یہ بات کم از کم پچھلے سوا سو برس سے کوئی خبر نہیں ہے کہ پاکستان کے افغان سرحد سے متصل قبائلی علاقوں کے ملکوں اور سرداروں کو انگریز اور اس کے جانشین صرف دو طریقوں سے ہی مرکزی حکومت کا وفادار رکھنے میں کامیاب ہو پائیں ہیں۔ قبائلی رسم ورواج کے مطابق قبائل کی اندرونی خود مختاری تسلیم کر کے یا پیسے کے ذریعے۔ اور پھر بھی کوئی قبیلہ یا سردار سرتابی کرے تو اسے سو برس سے نافذ فرنٹیئر کرائمز ریگولیشن کے ڈنڈے سے سیدھا کیا جاتا ہے۔ اس سارے انتظام کا مرکزی کردرا پولٹیکل ایجنٹ ہوتا ہے اور اس کے پاس یہ انتظام برقرار رکھنے کے لیے جو بھی بجٹ ہوتا ہے وہ اس کا مالک و مختار ہوتا ہے۔ پولیٹیکل ایجنٹ یا اس کے اہلکاروں کے ہاتھوں سے کس مد میں اور کتنا پیسہ خرچ ہوا۔ اس کا ریکارڈ رکھنے یا آڈٹ کرنے کا اگر کوئی رواج ہے بھی تو کم از کم باقی لوگوں کو اس کی خبر نہیں۔ پرامن بقائے باہمی کی بنیاد پر چلنے والے اس نظام کی جڑیں قبائلی علاقوں میں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس قدر گہری ہوچکی ہیں کہ یہ تصور بھی محال ہے کہ ان علاقوں میں اسمگلنگ، اسلحہ کی آمد و رفت اور غیر قبائل کی نقل و حرکت سمیت کوئی سرگرمی بھی ایسی ہو جو پولیٹیکل انتظامیہ کی نظروں سے اوجھل ہوجائے۔ چناچہ اس پس منظر میں جب یہ خبر آتی ہے تو اسے ہضم کرنا ذرا مشکل ہو جاتا ہے کہ وزیر ستان کے قبائلی علاقے میں بعض باغی قبائلی رہنماوں کو حکومت کے کسی ادارے یا انٹیلی جنس ایجنسی نے اس لیے کروڑوں روپے دے دیے تاکہ یہ رہنما القاعدہ سے حاصل کردہ قرض کوچکا کر تنظیم سے اپنی جان چھڑا لیں۔ اب تک امریکی سی آئی اے سمیت جتنے بھی ادراوں نے القاعدہ کے ڈھانچے کی مہیا معلومات کی بنیاد پر تصویر کشی کی ہے اس کے مطابق القاعدہ کوئی ایسی مربوط تنظیم نہیں جس کا اوپر سے نیچے تک کمیونسٹ پارٹی کی طرح باقاعدہ تنظیمی ڈھانچہ ہو کارڈ ہولڈر پارٹی کیڈر ہو بلکہ یہ صرف چند افراد پر مشتمل نظریاتی گروپ ہے اور جو فرد یا گروہ بھی اس مرکزئی گروپ کے نظریے سے اتفاق کرتا ہے وہ اپنے طور پر کارروائیاں منظم کرتا ہے اور اس کے لیے وسائل اور افرادی قوت جمع کرنے کا بھی خود ہی ذمہ دار ہوتا ہے۔ مرکزی نظریاتی گروپ صرف بعض بڑے آپریشنز کے لیے نظریاتی معاونت اور رہنمائی کرتا ہے اور یہ مرکزی نظریاتی ڈھانچہ بھی افغانستان سے طالبان کے خاتمے کےنتیجے میں تتر بتر ہو چکا ہے۔ رہا مالی وسائل کا سوال تو پوری دنیا میں پھیلے ہوئے مخیر افراد یا گروہ مختلف ذریعے استعمال کر کے القاعدہ کے نام پر ہونے والی کارروائیوں کے لیے نوعیت اور وقت اور حالات کے اعتبار سے پیسہ فراہم کرتے ہیں۔ اس تناظر میں سوچنے کی بات یہ ہے کہ وزیرستان کے باغی قبائلی رہنماوں نے حکومت کے بقول کس سے قرضہ لیا۔ کسی فرد سے تنظیم سے یا القاعدہ ڈویلپمنٹ بنک نامی کسی ادارے سے اور اگر القاعدہ دہشت گرد تنظیم ہے تو اس کے نام پر حاصل کئے گئے قرض کو چکانے کی ذمہ داری حکومت نے کس طرح لے لی۔ اور اگر القاعدہ قبائلی علاقوں میں اتنی منظم ہے اور اس سے قرضہ بھی لیا جا سکتا ہے تو پچھلے سال بھر میں حکومت نے جتنے لوگوں کو وہاں مار وہ کون ہیں۔ بات اگر صرف قرضے کے مسئلہ پر بگڑی تھی تو یہ قرضہ سال بھر پہلے کیوں نہیں ادا کیا گیا تاکہ قبائلی علاقے میں مرنے والے عورتوں، بچوں، بوڑھوں اور فوجیوں کی جانیں اور املاک ضائع نہ ہوتیں۔ کیا اب میں آخری سوال پوچھنے کی جرات کرسکتا ہوں؟ کون کسے بےوقوف بنا رہا ہے اور کب تک بنائے گا؟ |