BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 24 April, 2005, 06:23 GMT 11:23 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
وقت، دریا اور لکیر

سرحد
بیسویں صدی میں کوئی ملک سرحدی قطع و برید سے نہ بچ سکا
منموہن سنگھ کہتے ہیں کہ جنوبی ایشیا میں مزید سرحدی تبدیلیاں نہیں کی جا سکتیں اور بھارت سرحدی ردوبدل کو زیرِ بحث لائے بغیر کشمیر پر ہر طرح سے بات چیت کرنے کو تیار ہے۔

پرویز مشرف کہتے ہیں کہ لائن آف کنٹرول کو بین الاقوامی سرحد تسلیم نہیں کیا جاسکتا اور دونوں ملکوں کو اپنے اپنے موقف میں لچک پیدا کرکے اس مسئلے کا جلد ازجلد حقیقت پسندانہ حل تلاش کرنا ہوگا۔

موجودہ برطانوی وزیرِ خارجہ جیک اسٹرا نے اب سے تین برس قبل برطانیہ کے ایک مؤقر جریدے نیو اسٹیٹس مین کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ انیس سو سترہ میں فلسطین میں یہودیوں اور فلسطینیوں کے بارے میں برطانیہ کی دوغلی نوآبادیاتی پالیسی، عراق کی سرحدوں کی بے تکی حد بندی ، ہندوستان کی تقسیم کے وقت کشمیر کے بارے میں غیر ذمہ دارانہ طرزِ عمل اور افغانستان کے سلسلے میں برطانوی نوآبادیاتی حکومتوں کی پالیسی وہ سنگین غلطیاں ہیں جن کا خمیازہ آج تک کسی نہ کسی شکل میں سامنے ہے۔

لیکن تاریخ نہ تو موجودہ سرحدوں کو حتمی سمجھنے والے منموہن سنگھ سے متفق ہے، نہ ہی سرحدی حدبندی سے غیر مطمئن پرویز مشرف کی حامی ہے اور نہ ہی جیک اسٹرا کے ساتھ ہے۔

آج نقشے میں جتنے بھی ممالک نظر آ رہے ہیں۔ان میں سے ایک تہائی کا صرف سو برس پہلے وجود ہی نہ تھا۔انکا جنم سلطنتوں کی توڑ پھوڑ کا مرہونِ منت ہے۔

یورپ میں پولینڈ دو سو برس کے لیے نقشے سے غائب ہو گیا اور پھر ایک ملک بنا پھر دو ٹکڑوں میں بٹا اور پھر ایک ہو گیا۔دو عالمگیر جنگوں کے نتیجے میں خود برطانیہ ، فرانس، جرمنی، بلجئیم، ڈنمارک، اٹلی اور ترکی جیسی سلطنتوں کی سرحدیں تبدیلیوں سے نہ بچ سکیں حالانکہ ان ملکوں نے بیشتر دنیا کو اپنی نوآبادی بنا رکھا تھا۔اس عرصے کے دوران سوائے ایران کے ہر ایشیائی ملک کی سرحد کم یا زیادہ ہوئی۔ افریقہ میں سن انیس سو میں سوائے لائبیریا اور ایتھوپیا کے کسی تیسرے آزاد ملک کا وجود ہی نہ تھا۔ ریاست ہائے متحدہ امریکہ کی سرحدوں میں دوسری عالمی جنگ کے بعد تک تبدیلی ہوتی رہی جبکہ براعظم جنوبی امریکہ جہاں انیسویں صدی میں ہی نوآبادیاتی نظام رخصت ہو چکا تھا۔وہاں بھی بیسویں صدی میں کوئی ملک سرحدی قطع و برید سے نہ بچ سکا۔

پچھلے پندرہ برس کے دوران سرحدی بدلاؤ کی سب سے طوفانی مثال ، سوویت یونین ،یوگوسلاویہ اور چیکوسلواکیہ کے حصے بخرے ہیں۔

خود جنوبی ایشیا میں گزشتہ اٹھاون برس کے دوران چار بڑی جغرافیائی تبدیلیاں آئیں۔ہندوستان نے پاکستان کو اور پاکستان نے بنگلہ دیش کو جنم دیا جبکہ سکم کی ریاست بھارت میں غائب ہوگئی۔

چار چیزیں کبھی ایک جگہ نہیں رہ سکتیں۔ وقت، ریت، دریا کا راستہ اور سرحدی لکیر۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد