BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 03 July, 2005, 15:07 GMT 20:07 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کہ ہم غریب ہوئے ہیں

News image
اپنے بس کی بات ہی کیا ہے ہم سے کیا منواؤ گے
جس دنیا میں ہرسال پینتیس ارب ڈالر کا بوتل بند پانی پیا جاتا ہے اسی دنیا میں ایک ارب سے زائد افراد کو پینے کاصاف پانی میسر نہیں جبکہ انہیں صرف دس ارب ڈالر خرچ کرکے یہ سہولت مہیا کی جاسکتی ہے۔

یورپ سالانہ گیارہ ارب ڈالر کی آئس کریم کھا جاتا ہے لیکن دنیا کا ہر بچہ صرف ڈیڑھ بلین ڈالر کے ٹیکوں سے پانچ خطرناک بیماریوں سے محفوظ ہو سکتا ہے۔اس طرف کوئی دھیان نہیں دیتا۔

پالتو جانوروں کی خوراک پر شمالی امریکہ اور یورپ میں سالانہ سترہ ارب ڈالر خرچ ہوجاتے ہیں اور اسی دنیا میں کوئی ناکافی غذائیت اور بھک مری ختم کرنے کے لئے سالانہ انیس ارب ڈالر خرچ کرنے پر آمادہ نہیں۔

میک اپ اور پرفیومز پر ہم لوگ ہر برس تینتیس ارب ڈالر صرف کردیتے ہیں جبکہ افریقہ کو ایڈز، قحط اور خانہ جنگیوں کے شکار بے گھروں کی آبادکاری کے لئے ہر برس صرف پچیس ارب ڈالر کی ضرورت ہے۔لیکن افریقہ کو بہت ہی ایڑیاں رگڑنے کے بعد سالانہ اوسطاً بارہ ارب ڈالر کے لگ بھگ ہی میسر آتے ہیں۔

آپ اس موازنے سے بیزار ہوکر یہ کہہ سکتے ہیں کہ آخر ان اعدادوشمار کا مطلب کیا ہے۔کیا ہم بوتل بند منرل واٹر نہ پئیں۔ اپنے بچوں کو آئس کریم نہ کھلائیں۔ پرفیومز نہ لگائیں یا اپنے پالتو جانوروں کو کھانا نہ دیں انکا علاج نہ کرائیں۔اور یہ سب اگر ہم افورڈ کرسکتے ہیں تو آپ کو کیا تکلیف ہے۔آپ حکومتوں کو کیوں یہ وعظ نہیں دیتے کہ وہ اس دنیا کے غریب ملکوں کا خیال کریں۔

تو جناب حکومتوں کا یہ حال ہے کہ انیس سو ستر میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے ایک قرارداد میں امیر ملکوں سے درخواست کی کہ وہ زیادہ نہیں بس اپنی سالانہ قومی آمدنی کا اعشاریہ سات فیصد یعنی نصف فیصد سے کچھ زائد غریب ملکوں کے لئے وقف کردیں تو دنیا سکھ میں آجائےگی۔ آج پینتیس برس گزر گئے اور صرف چار ممالک یعنی سویڈن، ناروے، ھالینڈ اور لکسمبرگ کو ہی یہ توفیق ہوسکی کہ وہ اقوامِ متحدہ کے اس امدادی ھدف پر پورا اتر سکیں۔

دنیا کا سب سے طاقتور ملک امریکہ جو اس دنیا کے پچیس سے تیس فیصد تک وسائیل سالانہ استعمال کرتا ہے اپنی کل قومی آمدنی کے ایک فیصد کا بھی محض دسواں حصہ ترقی پزیر ممالک کو بطور امداد دیتا ہے اور وہ بھی اپنی شرائط پر۔

یوں سمجھ لیں کہ امریکہ دفاع پر اگر اڑتیس ڈالر خرچ کرتا ہے تو اسکے مقابلے میں غریب ملکوں کو صرف ایک ڈالر دیتا ہے۔

اس تناظر میں امیر ممالک کی جانب سے دنیا کے اٹھارہ غریب ترین ممالک پر واجب الادا چالیس ارب ڈالر کا قرضہ معاف کرنا ایسا ہی ہے جیسے کوئی تماش بین ایک رات میں مجرے پر تین لاکھ روپے لٹانے کے بعد گھر لوٹتے سمے باہر کھڑے فقیر کے ہاتھ پر خوش ہوکر دس روپے کا نوٹ دھردے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد