BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بور فلم میں ڈرامہ!

عراق
عراقی شہر فلوجہ میں چودہ فروری کو ویلنٹائن ڈے کے موقع پر ایک چہار طرفہ مربوط کلاسیکی کارروائی کی شکل میں امریکی حمایت یافتہ عراقی انتظامیہ کو جو تحفہ ملا ہے، اس نے ایک بور ہوتی فلم میں نیا ڈرامہ پیدا کردیا ہے۔

خود کش بمبار حملوں کی سیریز جس کا نقطۂ عروج گزشتہ اگست میں بغداد میں اقوامِ متحدہ کے دفاتر پر حملہ بنا تھا، اُس کے بعد کے مسلسل حملوں نے اگرچہ یہ بات تو مسلّم کردی تھی کہ عراق اتحادیوں کے قابو میں نہیں آ رہا ہے لیکن ایک ہی طرز کے حملوں نے اکتاہٹ کا ماحول بھی پیدا کر دیا تھا۔ امریکی کہہ رہے تھے کہ قبضہ مخالف گروہ بزدلوں کا وہ ٹولہ ہے جسے فوجی اور شہری اہداف کی کوئی تمیز نہیں اور نہ ہی ان دہشت گردوں کے مقاصد واضح ہیں۔

صدام حسین کے پکڑے جانے تک مزاحمت کو اُنہی کے نام سے معنون کیا جاتا رہا۔ پھر یہ کہا گیا کہ عراق کی غیر یقینی صورتِ حال کو اصل میں القاعدہ اور دیگر غیر عراقی عناصر فروغِ دہشت گردی کے لئے استعمال کر رہے ہیں۔ خود ذرائع ابلاغ نے بھی ایک ہی طرز کے حملوں کی ایک ہی انداز میں رپورٹنگ کرتے کرتے جمائیاں لینی شروع کردی تھیں۔

لیکن فلوجہ میں چودہ فروری کو جس پیشہ ورانہ انداز میں سینکڑوں حملہ آوروں نے مربوط طریقے سے اپنا ہدف مکمل کیا وہ اس بات کا ثبوت ہے کہ عراقی مزاحمت اب ویت نام کی طرز پر منظم ہونے کے لئے کوشاں ہے۔ لیکن دیکھنے کی بات اب یہ ہوگی کہ فلوجہ کی کارروائی اپنی نوعیت کا ایک انفرادی واقعہ ہے یا پھر ایک نئے مزاحمتی پیٹرن کی ابتدا ہے۔

اگر گزشتہ چھ ماہ کے حملوں کا جائزہ لیا جاۓ تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ زیادہ تر کارروائیاں سنی اکثریتی وسطی عراق میں ہوئی ہیں۔ جبکہ جنوبی عراق کے شیعہ اکثریتی علاقوں میں مزاحمت اب تک احتجاجی جلوسوں اور جلسوں کی شکل میں سامنے آتی رہی ہے۔ ماہِ جون کے اواخر میں انتقالِ اقتدار کے امریکی منصوبے کی تکمیل تک احتجاجی مظاہروں کی شیعہ سیاست اور پرتشدد کارروائیوں پر مبنی سنی علاقے کی سیاست کے مابین اسی طرح سے کیا کوئی نقطۂ اتصال بن سکتا ہے جیسا انیس سو انیس سے بائیس تک برطانوی نوآبادیاتی قبضے کے خلاف بنا تھا۔ اس سوال کا جواب ہی مزاحمت کے مستقبل اور امریکی حکمتِ عملی میں کسی اہم تبدیلی کو طے کرے گا۔

جب انیس سو بائیس میں نئی عراقی ریاست تشکیل دی جا رہی تھی تو اس عمل میں شریک ایک برطانوی عملدار نے کہا تھا ’ایک عرب کو آپ کرائے پر تو لے سکتے ہیں مگر خرید نہیں سکتے‘۔

نہیں معلوم کہ امریکیوں کے کانوں تک تاریخ نے یہ جملہ پہنچایا یا نہیں۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد