BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 19 June, 2005, 15:41 GMT 20:41 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ایک ضدی عورت

News image
اسے معلوم بھی نہ ہوگا کہ اس دنیا میں کتنے لوگ کہاں کہاں اور کیسے کیسے اسکی سالگرہ منا رہے ہیں۔

اسکے اعزاز میں آئرش گلوکار ڈیمئن رائس نے ایک گانا ریلیز کیا ہے۔برطانوی شہر ایڈنبرا نے اسے فریڈم آف ایڈنبرا کا اعلی ترین شہری اعزاز دیا ہے۔اب تک صرف نیلسن منڈیلا کو یہ اعزاز ملا تھا۔

جب انیس سو اکیانوے میں اس عورت کو نوبیل امن انعام ملا تو اس دن بھی وہ سٹاک ہوم سے ہزاروں میل دور اپنے گھر میں بند تھی اور نوبیل انعام کی تقریب میں یہ الفاظ گونج رہے تھے

’ اس خاتون کی تحریک حالیہ دھائیوں میں ایشیا میں جمہوری جدوجہد کی سب سے غیر معمولی مثال ہے‘۔

انیس جون کو اسکی ساٹھویں سالگرہ کے موقع پر اسکی نظربندی کو تین برس اور دوسو اڑتیس دن ہوگئے۔لیکن اپنے ہی ملک کی واحد مقبول ترین جمہوری رہنما ہونے کے باوجود اسکے گھر کے باہر نہ تو کوئی پھول رکھ پایا اور نہ ہی سالگرہ کا کارڈ۔

کہنے کو اسکے پاس ریڈیو، ٹی وی اور اخبار کی سہولت موجود ہے لیکن انکے زریعے وہ صرف سرکاری بھاشن ہی سن، دیکھ اور پڑھ سکتی ہے۔

بیرونی دنیا سے اسکا رابطہ دو معالجین کے توسط سے ہے۔لیکن یہ رابطہ بھی کیا۔انکو کبھی کبھار اس تک آنے کی اجازت ہے اور وہ بھی سنگین بردار فوجیوں کی موجودگی میں۔

اسکے گھر میں ایک ادھیڑ عمر ملازمہ اور اسکی بیٹی رہتے ہیں یہ دونوں ہی اسکا کھانا پکاتے ہیں اور صفائی ستھرائی کا خیال رکھتے ہیں۔اسکی جماعت نیشنل لیگ فار ڈیموکریسی کے دو کارکنوں کو صرف اتنی اجازت ہے کہ وہ سودا سلف خرید کر گیٹ کے باہر رکھ دیں جسے سنتری اندر پہنچادے۔

اگرچہ امریکہ اور یورپی یونین کی طرف سے اس عورت کی رھائی کے لئے دباؤ ڈالنے کی خاطر کئی برس سے فوجی جنتا پر تجارتی پابندیاں عائد ہیں۔تاہم جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کی تنظیم آسیان کو اس بات کی کوئی پرواہ نہیں کہ اسکے ایک رکن ملک میں کس طرح جمہوریت کا مستقل گلا گھونٹا جارہا ہے۔

چین اس فوجی جنتا کو سفارتی اور فوجی مدد فراہم کرتا ہے جبکہ تائیوان، ملائشیا، انڈونیشیا، سنگاپور اور تھائی لینڈ کے سرمایہ کار فوجی جنتا کی جیبیں گرم کرکے اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کررہے ہیں اور ملک کے معدنی اور جنگلاتی وسائل کو اونے پونے لوٹ رہے ہیں۔

امریکہ نے نہ تو اپنے ان مذکورہ حلیف ایشیائی ممالک پر فوجی جنتا سے اقتصادی تعاون روکنے کے لئے کوئی ٹھوس دباؤ ڈالا ہے بلکہ آج تک فوجی جنتا کو اس عورت کی رھائی کے لئے کوئی الٹی میٹم جاری کیا ہے۔

کسی کو یہ خیال بھی نہیں آیا کہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے سامنے اس عورت کی آزادی کا کیس پیش کرسکے جسے جمہوریت کی شمع کہتے کہتے سلامتی کونسل کے ارکان کی زبان نہیں تھکتی۔

اس عورت کی بدقسمتی یہ ہے کہ نہ تو اسکے ملک میں تیل کے چشمے بہتے ہیں۔نہ یہ ملک جغرافیائی اعتبار سے ایسی جگہ پر ہے جو مغربی مفادات کے لئے اہم ہو۔نہ ہی یہاں کی فوجی جنتا سے کسی کو ایٹمی خطرہ لاحق ہے ۔اور تو اور القاعدہ والے بھی یہاں رہنا پسند نہیں کرتے۔

اس لئے یہ لڑائی اس دبلی پتلی ساٹھ سالہ ضدی عورت کو بطور ون وومین آرمی اپنے ہی ملک کے فوجی جنرلوں سے تنِ تنہا لڑنی ہے۔

فلک کو ضد ہے جہاں بجلیاں گرانے کی
ہمیں بھی ضد ہے وہیں آشیاں بنانے کی

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد