کاش بی بی سی حکومت کانام ہوتا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
میں بی بی سی اردو سروس کی موجودہ مہم ’کہیں آپ سنیں ہم‘ میں بہاولپور سے شامل ہوا ہوں اور مظفرآباد تک اپنی ٹیم کے ہمراہ اگلے کئی روز تک ’کہیں آپ سنیں ہم‘ کرتا ہوا جاؤں گا۔ لیکن کیا کیا سننا پڑ رہا ہے، اس میں سے کچھ تو آپ سیربین میں سن لیتے ہیں مگر یہ اس کے مقابلے میں بہت ہی کم ہے جو ہم آپ کو بتا پا رہے ہیں۔ مثلاً کیسے بتائیں آپ کو بہاولپور کی بی بی سی سنگت کے اجتماع میں ایک ادھیڑ عمر شخص اپنا گیارہ سالہ بچی کو لیے کبھی ایک کے پاس جا رہا تھا کبھی دوسرے کے پاس۔ بچی نہ تو بول سکتی ہے نہ سن سکتی ہے اور اسے یہ بھی نہیں معلوم کہ اس کے ساتھ درندوں جیسا سلوک کس نے اور کیوں کیا۔ اس ادھیڑ عمر شخص کا اصرار تھا کہ یہاں کی پولیس کسی کے کہنے پر ایف آئی آر درج نہیں کرے گی۔ اگر آپ میں سے کوئی ساتھ چلا جائے تو میرا کام ہو جائے گا۔ ایک عورت بی بی سی کے نام ایک درخواست لے کر آئی اس میں استدعا کی گئی تھی کہ اس کے شوہر کی پینشن اُسے دلائی جائے۔ ہم جس ہوٹل میں ٹھہرے ہوئے تھے اس کے ایک ویٹر نے کہا کہ اگر بی بی سی والے ہوٹل انتظامیہ سے اس کا تنخواہ بڑھانے کی سفارش کر دیں تو بڑی مہربانی ہوگی۔ ڈھائی تین ہزار میں اب گزارہ نہیں ہوتا۔ فیصل آباد میں ایک بوڑھی عورت سڑک پر ملی۔ اس کا کہنا تھا کہ اس کا بیٹا عمر قید کی سزا بھگت رہا ہے۔ لیکن جیل والے اسے ملنے نہیں دیتے۔ ہر دفعہ پیسے مانگ لیتے ہیں۔ ہر دفعہ پیسے کہاں سے لائے۔ جلسے میں ایک نابینا شخص بھی آیا ہوا تھا جس کا اصرار تھا کہ وہ ہماری ٹیم کے ساتھ تصویر کھنچوائے گا۔ وہ تصویر جو وہ کبھی نہیں دیکھ پائے گا۔ سب سے زیادہ یہ شکایت سننے میں مل رہی ہے کہ ’آپ ہمارے گاؤں میں کیوں نہیں آتے؟‘، ’ہم آپ کو اپنے شہر تک کیسے لے جائیں؟‘، ’آپ کو تو پتا ہی نہیں کہ ہم پر اصل میں کیا بیت رہی ہے۔ آپ تو پروگرام کرکے ڈگڈگی بجاتے روانہ ہو جائیں گے۔ جن مسائل کے بارے میں آپ بات کر رہے ہیں وہ کون حل کرے گا؟‘۔ اس وقت جب میں اپنے ہوٹل کے کمرے میں تنہا بیٹھا ہوں صابر ظفر کا ایک شعر میرے ذہن پر چھایا ہوا ہے۔ بے سہارا کوئی ملتا ہے تو دُکھ ہوتا ہے کاش بی بی سی کسی ملک کا نام ہوتا، کسی حکومت کا نام ہوتا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||