وسعت اللہ خان بی بی سی اردو ڈاٹ کام |  |
جارج بش کے پیشرو بل کلنٹن سے انیس سو پچانوے میں پوچھا گیا کہ ہیرو شیما اور ناگا ساکی پر ایٹم بم گرانے کے واقعہ پر کیا امریکہ جاپان سے معافی مانگنے کے بارے میں سوچے گا۔صدر کلنٹن کا جواب تھا کہ صدر ہیری ٹرومین نے ایٹم بم گرانے کا فیصلہ دستیاب حقائق کی بنیاد پر کیا تھا۔اور جاپان اسوقت ایک مظلوم ملک نہیں بلکہ جارح قوت تھا۔ جب سن دوہزار میں بل کلنٹن نے پہلے امریکی صدر کی حیثیت سے ویتنام کے دارالحکومت ہنوئی جانے کا فیصلہ کیا تو اسوقت ان سے پوچھا گیا کہ آیا وہ امریکی مداخلت کے نتیجے میں تیس لاکھ ویتنامیوں کی ہلاکت پر اپنے ملک کی جانب سے دکھ اور معذرت کا اظہار کریں گے۔صدر کلنٹن کا جواب تھا دونوں میں سے کسی ملک کو معافی تلافی کی ضرورت نہیں۔ چاہے ویتنام میں جان دینے والے اٹھاون ہزار امریکی فوجی ہوں یا تین ملین ویتنامی ان سب نے اپنے اپنے مقاصد پر یقین رکھتے ہوئے جان دی۔ جب صدر کلنٹن سے پوچھا گیا کہ کیا سن ساٹھ کی دھائی میں اسوقت کے امریکی صدر لنڈن بی جانسن نے ویتنام کی لڑائی کو پھیلا دینے کا جو فیصلہ کیا وہ درست تھا۔صدر کلنٹن نے کہا کہ جانسن نے حالات کے حساب سے مناسب فیصلہ کیا۔ اس پس منظر میں حالات کے حساب سے عراق اور افغانستان میں فوجیں اتارنے کا درست فیصلہ کرنے والے موجودہ امریکی صدر بش نے بالٹک ریاست لٹویا کے دورے میں جب یہ کہا ہوگا کہ دوسری عالمگیر جنگ کے اختتام پر مشرقی یورپی ممالک پر سویت قبضہ ایک سنگین تاریخی غلطی تھی تو یقیناً اسٹالن کے ساتھ ساتھ روزویلٹ اور چرچل نے بھی اپنی قبروں میں کروٹ بدلی ہوگی۔ اگر ٹرومین کا جاپان پر بم گرانے، جانسن کا تیس لاکھ ویتنامیوں کی موت کا سبب بننے اور بش سینئر کی حمایت سے عراق کی دس سالہ اقتصادی ناکہ بندی کے نتیجے میں ایک ملین کے لگ بھگ عراقیوں کی موت کا سبب بننے کا فیصلہ درست تھا تو پھر ساٹھ برس پہلےمغربی یورپ کی آزادی کے بدلے مشرقی یورپ کی کیمونسٹ غلامی کا فیصلہ کیسے غلط ہو گیا۔آخر یہ کوئی جبریہ فیصلہ تو نہیں تھا بلکہ ایک روسی ایک امریکی اور ایک برطانوی نے ایک ہی میز پر بارضا و برغبت کیا تھا۔ |