BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 28 August, 2005, 10:01 GMT 15:01 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
دوہری شخصیت کا مسئلہ

 بھٹو
وولپرٹ کے مطابق بھٹو بھی دوہری شخصیت کے مالک تھے
ہم میں سے بے شمار لوگ نفسیاتی طور پر بٹی ہوئی شخصیت ہوتے ہیں جنہیں نفسیات کی زبان میں ’سپلٹ پرسنیلٹی‘ کہا جاتا ہے۔

یہ لوگ دوغلے نہیں ہوتے بس یہ ہوتا ہے کہ جس لمحے بٹی ہوئی شخصیت کا جو بھی پہلو غالب آجائے اسی کے حساب سے ان کا طرزِ عمل ہوتا ہے اور وہ اسے دل سے درست جانتے ہیں۔

مثلاً ذوالفقارعلی بھٹو کی سوانح عمری ’زلفی آف پاکستان‘ کے مصنف سٹینلے وولپرٹ نے بھٹو صاحب کے قریبی ساتھیوں سے بات چیت کے بعد یہ نتیجہ نکالا کہ جب ذوالفقار علی بھٹو غریبوں کی بات اور ان کی ہمدردی میں اقدامات کرتے تھے تو ان پر ان کی والدہ مرحومہ خورشید بیگم کی شخصیت غالب ہوتی تھی جن کے ساتھ ان کا بچپن تنہائی میں گزرا اور انہوں نے اپنی والدہ کی اداسی اور احساسِ عدم تحفظ کو اپنے اندر سمو لیا۔ لیکن جب ان پر اپنے والد سر شاہنواز بھٹو کی شخصیت غالب ہوتی تھی تو وہ کسی کی نہیں سنتے تھے اور مخالفین کو نیچا دکھانے کے لئے ہر ہتھکنڈا استعمال کرتے تھے۔

جس طرح کوئی فرد دوہری شخصیت کا شکار ہوسکتا ہے کیا گروہ، تنظیم اور ادارے بھی دوہرے تشخص میں مبتلا ہوسکتے ہیں۔

مثلاً اس بارے میں کیا کہا جائے کہ تقریباً ہر ادارہ اور تنظیم عورتوں کے برابری کے حقوق کا قائل ہے۔ سوائے اپنے گھرانے، خاندان اور برادری کی خواتین کے۔

بے نظیر بھٹو دل سے چاہتی ہیں کہ ملک میں ایک آدمی ایک ووٹ کی بنیاد پر آزادانہ جمہوری ماحول ہو لیکن کیا سیاسی جماعتوں کے اندر بھی یہی اصول لاگو ہونا چاہیے۔یہ سوال انہیں پارٹی کے خلاف ایک سازش نظر آتا ہے۔

صدر پرویز مشرف اکثر اس بات پر اداس ہوجاتے ہیں کہ انصاف عام آدمی کو اسکی دہلیز پر بلا رکاوٹ کیوں دستیاب نہیں ہے لیکن ان کی حکومت اس بات کی بھی قائل ہے کہ جن پانچ مجرموں کو صدر پر قاتلانہ حملے کے الزام میں سزائے موت سنائی گئی ہے ان پر کب اور کس عدالت میں مقدمہ چلا۔ یہ ظاہر کرنا بالکل ناانصافی نہیں ہے۔

جماعتِ اسلامی جس طرح اس بات کی پوری طرح قائل ہے کہ ملکی امور میں دین اور دینی جماعتوں کی بالادستی ہونی چاہئے اسی طرح وہ اس پر بھی قائل ہے کہ اپنی ہی اتحادی جماعت جمیعت علمائے اسلام کے خلاف سیکولر عوامی نیشنل پارٹی سے بلدیاتی انتخابی اتحاد ایک درست سیاسی عمل ہے۔

متحدہ قومی موومنٹ جس طرح پچھلے بلدیاتی انتخابی عمل میں اس لیے حصہ نہ لینے پر قائل تھی کہ حکومتی ایجنسیاں منصفانہ انتخاب کی راہ میں رکاوٹ ہیں بالکل اسی جوش کے ساتھ اب اس نے یہ کہہ کر حصہ لیا کہ یہ انتخابی عمل شفاف ہے۔

الیکشن کمیشن آف پاکستان یہ بھی تسلیم کرتا ہے کہ پرانے قومی شناختی کارڈ منسوخ ہوچکے ہیں اور نئے کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈ ہی جائز سرکاری دستاویز ہے لیکن کمیشن اس کا بھی قائل ہے کہ لوگ منسوخ شدہ شناختی کارڈ دکھا کر بھی ووٹ ڈال سکتے ہیں۔

نفسیات میں دوغلے پن کا علاج موجود ہے لیکن دوہری شخصیت کے مسئلے سے چھٹکارا پانے کا فی الحال کوئی شافی علاج نہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد