کیا کوئی جانتا ہے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کوئی جانتا ہے کیا کہ دھشت گردی کے خلاف جنگ کے دوران امریکہ کے پاس کتنے ممالک کے کتنے قیدی کہاں کہاں رکھے گئے ہیں اور انکے ساتھ کیا ہورہا ہے۔ اس بارے میں پوری معلومات امریکی ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ کی انٹیلی جینس کمیٹیوں کے پاس بھی نہیں کہ جن کا کام ہی یہی ہے کہ وہ امریکہ کے خفیہ آپریشنز کی نوعیت سے باخبر رہیں۔اگر اس بارے میں کچھ دھندلی سی تصویر بنتی بھی ہے تو وہ بھی اکادکا بیانات اور اتفاقاً افشا ہونے والے واقعات کی مدد سے ہی بنائی جاسکی ہے۔ امریکہ نہ صرف قیدیوں سے سلوک کے جنیوا کنونشن کو تسلیم کرتا ہے بلکہ قیدیوں کی ازیت رسانی کے خلاف اقوامِ متحدہ کے عالمی کنونشن کی بھی انیس سو چورانوے میں توثیق کرچکا ہے۔لیکن اسی سال کلنٹن انتظامیہ نے اپنے سیکیورٹی اداروں کو رینڈرنگ کا اختیار بھی دے دیا۔اس سے مراد یہ تھی کہ امریکہ ممکنہ دھشت گردوں کو پوچھ گچھ کے لئے اپنی سرزمین پر رکھنے کے بجائے دیگر ممالک میں بھی رکھ سکتا ہے۔تاکہ امریکی حکومت قیدیوں سے متعلق جنیوا کنونشن یا اذیت رسانی کے اقوامِ متحدہ کنونشن کے تحت جوابدہی سے بچی رہے۔ کلنٹن کے بعد بش انتظامیہ نے رینڈرنگ کے تحت سی آئی اے اور محکمہ دفاع کو مزید اختیارات دے دیئے۔اس کے بعد صورتِ حال یہ ہے کہ دنیا کے مختلف خطوں میں تین طرح کے نظربندی مراکز کام کر رہے ہیں۔اولاً محکمہ دفاع کے تحت عراق، افغانستان یا گوانتانامو میں قائم جیلیں، عارضی نظربندی کے لئے استعمال ہونے والے طیارہ بردار جنگی جہاز یا بحرِ ہند میں قائم ڈیگو گارشیا بحری اور فضائی اڈے جیسے دور دراز مراکز۔ دوم سی آئی اے کے زیرِ انتظام مختلف ممالک میں قائم تفتیشی مراکز اور سوم غیر ملکی انٹیلی جینس اداروں کے تفتیشی مراکز۔ اس سلسلے میں اکثر سعودی عرب ، قطر ، مصر ، مراکش ، پاکستان ،اردن، فلپائین اور وسطی ایشیائی ریاستوں کے نام لئے جاتے ہیں۔ قطر کے ایک سابق وزیرِ قانون نجیب النعیمی کے بقول عرب ممالک میں امریکہ نے جتنے قیدی رکھے ہوئے ہیں انکی تعداد گوانتانامو میں رکھے گئے قیدیوں سے کہیں زیادہ ہے۔ کیا ان قیدیوں کے گھر والوں کو معلوم ہے کہ کون کہاں کس حال میں ہے۔گوانتانامو کے نظربندوں کے علاوہ دیگر قیدیوں کا بظاہر کوئی باقاعدہ ریکارڈ نہیں ہے کیونکہ ان قیدیوں کے کوائف سامنے لانے کے بعد امریکہ کو طرح طرح کے قانونی سوالات کا سامنا ہو سکتا ہے۔ صدر بش کے بقول یہ جنگ محض قانونی دستاویزات سے نہیں جیتی جا سکتی اسکے لئے ہمیں اپنے پاس موجود ہر وسیلہ استعمال کرنا پڑے گا۔ اس بیان کے بعد یہ بحث ہی بے معنی ہے کہ گوانتانامو، ابوغریب یا بگرام میں کیا ہورہا ہے اور کیا نہیں ہو رہا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||