امریکہ یا ابنِ زیاد؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
نجف سے ملے ہوئے جڑواں شہر کوفہ کی جامعہ مسجد جہاں چوتھے خلیفہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ پر دورانِ نماز جان لیوا قاتلانہ حملہ ہوا تھا، اس جامعہ مسجد کے صحن میں حجاج بن یوسف نے اہل کوفہ کو خبردار کیا تھا کہ ’مجھے تمہاری داڑھیاں خون میں تر اور تمہارے سروں کی فصلیں کٹنے کے لئے تیار نظر آتی ہیں‘۔ میرے گائیڈ نے بتایا کہ مسجد اقصیٰ، خانہ کعبہ اور مسجد نبوی کے بعد کوفے کی جامعہ مسجد سب سے برگزیدہ مقام ہے جہاں حضرت آدم سے لے کر آخری نبی تک سب کا مصلیٰ موجود ہے۔ مسجد کے صحن میں واقع کنویں سے ہی طوفان نوح اٹھا تھا، اسی صحن میں حضرت علی عدالت لگاتے تھے، مسجد کی بائیں دیوار کے باہر حضرت امام حسین کے ایلچی مسلم بن عقیل کا مزار ہے جہاں نماز جمعہ ادا کرنے کے بعد نمازی ماتم ضرور کرتے ہیں۔ یہ وہی مسلم بن عقیل ہیں جو اہل کوفہ کے مہمان تھے مگر سرکاری دباؤ نے میزبانوں کے جذبہ میزبانی کو سرد کر دیا تھا اور اور مسلم بن عقیل کوفے میں ہی شہید کر دیئے گئے۔ ان کے مزار سے متصل مدرسے کے عالم شیخ مہدی عبدالصالح المجدد نے، اس سوال کے جواب میں کہ کیا چودہ سو برس گزرنے کے بعد بھی اہل کوفہ کو قتلِ عقیل پر کوئی پشیمانی ہے، کہا کہ ’ہمیں آج بھی مسلم بن عقیل کی شہادت کا نہایت صدمہ اور افسوس ہے اور جن لوگوں کو پشیمانی نہیں ہے ان کا شمار مسلم بن عقیل کے قاتلوں کے ساتھ ہی کیا جا سکتا ہے۔ جس زمانے میں یہ واقعہ پیش آیا تھا اس وقت کوفے میں بنی مغزوم کا قبیلہ آباد تھا مگر وہ لوگ خاصی مدت پہلے ہی یہاں سے جا چکے ہیں۔ اگر میں اس وقت موجود ہوتا تو یقیناً مسلم بن عقیل کا دفاع کرتے کرتے شہید ہو جاتا‘۔ مسلم بن عقیل کے مزار کے باہر ماتم کرنے والوں کے مجمعے کی نصف تعداد شیخ مہدی عبدالصالح کی بات کی تصدیق کی جبکہ باقی آدھے خاموشی سے گھیرا تنگ کئے کھڑے رہے۔ اسی مجمعے میں کھڑے اکنامکس اور بزنس منیجمنٹ کے ایک طالب علم نبیل کامل نے کوفیوں کی حمایت میں کہا کہ ’یہ بات درست نہیں ہے کہ کوفے کے لوگوں نے آمریت کی مزاحمت نہیں کی۔ انیس سو اسی کے عشرے میں کوفہ سمیت جنوبی عراق کے شیعہ شہروں میں صدام حکومت کے خلاف مزاحمتی تحریک چل رہی تھی مگر ذرائع ابلاغ کو اس کی کوئی پرواہ نہیں تھی۔ انیس سو اکیانوے میں آیت اللہ محمد باقر الصدر کی قیادت میں جب عوام اٹھ کھڑے ہوئے تو کوفہ کے لوگ بھی ان کے شانہ بشانہ تھے۔ لیکن باقی دنیا نے ان لوگوں کو اکیلا چھوڑ دیا اور تحریک کچل دی گئی‘۔ میں اس وقت کا ذکر کر رہا ہوں جب امریکیوں کو عراق فتح کئے بمشکل ایک مہینہ گزرا تھا تو مسلم بن عقیل کے مزار کے باہر جمع اس مجمعے میں شامل ایک شخص عارف عبدالرحمٰن الصلابی نے یہ قصہ سنایا کہ ’جب کوفہ کے لوگ امام حسین کو بلانا چاہ رہے تھے تو یہاں کے گورنر عبید اللہ ابن زیاد نے ایک روز یہ چالاکی کی کہ امام عالی مقام کا بھیس بدل کر مسجد میں بیٹھ گئے اور کچھ سادہ لوح لوگوں نے ان کے ہاتھ چومنا شروع کر دیئے۔ عبید اللہ ابن زیاد نے ان لوگوں کو یا تو قید کر لیا یا پھر ہلاک کر دیا۔ صدام حسین نے بھی یہی چالاکی دکھائی تھی کہ اپنا شجرہ نصب حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے جا ملایا تھا اور اب امریکہ ہمارے محسن کے بھیس میں سامنے آیا ہے۔ لیکن جو سادہ لوح اس دھوکے میں آ گئے ہیں وہ جلد جان جائیں گے کہ جو بھیس بدل کے آیا ہے وہ بھی عبید اللہ ابن زیاد ہے‘۔ عارف عبدالرحمٰن الصلابی کی یہ بات فلوجہ، کربلا، نجف اور اوت سے آنے والی خبروں کے پس منظر میں آج اور بھی زیادہ دلچسپ دکھائی دے رہی ہے کہ جو بھیس بدل کے آیا ہے وہ بھی عبید اللہ ابن زیاد ہی تو ہے۔۔۔۔۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||