بھولے بھالےخانہ بدوش | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اٹھارویں صدی کے مغربی فلاسفر روسو، ہابس اور لاک نے ریاست کے اقتدارِ اعلی کی بنیاد اور اسباب کے نظریہ معاہدہ عمرانی کے تحت جو توجیح کی ہے اسکا لبِ لباب کچھ یوں ہے کہ کوئی پانچ ہزار برس قبل جب شکار پر گذارہ کرنے والے لوگوں نے بھوک اور زندگی کی رائیگانی سے تنگ آ کر دریاؤں کے کنارے ایک جگہ بس کر چھوٹا سا اپنا سا گھر بنانے کا خواب دیکھا تو اسے خونخوار جانوروں اور طاقتور انسانوں سے عدم تحفظ کا احساس ہونا شروع ہوا۔ تحفظ کے لئے اس نے ریاست کا ادارہ تشکیل دینے کے بارے میں سوچا اور اپنی جسمانی اور ذہنی آزادی ، نقل و حرکت، روزگار اور خاندان کے تحفظ کو یقینی بنانے کے عوض یہ انسان اپنی چند آزادیوں سے دستبردار ہو کر انہیں ریاست کو سونپنے پر آمادہ ہو گیا۔یوں فرد اور ریاست کے درمیان ایک طرح کا سماجی معاہدہ طے پا گیا۔ بھولے خانہ بدوش کے وہم وگمان میں بھی یہ بات نہیں تھی کہ وہ اس سماجی معاہدے کے تحت ریاست نامی ادارہ نہیں بلکہ ایسا دیو تخلیق کررہا ہے جسے زندہ رہنے کے لئے ہر آن خون اور جبر کا راتب چاہئیےاور یہ بھوک ہر نئے دن کے ساتھ بڑہتی ہی چلی جائے گی۔ اس بھوک کا اولین شکار یہی خانہ بدوش بنا اور ایک کے بعد ایک شکنجہ اس پر کستا چلا گیا۔مضبوط ریاست کی تشکیل کے نام پر قبیلے کے سردار کا شکنجہ، ایک کمزور قبیلے پر طاقتور قبیلے کا شکنجہ، سب سے طاقتور قبیلے کا بطور حکمراں ایک پورے علاقے کے باسیوں پر شکنجہ، اور اس علاقے پر روحانی اور مادی قوت سے مسلح نائبِ خدا کی ٹوپی پہن کر آنے والے سب سے طاقتور خطے کے شہنشاہ کا شکنجہ۔ سارے حقوق ایک ایک کرکے ریاست کے توسط سے طاقتور گروہ کے پاس چلے گئے اور معاہدہ عمرانی کے دوسرے فریق یعنی خانہ بدوش کے حصے میں صرف فرائض باقی رہ گئے۔ بادشاہ کے نام پر بیگار کرنے کا فریضہ، بادشاہ کی ہوسِ ملک گیری کی تسکین کے لئے فوجی چارہ بننے کا فریضہ اور اسکے بعد بھی زندگی اور موت صرف اور صرف بادشاہ کی نظرِ کرم کی عطا۔ پچھلے پانچ ہزار برس کے دوران معاہدہ عمرانی کے تحت وجود میں آنے والی ریاست نے تحفظ کے وعدے کی جتنی خونی قیمت وصول کی وہ سب کی سب تاریخ کے ہر ہر صفحے پر ترتیب وار موجود ہے۔ اس ادارے کی موجودگی میں جغرافیائی سلاخوں کے پنجرے میں بند آدمی اور فولادی پنجرے میں بند چڑیوں کی اوقات یکساں ہو گئی۔اڑنا تو ایک طرف وہ تو اپنی مرضی سے پھڑ پھڑا بھی نہیں سکا۔ ہماری یہ دنیا چند سپرپاورز کی قیدی ہےاور ہم ان سپرپاورز کو خراج دینے والوں کے قیدی۔جب یہ چاہیں سرحدیں کھول دیں۔نہ چاہیں تو بند رکھیں۔جب انکے مفاد میں ہو تو ہمارے گھروں کو عین درمیان سے تقسیم کردیں۔جب چاہیں لکیر مٹا دیں۔ دیوارِ چین، دیوارِ برلن، فلسطینی دیہاتوں کو بیچ سے کاٹنے والی فصیل ،کوریا کو درمیان سے دو حصے کرنے والا اڑتیس ڈگری طول البلد کا خط، چین اور تائیوان کے درمیان حائل بحیرہِ زرد کی آبی باڑ ، کشمیر کی لائن آف کنٹرول، افریقہ اور مشرقِ وسطی کے نقشے پر اسکیل رکھ کر قبیلوں کو درمیان سے ٹکڑے ٹکڑے کرنے والے سیدھے سیدھے کھینچے گئے سرحدی خطوط۔ یہ چند مثالیں ہیں اس حقیقت کی کہ جس بھولے بھالےخانہ بدوش نے اپنا گھر بسانے اور بنیادی آزادیوں کے تحفظ کے لئے ریاست تخلیق کی تھی۔وہی ریاست اسے آزادی سمیت نگل گئی۔ پانچ ہزار برس پہلے کیا ، سن دوہزار پانچ میں کیا ! |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||