BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 06 February, 2005, 16:25 GMT 21:25 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
نیپال اور امریکی بچے

نیپال میں ایمرجنسی کے نفاذ پرامریکہ خاموش ہے
نیپال میں ایمرجنسی کے نفاذ پر امریکہ خاموش ہے
کونڈولیزا رائس نے وزیرِ خارجہ بننے کے بعد اپنے پہلے بین الاقوامی دورے میں ماسکو میں بھی قیام کیا اور روس کو مشورہ دیا کہ اگر وہ مغرب سے قریبی تعلقات قائم کرنے کا خواہش مند ہے تو اسے جمہوری اداروں کو مستحکم کرنے کے ساتھ ساتھ بنیادی آزادیوں اور ذرائع ابلاغ کی آزادی کو بھی یقینی بنانا ہوگا۔

مس رائس کے باس جارج بش نے دو فروری کو کانگریس سے اپنے سالانہ اسٹیٹ آف دی یونین خطاب میں کہا ’ہمارے دشمنوں کی کوشش یہ ہے کہ وہ ایسا نظام مسلط کریں جس میں ایک چھوٹا سا خود ساختہ گروہ زندگی کے ہر شعبے پر قابض ہوکر سلطنتِ ظلم کو توسیع دینے کی کوشش کرے۔ جبکہ ہمارا مقصد آزادوخودمختار ممالک کی ایسی برادری تشکیل دینا ہے جس میں حکومتیں اپنے عوام کے سامنے جوابدہ ہوں۔‘

جارج بش کے اس خطاب سے چند روز پہلے ہی امریکہ کے ایک دوست ملک نیپال کے شاہ گیانندر نے پارلیمانی نظام کی بساط لپیٹ کر غیر اعلانیہ مارشل لا لگادیا۔ تمام بنیادی شہری آزادیاں معطل کردی گئیں۔ ذرائع ابلاغ پر سنسر شپ نافذ ہوگئ اور سیاستدانوں اور صحافیوں کی گرفتاریاں شروع ہوگئیں۔تین برس میں یہ دوسری مرتبہ ہے جب بادشاہ نے اختیارات اپنے ہاتھ میں لیے ہیں۔

News image

نیپال وہ ملک ہے جہاں عالمی بینک کے مطابق بیالیس فیصد آبادی خطِ غربت سے نیچے زندگی بسر کررہی ہے اور کسی بھی بےچینی یا بغاوت کے لیے بہترین خام مال ہے۔ انہی نیپالیوں نے اب سے پندرہ برس پہلے سینکڑوں افراد کی قربانی اور ہزاروں کی گرفتاریاں دے کر اپنے لیے مطلق العنان بادشاہت سے جمہوریت چھینی تھی۔

جس وقت بادشاہ نے ملک میں پارلیمانی نظام کی بساط لپیٹی اس سے کچھ ہی دن پہلے امریکہ نے نیپالی فوج کی دہشت گردی کے خلاف جنگ کو موثر بنانے کے لئے سترہ ملین ڈالر مالیت کی بیس ہزار سب مشین گنیں اور رات کو دیکھنے والے آلات فراہم کرنے کی منظوری دی۔

اسوقت اسلحے کی عالمی تجارت میں امریکہ کا حصہ پینتالیس فیصد سے زائد ہے اور جن ایک سوچون ممالک کو امریکی اسلحہ بیچا جاتا ہے ان میں سے بیالیس کے بارے میں امریکی محکمہ خارجہ کی رائے یہ ہے کہ وہاں جمہوری اور انسانی حقوق پامال ہورہے ہیں اور نیپال بھی محکمہ خارجہ کی اسی فہرست میں شامل ہے جہاں پچھلے آٹھ برس کے دوران سرکاری دستوں اور ماؤنواز یونائیٹڈ پاپولر فرنٹ کے درمیان جاری چھاپہ مار جنگ میں گیارہ ہزار سے زائد ہلاکتیں ہو چکی ہیں۔آٹھ سو سے زائد لوگ لاپتہ ہیں ان میں سے چھ سو کے لگ بھگ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ سرکاری دستوں نے اغوا کئے۔

نیپال ان ملکوں میں نہیں ہے جن میں امریکہ پہلی بار جمہوریت کا چراغ روشن کرنا چاہ رہا ہے بلکہ یہ ان ملکوں میں سے ہے جہاں جمہوریت کی بساط لپیٹی گئی ہے لیکن تاحال امریکہ کا نیپال میں ہونے والے تازہ واقعات پر کوئی ردِعمل سامنے نہیں آ سکا ہے۔

صدر بش نے اسٹیٹ آف دی یونین خطاب میں کہا
’ہماری ذمہ داری ہے کہ آنے والی امریکی پود کے لیے ایک محفوظ امریکہ چھوڑیں۔ ہم اپنے بچوں تک آزادی کا وہ اثاثہ منتقل کریں جس سے ہم فیضیاب ہیں اور اس آزادی میں سب سے بڑی آزادی خوف سے آزادی ہے۔‘

تو کیا خوف سے آزادی صرف امریکی بچوں کا ہی پیدائشی حق ہے ؟۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد