مفت مشورہ: تھوڑا سا آرام کر لیں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جب جنرل پرویز مشرف کو پاکستان کا چیف ایگزیکٹو بنے کچھ عرصہ گزرا تو امیرِ جماعتِ اسلامی قاضی حسین احمد نے ان کے بارے میں ایک دو تندوتیز بیانات دیے۔صدرِ مملکت کا ردِ عمل تھا کہ ’قاضی حسین احمد ایک پاگل آدمی ہے‘۔ مئی دوہزار دو میں ہونے والے صدارتی ریفرینڈم کے نتائج پر نکتہ چینی کو مسترد کرتے ہوئے صدر نے کہا کہ اگر اس دوران کسی نے تھوڑی بہت بے قاعدگی کی ہے تو اس پر وہ معذرت خواہ ہیں لیکن اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ عوام نے ان پر بھرپور اعتماد کا اظہار نہیں کیا۔ اکتوبر دوہزار دو کے عام انتخابات کے نتیجے میں جو پارلیمنٹ وجود میں آئی اس سے روایت کے مطابق خطاب نہ کرنے کی صدر نے جو وجوہات بتائیں ان میں سے ایک یہ بھی تھی کہ پارلیمنٹ میں بہت سے بدتمیز لوگ ہیں جن کے منہ وپ لگنا نہیں چاہتے۔ ایک ٹی وی انٹرویو میں صدر نے وعدے کے مطابق چیف آف آرمی اسٹاف کی وردی نہ اتارنے کے فیصلہ کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ عوام چاہتے ہیں کہ میں وردی میں رہوں۔ جب صدر سے پوچھا گیا کہ انہیں یہ کیسے معلوم ہوا؟ توصدر کا جواب تھا جو لوگ ان سے ملنے آتے ہیں وہ بھی یہی کہتے ہیں۔اس کے علاوہ مختلف شہروں میں عوام کی رائے اجتماعات اور مختلف سرووں کی صورت میں بھی سامنے آئی ہے۔ پانی کے مسئلے پر ایک پریس کانفرنس میں صدر سے ایک صحافی نے کالا باغ ڈیم اور تھل کینال کے تعلق سے ناقدانہ سوال کیا۔ صدر کا جواب تھا۔ لگتا ہے آپ کا تعلق سندھ سے ہے۔ کیونکہ ایسا سوال سندھ سے ہی آ سکتا ہے۔ سوئی میں ڈاکٹر شازیہ خالد ریپ کیس کے بعد جب بلوچستان کے قوم پرست رہنماؤں نے تندوتیز بیانات دینے شروع کیے تو صدر مشرف نے کہا کہ یہ انیس سو تہتر نہیں ہے کہ لوگ پہاڑوں پر چڑھ جائیں گے اور کچھ نہیں ہوگا۔ اب ایسا ہوا تو انہیں ایسی چیز ہٹ کرے گی کہ پتہ بھی نہیں چلے گا کہ کہاں سے آئی۔ لندن بم دھماکوں کے بعد قوم سے خطاب کرتے ہوئے صدر نے ایک جگہ کہا کہ میں دینی مدارس پر پچھلے تین سال سے زور دے رہا ہوں کہ وہ چھ ماہ میں رجسٹریشن کروالیں لیکن وہ ٹس سے مس نہیں ہوئے۔ اور تازہ ترین صورتحال نیویارک میں پیدا ہوگئی، جب پاکستان کے اعتدال پسند امیج کو ابھارنے کی خاطر منعقدہ تقریب میں بعض خواتین شرکا سے صدر مشرف کی ’توتو میں میں‘ ہوگئی۔ جب ایک خاتون نے پاکستان میں ریپ ہونے والی خواتین کے بارے میں صدر کی توجہ واشنگٹن پوسٹ میں شائع ہونے والے انکے انٹرویو کی جانب دلائی تو صدر نے اپنے ردِ عمل میں کہا۔ آپ میری اور پاکستان کی مخالف ہو۔ آپ ان لوگوں کو سننے کی عادی ہیں جو جھوٹ بولتے ہیں۔ میں ان میں سے نہیں ہوں۔ میں لڑنا جانتا ہوں۔ میں آپ سے لڑوں گا۔ میں پیچھے ہٹنے والا نہیں ہوں۔ اگر آپ چیخ کا بات کرسکتی ہو تو میں آپ سے زیادہ چیخ سکتا ہوں۔ بلاشبہہ کمانڈو صدر جنرل پرویز مشرف ایک انسان ہیں اور کسی بھی دوسرے انسان کی طرح وہ بھی خوشی، دکھ، صدمے، حیرت، بے یقینی، احساسِ عدم تحفظ اور ذہنی دباؤ سے دوچار ہوسکتے ہیں اور اسوقت وہ جس عہدے پر فائز ہیں وہ موجودہ عالمی صورتحال کے تناظر میں دنیا کے چند خطرناک عہدوں میں شمار ہوتا ہے۔ جب امریکی صدور کام کی زیادتی سے تھک جاتے ہیں تو وہ کچھ دنوں کے لیے کیمپ ڈیوڈ یا اپنی ذاتی رینچز پر جا کر ذہنی اور جسمانی طور پر تازہ دم ہوجاتے ہیں۔ یورپی حکمران بھی تمام تر مصروفیات سے وقت نکال کر ہالیڈیز میں خود کو گم کرلیتے ہیں۔ صدر مشرف بھی چاہیں تو یہ کرسکتے ہیں۔اس سے جہاں وہ مزید تازہ دم ہوجائیں گے وہیں ان کے ترجمانوں کو بھی کچھ سانس لینے کا موقع ملے گا جنہیں اگلے دن صدر کے بیانات کی سو سو وضاحتیں کرنا پڑتی ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||