اور صرف شاعر تو | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حکومتِ پاکستان نے اعتراف کیا ہے کہ بین الاقوامی شہرت یافتہ شاعر احمد فراز ہلالِ امتیاز نے نیشنل بک فاؤنڈیشن کے سربراہ کے طور پر اپنے دس سالہ دور میں ادارے کو خسارے سے نکال کر ایک منافع بخش فاؤنڈیشن میں تبدیل کردیا۔ مگر حکومتِ پاکستان کو چونکہ اس بات کا بھی پورا احساس ہے کہ تہتر سالہ احمد فراز کو طویل العمری اور خرابی صحت کے سبب اب آرام کی ضرورت ہے اس لئے انسانی ہمدردی کے جذبے کے تحت انہیں بادلِ نخواستہ فوری طور پر سبکدوش کیا جاتا ہے۔حالانکہ انہیں سابق بے نظیر حکومت نے اس عہدے پر مقرر کیا تھا اور ایک نگراں وزیرِ اعظم ملک معراج خالد نے انکی تقرری کے کنٹریکٹ میں لامحدود مدت تک کے لئے توسیع کردی تھی۔ احمد فراز کا کہنا ہے کہ انہیں خرابی صحت سے زیادہ حالیہ دنوں میں فوج کے سیاسی کردار پر ناقدانہ گفتگو کے ردِ عمل میں سبکدوش کیا گیا ہے۔ چند ماہ قبل جب فراز ہنوز نیشنل بک فاؤنڈیشن کے چیرمین تھے انکا سامان اچانک گھر سے باہر نکال کر سڑک پر رکھ دیا گیا تھا اس تجربے کے بعد بھی فراز جیسا جہاندیدہ شاعر اپنی ضعیف العمری کے سبب دو باتیں یاد نہ رکھ سکا۔ ایک یہ کہ پاکستان میں خرابی صحت اور طویل العمری کے سبب سبکدوشی کے اصول کا اطلاق ہر سرکاری ملازم پر ہوتا ہے سوائے ان حاضر و سابق فوجی افسروں کے جو کارپوریشنوں کے سربراہ بنائے گئے ہیں یا کنٹریکٹ کی بنیاد پر مختلف سرکاری و نیم سرکاری محکموں بشمول وزارتِ خارجہ میں اہم خدمات انجام دے رہے ہیں۔ دوم یہ کہ فراز کو بارہ اکتوبر انیس سو ننانوے کے کوئی چھ برس بعد یاد آیا کہ فوج کا سیاسی کردار برا ہوتا ہے۔حالانکہ سابق فوجی حکمراں جنرل ضیاالحق کا دور شروع ہوتے ہی نسبتاً جواں سال فراز کو یاد آگیا تھا کہ فوج کا بار بار اقتدار پر قبضہ کرنا کتنا برا ہوتا ہے۔ چنانچہ اے فراز شکوہء ظلمتِ شب سے تو کہیں بہتر تھا حکومتِ پاکستان نے احمد فراز کی جگہ اکیڈمی آف لیٹرز کے سربراہ افتخارعارف کو نیشنل بک فاؤنڈیشن کا اضافی چارج دے دیا ہے تم بھی افتخار عارف بارہویں کھلاڑی ہو |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||