BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 10 April, 2005, 17:35 GMT 22:35 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کیرل وائیٹوا سے پہلے

News image
کیتھولک عقیدے کے مطابق پاپائیت کے منصب پر فائز ہونے والا اس کرہِ ارض پر شریعتِ عیسوی کا نگہبان اور نائب المسیح ہوتا ہے۔گذشتہ دو ہزار برس کے دوران اس دنیا سے دو سو پینسٹھ پوپ گذر چکے ہیں۔ان میں سے ایک سو اڑتالیس روم کے سینٹ پیٹرز کیتھڈرل کے احاطے میں مدفون ہیں۔

ہر قدیم مذہبی ادارے کی طرح رومن کیتھولک چرچ کی تاریخ بھی اچھی بری مثالوں سے بھری ہوئی ہے۔ان میں پہلے پوپ اور حضرت عیسٰی کے حواری سینٹ پیٹر بھی ہیں جنہوں نے مسیحی واعظ یکجا کئے اور نئے مذہب کی اشاعت کے دوران ماریں کھائیں۔پاپائے اعظم سینٹ لئیو اول بھی تھے جنہوں نے شمالی افریقہ سے آنے والے فاتح ہنی بال سے مذاکرات کے بعد اسے روم پر حملہ کرنے سے باز رکھا۔ سینٹ گلاسئس بھی تھے جو افریقی نژاد ہوتے ہوئے پانچویں صدی میں پوپ کے منصب پر منتخب ہوئے۔سینٹ گریگری اول بھی تھے جنہوں نے ساتویں صدی میں گریگورین کیلنڈر ترتیب دیا اور شریعتِ مسیح کو منضبط کیا اور گریگری اعظم کہلائے۔لیکن انکے بعد جب عیسائیت دینوی کامیابیوں کے سبب مظلوموں کے بجائے اسٹیبلشمنٹ کا مذہب بننے لگی تو پاپائیت کے منصب کی روحانی اور سیاسی قوت بھی کئی گناہ بڑھ گئی اورچرچ نے عیسٰی کی بھیڑوں سے منہ موڑ کر اپنا رشتہ ظلم اور شاہی سے جوڑنا شروع کیا۔

دین اور دنیا کے اس گٹھ جوڑ کے نتیجے میں جو نظام وجود میں آیا وہ کچھ یوں تھا جس میں بچوں پر لازم تھا کہ وہ والدین کا ہر حکم بجا لائیں۔والدین پر پادری اور رزق دینے والے جاگیردار کی تعمیل لازم قرار پائی۔پادری بشپ کے رحم و کرم پر ہوگیا۔بشپ نے بادشاہ کے ساتھ گٹھ جوڑ کرکے جاگیریں اور قلعے حاصل کرلئے۔جبکہ بادشاہ بشپ کے توسط سے پاپائے روم کو جوابدہ بنا۔حالت یہ ہوئی کہ پوپ نہ صرف دین کا حتمی شارح قرار پایا بلکہ سب سے بڑا جاگیردار اور شہنشاہ بھی بن گیا۔مالی حالت سے قطع نظر ہر شخص پر لازم تھا کہ وہ اپنی آمدنی یا پیداوار کا دسواں حصہ چرچ کے سپرد کرے۔جاگیرداروں اور شاہی عملداروں کے عائد کردہ ٹیکس اسکے علاوہ تھے۔چنانچہ اس طاقتور ترین منصب کی کشش نے تاریخ میں وہ وہ مناظر دکھائے جو کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھے۔

مثلاً ساتویں صدی میں گریگری اعظم کے بعد کے ایک سو برس کے دورانئے میں اکیس پوپ قتل یا معزول ہوئے۔جس کا پلا بھاری ہوتا وہ بزور پوپ بن جاتا۔نویں صدی کے آخر میں جب سٹیون ششم خونریزہ رسہ کشی کے بعد پوپ بننے میں کامیاب ہوا تو اس نے اپنے پیشرو پوپ فارموسس کی لاش قبر سے نکال کر اس پر مقدمہ چلایا۔اسکی تین انگلیاں کاٹیں اور پھر اس لاش کو دریائے ٹائبر میں بہا دیا۔خود پوپ سٹیون کو کچھ عرصے بعد ہی اسکے مخالف گروہ نے تہہ خانے میں بند کرکے گلا گھونٹ کے ماردیا۔اسکے بعد کے آٹھ برس میں چھ پوپ بنے اور سب قتل ہوئے۔دسویں صدی کے شروع میں اپنے دو پیشرووں کو قتل کرنے والا سرگئس سوم پوپ بنا۔اس نے جنسی تعلق سے اجتناب کی چرچ کی روائت کو اس طرح پامال کیا کہ ایک شادی شدہ عورت تھئوڈورا اور اسکی بیٹی ماروزیہ کو داشتہ بنا لیا۔سرگئس کے مرنے کے بعد تھئوڈورا نئے پوپ جان دہم کی داشتہ رہی اور جان کے بعد جان یازدہم کے نام سے جو پوپ بنا وہ ویٹیکن کے سرکاری مجلے پونٹیفیکل بک کے مطابق سرگئس اور ماروزیہ کا ناجائز بیٹا تھا۔اس لحاظ سے ویٹیکن کل ملا کر تیس برس تک تھئوڈورا اور اسکی بیٹی ماروزیہ کے اثر میں رھا۔

دسویں صدی ہی میں پوپ بینیڈکٹ پنجم کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اسے ایک مشتعل ہجوم نے قسطنطیہ سے روم واپسی پر اس لئے قتل کرکے لاش سڑکوں پر گھسیٹی کیونکہ وہ ایک نوبیاہتا سے زیادتی کے بعد ویٹیکن کے خزانے سمیت کچھ عرصے کے لئے فرار ہو گیا تھا۔اسی طرح جولئس دوم کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انہوں نے کارڈینلز کو بھاری رقومات سے نواز کر پاپائیت کا منصب حاصل کیا۔جبکہ پندرہویں صدی کے ایک پوپ سکسٹیس چہارم نے مشہور مورخ ول ڈیوراں کے بقول روم کی چھ ہزار آٹھ سو طوائفوں کی آمدنی پر چرچ کے لئے ٹیکس لگا دیا اور انہیں کاروبار جاری رکھنے کی اجازت مل گئی۔سولہویں صدی کے ایک پوپ لئیو پنجم جنہوں نے پروٹسٹنٹ فرقے کی بنیاد رکھنے والے مارٹن لوتھر کو مرتد قرار دے دیا تھا۔انہوں نے ہر جرم سے بریت کی ایک قیمت مقرر کی۔بیس کراؤن کی چرچ کو ادائیگی کی صورت میں قتل سے بھی بریت مل سکتی تھی اور بریت کے سرٹیفیکیٹ کے بعد کوئی عدالت ملزم کو طلب نہیں کرسکتی تھی۔

چرچ نے ہر شعبہ زندگی پر اپنی استبدادی چھاپ رکھنے کی کوشش کی۔چرچ کی تعلیمات سے متصادم ہر کتاب اور تحریر راندہ درگاہ قرار پائی۔ گیارہویں صدی کے ایک پوپ سینٹ برنارڈ نے فتویٰ دیا کہ ہر وہ علم جس کا تعلق چرچ سے نہ ہو اسکا حصول ایک دین دشمن عمل ہے۔سترہویں صدی میں پوپ اربن ہشتم نے مشہورِ زمانہ اطالوی ماہرِ فلکیات گیلیلیو کو تامرگ قید کردیا کیونکہ گیلیلو نے اپنے اس نظرئیے سے دستبردار ہونے سے انکار کردیا کہ زمین کائنات کا مرکز نہیں بلکہ سورج کے گرد گھومتی ہے اور زمین چپٹی نہیں بلکہ گول ہے۔

پاپائیت کی کرسی پر بیٹھنے والوں نے نہ صرف بائبل کی تعلیمات کی اپنے عارضی مفادات کے تحت تشریح کی بلکہ اپنے پیشرووں کے بعض اچھے فیصلوں کو بھی بدلا۔مثلاً تیرھویں صدی میں اس دور کے سب سے بڑے ماہرِ قانون سینٹ تھامس ایکیوئنس نے غلامی کو ایک بدترین گناہ قرار دیا۔اس رائے کے برعکس پندرہرویں صدی کے ایک پوپ انوسنٹ ہشتم نے ہسپانوی بادشاہ فرڈیننڈ کی طرف سے بھیجے گئے ایک سو مورش غلاموں کا تحفہ قبول کیا اور انہیں اپنے کارڈینلز میں بانٹ دیا۔بعد میں سولہویں صدی کے ایک پوپ پال سوم نے غلامی کے خاتمے کے لئے تین واضح ترین فتوے جاری کئے۔اسکے باوجود اسپین اور پرتگال جیسی کیتھولک ریاستیں جہاز بھر بھر کر سیاہ فام غلام امریکی ساحلوں پر اتارتی رہیں اور اس منافع بخش کاروبار میں اس دور کے کئی پادری بھی شامل رہے۔اٹھارہ سو نوے میں کہیں جا کر کیتھولک چرچ نے غلاموں کی تجارت کو کسی بھی صورت میں جاری رکھنے کی ممانعت کی۔

بیسویں صدی کے کیتھولک چرچ پر سب سے بڑا الزام یہ عائد کیا جاتا ہے کہ وہ نسل پرست نازی نظریے کی مذمت کرنے سے انکاری رہا۔ انیس سو انتالیس سے انیس سو اٹھاون تک پاپائے روم کے منصب پر فائز پوپ پائس دوازدہم کا موقف یہ تھا کہ کیمونزم نازی ازم سے زیادہ خطرناک اور خراب نظریہ ہے۔

اس پس منظر میں جب انیس سو اناسی میں دو سو پینسٹھویں پوپ بننے والے پولش تھیٹر اداکار، ڈرامہ نویس، شاعر، فلاسفر ، کوہ پیما اور کارڈینل کیرل
وائٹیوا کے چھبیس سالہ دور کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات سمجھ میں آسکتی ہے کہ انکی وفات پر دنیا بھر میں وسیع پیمانے پر صدمے کا اظہار کیوں کیا گیا۔

کیرل وائٹیوا نے بطور پوپ اپنے خیالات کو کبھی گول مول شکل نہیں دی۔انہوں نے جہاں کیمونزم کو زاتی آزادی اور انفرادی ترقی کا حریف قرار دیا وہیں سرمایہ داری کو بھی سماجی انصاف کے وسیع تر حصول کی راہ میں ایک بڑی غیر مساویانہ رکاوٹ قرار دیا۔انہوں نے اقوامِ متحدہ کے پلیٹ فارم سے مطالبہ کیا کہ جنگ کی روائیت کو عالمی تنازعات کے حل کی فہرست سے خارج کیا جائے۔انہوں نے انیس سو اکیانوے کی جنگِ خلیج اور سن دوہزار تین میں عراق پر حملے کو ناجائز قرار دیا۔کیرل وائٹیلا نے انیس سو اکیاسی میں خود پر قاتلانہ حملہ کرنے والے ترک باشندے مہمت علی آغا کو جیل میں اسکی کوٹھڑی میں جا کر گلے لگا کر معاف کیا۔انہوں نے گیلیلیو سے چرچ کے سلوک کو ناجائز قرار دے کر ساڑہے چار سو برس بعد افسوس کا اظہار کیا۔انہوں نے یہودیوں پر عیسائیوں کے تاریخی مظالم اور انکی روک تھام میں چرچ کی ناکامی اور سیاہ فام افریقیوں کی غلامانہ خریدوفروخت پر چرچ کی معنی خیز خاموشی پر معافی مانگی۔وہ پہلے پوپ تھے جنہوں نے ایک سو انتیس ممالک کا دورہ کیا۔بین الامذہبی رواداری برتنے کی مسلسل بات کی اور پہلی مرتبہ کسی پوپ نے کسی مسجد اور یہودی معبد میں قدم رکھا۔

اس لئے سوگ ایک کیتھولک پوپ کے مرنے کا نہیں ہے۔سوگ عالمی ضمیر کے ایک نمائندہ چہرے کی کمی کا ہے۔

بات سے باتنیپال اور امریکی بچے
نیپال میں فوجی اقدامات پروسعت اللہ خان کا کالم
بات سے باتامریکی صدر کی باتیں
بش نے خطاب میں کیا کہا؟ وسعت اللہ خان
بات سے باتالقاعدہ کا قرضہ
کیا مسئلہ قرضے کا تھا؟ وسعت اللہ خان کا کالم
اسلامیہ کالج پشاورقومی غیرت وحمیت
پاکستان میں گفتگو کا موضوع : وسعت اللہ خان
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد