی مینوئیل یا کتابچہ تیار کیا بھی ہوگا تو وہ بھی اسوقت کہیں ملبے میں دبا پڑا ہے۔اور اسکی جگہ زلزلے کے بڑے بڑے جھٹکے تھمتے ہی اپنی مدد آپ کا صدیوں میں گڑا ہوا نظام خودکار طریقے پر حرکت میں آچکا ہے۔ کرائسس مینجمنٹ کے اس روائتی آزمودہ ڈھانچے نے کبھی بھی مایوس نہیں کیا۔ اس نظام کے تحت لوگوں نے جنگوں میں اپنے بچاؤ کے لیے خود خندقیں کھودیں۔ سیلابی ریلوں سے اپنی زمینوں کو بچانے کے لیے نہری اور دریائی پشتوں کو اپنی مدد آپ کے تحت مضبوط کیا۔ ریلیف کیمپ لگائے اور امدادی اشیا جمع کیں اور بانٹیں۔ زخمیوں کو طبی کاندھے پر لاد کر طبی امداد کے مراکز تک لیجانےاور مرنے والوں کی تدفین کا انتظام خود کیا۔
آج بھی شمالی پاکستان اور کشمیر میں یہی ہو رھا ہے۔لوگ نہ تو خوراک کے پیکٹ اور پانی کی بوتلیں گرانے والے ہیلی کاپٹروں کی گڑگڑاہٹ سننے کے لیے آسمان پر نظریں گاڑے ہوئے ہیں اور نہ ہی اس انتظار میں ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے ہیں کہ کب مٹی کے تودے ہٹائے جائیں گے اور سڑک صاف ہوگی اور امدادی ٹرکوں کا قافلہ اور کرینیں انکے پاس پہنچیں گی۔لوگ اپنے ہاتھوں سے ملبہ ہٹا رہے ہیں۔ چھینیوں سے پتھر کاٹ رہے ہیں اور ویلڈنگ مشین سے سریے الگ کر رہے ہیں۔ خود بخود ہی رضاکارانہ ٹیمیں وجود میں آگئی ہیں جو کھلے آسمان تلے رہ جانے والوں کو کچھ نہ کچھ پہنچا بھی رہی ہیں۔ بس ان لوگوں کو اگراس وقت فوری طور پر کسی طرح کچھ ڈاکٹرز اور تربیت یافتہ نیم طبی عملہ میسر آجائے تو قدرے آسانی ہوجائے گی۔اسکے لیے پاکستان میڈیکل کونسل کو اپنے ہزاروں ممبر ڈاکٹروں کو جنگی بنیادوں پر حرکت میں لانے کی ضرورت ہے۔ کیا اس کی توقع بھی رکھی جائے کہ صنعتکار اور تاجر صرف اس رمضان کو کمائی کا سیزن نہ سمجھیں اور بنیادی اشیا کو جمع کرنے اور انہیں ٹرک ایسوسی ایشن کے تعاون سے شمالی پاکستان تک بھیجنے کے لیے اپنا کچھ وقت اس مصیبت زدہ قوم پر خرچ کردیں۔ وہ سرکاری عملدار اور سیاستداں جن کا اسوقت امدادی سرگرمیوں سے براہ راست تعلق نہیں ہے اگر چند دن متاثرہ علاقوں میں صرف تباہ کاری کے معائنے کے لیے جانے سے گریز کریں تو یہ بھی متاثرہ علاقوں کی انتظامیہ اور لوگوں کی ایک بڑی مدد ہوگی اور اس سے انکی توجہ ادھر ادھر بٹنے سے بچ جائےگی۔ رہا سوال خود احتسابی اور مستقبل سازی کا تو اسکے لیے اک عمر پڑی ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||