سنجیدہ گفتگو کا موضوع | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے ہائیر ایجوکیشن کے کمیشن کے سربراہ ڈاکٹر عطا الرحمٰن کے بقول دنیا کی چوٹی کی ایک ہزار یونیورسٹیوں کی فہرست میں پاکستان کی ایک بھی یونیورسٹی شامل نہیں۔ اور عملاً یہاں کی یونیورسٹیوں کا درجہ کسی بھی کالج سے زیادہ نہیں۔ اس کے علاوہ ملک بھر میں ایک سو اسّی یونیورسٹیاں ایسی ہیں جنہیں کوئی قومی ادارہ تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں یعنی یہ یونیورسٹیاں غیر قانونی پر طور کام کر رہی ہیں۔ اخبارات میں اشتہارات دے رہی ہیں اور ان میں بھاری فیسوں کی عوض پڑھنے والےلڑکے اور لڑکیوں کا کوئی مستقبل نہیں۔ جہاں تک پرائمری تعلیم کا سوال ہے تو اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان کے پرائمری سکولوں میں ہر سال جو سو طلبا اور طلبات داخل ہوتے ہیں ان میں سے چوّن کسی نہ کسی وجہ سے سکول چھوڑ جاتے ہیں۔ پرائمری کی سطح پر چوّن فیصد کے ڈراپ آؤٹ کے تناسب کے لحاظ سے پاکستان دنیا میں سر فہرست ہے۔ دو ہفتے پہلے بچوں کے عالمی دن کے موقع پر وزیر اعظم شوکت عزیز نے نئی پود کی ذہنی اور جسمانی صحت کے تحفط کےلیے حکومت کی سنجیدگی کا اعادہ کیا تھا۔ حکومت کہتی ہے کہ تین لاکھ سے پانچ لاکھ بچے ملک کے مختلف شعبوں میں جبری مشقت کا شکار ہیں جبکہ غیر سرکاری این جی اوز کا اندازہ ہے کہ دس لاکھ سے زائد بچے سخت محنت مزدوری میں جھونکے گئے ہیں۔ اور ان بچوں کے مصائب یہیں نہیں ختم ہو جاتے۔ بچوں کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرنے والی ایک پاکستانی این جی او کی گزشتہ روز شائع ہونے والی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ملک میں روزانہ تین بچے جنسی زیادتی کا شکار بن رہے ہیں۔ گزشتہ برس تین ہزار کے لگ بھگ لوگ سولہ سو سے زائد بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے مرتکب ہوئے۔ جنسی زیادتی کے شکار پانچ برس سے لے کر پندرہ برس تک کے بچوں میں لڑکوں کا تناسب چوبیس فیصد اور لڑکیوں کا چھہتر فیصد ہے۔ یہ وہ اعداد و شمار ہیں جو اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں کی بنیاد پر مرتب کیے گئے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ملزموں اور متاثرین کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے کیونکہ پاکستان میں زیادتی کا شکار یا ان کے ورثہ اس بارے میں بات کرنا معیوب سمجھتے ہیں۔ بچوں اور ان کے والدین کے مصائب یہیں ختم نہیں ہو جاتے۔ سندھ کے ضلع دادو میں گزشتہ ماہ کان کے آپریشن کے لیے داخل ایک بچے کی آنکھ کا آپریشن کر دیا گیا۔ صوبائی اسمبلی میں ایک دن اس واقعے پر شور مچا۔ اس کے بعد کیا ہوا کسی کو نہیں معلوم۔ اس طرح کے موضوعات قومی غیرت اور حمیت کے احاطے میں نہیں لائے جاتے۔ ملکی سطح پر سنجیدہ گفتگو یا احتجاج کا موضوع آجکل یہ ہے کہ پاکستانی اداکارہ میرا نے ایک زیر تکمیل ہندوستانی فلم ’نظر‘میں قابل اعتراض مناظر فلم بند کرائے ہیں اور وہ بھی ایک ہندو لڑکے کے ساتھ۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||