 |  مدرسوں میں زیر تعلیم طلباء کو ملک سے نکالنے کا فیصلہ صدر مشرف نے خود کیا ہے |
مئی دو ہزار کے بعدسے پاکستانی وزارتِ داخلہ ، وزارتِ خارجہ اور وزارتِ تعلیم نے پاکستان کے مذہبی مدارس کے وفاق کے ساتھ بیٹھ کر جو متفقہ فیصلے کئے وہ اس لمحے تک نافذ ہیں۔ ان فیصلوں کے مطابق کوئی بھی غیرملکی طالبِ علم اگرپاکستان کے کسی بھی رجسٹرڈ مدرسےمیں داخلہ لینا چاہتا ہےتو وہ اس مدرسے کے توسط سےپاکستانی وزارتِ داخلہ اور وزارتِ تعلیم کو بیک وقت اپنے کوائف بھیجےگا۔ جس کے بعد وزارتِ داخلہ اپنی ایجنسیوں کے ذریعے اس طالبِ علم کے کوائف کی چھان بین کرے گی اور اس چھان بین کی روشنی میں وزارتِ تعلیم ایک این او سی جاری کرے گی جسکے بعد وزارتِ داخلہ متعلقہ پاکستانی سفارتخانے کو ہدایت دے گی کہ مذکورہ طالبِ علم کو نوے روز کا ویزہ جاری کردیا جائے۔ لیکن یہ ویزا پاکستانی سفارتخانہ اسوقت تک جاری نہیں کرسکتا جب تک طالبِ علم کو اپنی حکومت کی طرف سے پاکستان جانے کے لئے این اوسی نہیں مل جاتا۔ یہ تمام مراحل طے کر کے اگر طالبِ علم پاکستان آنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو پھر اس کے ویزے کی مدت میں اسوقت تک ایک ایک سال کی توسیع ہوتی رہے گی جب تک وہ اپنا کورس مکمل نہیں کرلیتا۔اس کے بعد مدرسہ اس بات کا ذمہ دار ہوگا کہ یہ طالبِ علم تکمیلِ تعلیم کے فوراً بعد پاکستان چھوڑ دے۔  | سعودی حملہ آور اور امریکہ گیارہ ستمبر کے واقعات میں پندرہ سعودی ہائی جیکرز ملوث تھے لیکن آج تک حکومتِ امریکہ نے اپنے ہاں زیرِ تعلیم کسی نوجوان کو محض اس لئے امریکہ سے نہیں نکالا کہ وہ سعودی ہے۔ |
سات جولائی کے لندن بم دھماکوں میں ملوث چارمبینہ خودکش بمباروں میں سے تین پاکستانی نژاد برطانوی لڑکے بتائے جاتے ہیں لیکن حکومتِ برطانیہ نے اب تک یہ اعلان نہیں کیا کہ آئندہ کسی پاکستانی کو برطانیہ میں پڑھنے کی اجازت نہیں ہوگی یا اس وقت جو پاکستانی طلبا برطانیہ میں پڑھ رہے ہیں وہ فوراً یہاں سے نکل جائیں۔حکومتِ پاکستان نے اپنے ہی وضع کردہ طریقِ کار کے مطابق جن ڈیڑھ ہزار کے لگ بھگ طلبا کو ملک میں پڑھنے کی اجازت دی انہیں فوری طور پر بوریا بستر گول کرنے کو کہا گیا ہے حالانکہ ان میں سے کسی کا نام کسی بھی جرم میں کسی بھی تھانے میں کسی بھی ایف آئی آر میں درج نہیں ہے۔ تو کیا ان ڈیڑھ ہزار طلبا کے اپنی تعلیم نامکمل چھوڑ کر چلے جانے سے پاکستان ایک اعتدال پسند اور روشن خیال ملک فرض کرلیا کر لیا جائے گا؟ |