BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 09 November, 2003, 18:33 GMT 23:33 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عام آدمی، مشکل بات

پاکستان کی موجودہ پارلیمان کے وجود میں آنے کا ایک سال مکمل ہوگیا
پاکستان کی موجودہ پارلیمان کے وجود میں آنے کا ایک سال مکمل ہوگیا

پاکستان کی موجودہ پارلیمان کے وجود میں آنے کے ایک سال کے بعد چاہے عام آدمی ہو، وزیراعظم ظفر اللہ جمالی ہوں، حزب اختلاف یا صدر پرویز مشرف، سب کا اس نکتے پر اتفاق ہے کہ پارلیمان اب تک توقعات پر پورا اترنے میں ناکام رہی ہے۔

گزشتہ ایک برس میں جتنے بھی اہم اقتصادی اور سیاسی فیصلے کیے گئے ان میں پارلیمان کا کوئی دخل نہیں رہا۔

حکمراں جماعت کی مخلوط حکومت کو حاصل مصنوعی اکثریت بھی پارلیمانی کاروبار کا جمود توڑنے میں ناکام رہی ہے۔

صدر اور وزیراعظم پارلیمان کی ناکامی کا ذمہ دار حزب اختلاف کی مسلسل ہٹ دھرمی کو قرار دیتے ہیں، حزب اختلاف جو کہ خود بھی بٹی ہوئی ہے پارلیمان کے نااہلی کا الزام صدر مملکت کے آمرانہ رویّے اور لیگل فریم ورک آرڈر کو قرار دیتی ہے۔

لیکن یہ الزام تراشی عام آدمی کے کسی کام کی نہیں۔ اسے اس اعلان سے کوئی خوشی نہیں ہوئی کہ پاکستان کے زر مبادلہ کہ ذخائر گیارہ ارب ڈالر سے زائد ہوچکے ہیں اور ایک ارب ڈالر کا قرضہ وقت سے قبل ہی واپس ہوچکا ہے۔

اسے تو بس یہی معلوم ہے کہ ایک سال پہلے بھی چودہ کروڑ میں سے پانچ کروڑ لوگ نہایت غربت میں تھے اور آج بھی ان کی تعداد اتنی ہی ہے۔

فرقہ واریت اور لاقانونیت میں جتنے لوگ ایک سال قبل مر رہے تھے آج بھی اتنے ہی مر رہے ہیں۔

انصاف کا حصول ایک سال پہلے بھی جتنا مشکل تھا آج بھی اتنا ہی مشکل ہے۔

معاشی اور سماجی عدم کے احساس میں بھی کوئی فرق نہیں پڑا۔ پہلے اس کی امیدوں کو یہ کہہ کر بڑھاوا دیا گیا تھا کہ اقتدار کی نچلی سطح پر تقسیم کا انقلابی نظام اس کی قسمت بدل کر رکھ دے گا۔ پھر اسے یہ امید دلائی گئی کہ جو خلاء باقی رہ گیا ہے وہ مرکز اور صوبوں میں منتخب حکومتیں آکر پورا کردیں گی۔

آج سب کچھ ہے لیکن کچھ بھی نہیں۔۔۔

اور اس خلاء کو بھرنے کے لیے اس طرح کی باتیں ہورہی ہیں کہ پاکستان عالم اسلام کا لیڈر ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اسے امریکہ کا مکمل اعتماد حاصل ہے اور قوموں کی برادری میں پاکستان نے اپنا کھویا ہوا وقار دوبارہ حاصل کرلیا ہے۔

پارلیمان کہاں سے طاقتور ہو۔ جب وزیراعظم کو بھی معلوم ہو کہ اس کی حیثیت ایک ’شو بوائے‘ سے زیادہ نہیں۔ حزب اختلاف کو بھی معلوم ہو کہ جو لائن کھینچ دی گئی ہے اس کہ اندر ہی کھیلنا ہے۔ صدر کو بھی معلوم ہو کہ کم از کم اندرون ملک تو کسی میں اتنا دم نہیں ہے کہ اس وقت ان کے لیے کوئی سنگین چیلنج بن سکے۔

اختیارات اور جمہوریت کبھی خیرات میں نہیں ملتے۔ انہیں حاصل کرنا پڑتا ہے۔ مگر یہ بات جتنی آسان ہے اتنی ہی مشکل بھی تو ہے۔۔۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد