ابے انگریز کے بچو | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
میٹرک کے امتحان سے کالج میں داخلے تک کا درمیانی عرصہ ایک عجیب و غریب معلق سا دور ہوتا ہے جس میں یہ سمجھ میں نہیں آتا کہ ابھی کیا کرنا ہے اور آئندہ کیا کرنا ہے۔ جب یہ دور مجھ پر آیا تو کسی نے مشورہ دیا کہ لیور برادرز کی صابن، گھی اور مرغیوں کی خوراک بنانے والی فیکٹری میں عارضی نوکری کرلو۔ بات دل کو لگی اور اگلے دن صبح صبح میں لیوربرادرز کے مین گیٹ پر عارضی مزدوروں کی قطار میں جا کر کھڑا ہوگیا۔ قطار میں زیادہ تر پختہ عمر کے لوگ تھے جبکہ مجھ سمیت چودہ پندرہ برس عمر کے تین چار بچے بھی کھڑے تھے۔ مقررہ وقت پر گیٹ کھلا اور ٹھیکیدار کو اس دن جتنے مزدوروں کی ضرورت تھی اس نے گن کر اندر بلا لئے اور باقیوں سے کہا گیا کہ وہ کل قسمت آزمائی کریں۔ اندر بلائے جانے والے خوش قسمت مزدوروں میں ہم تین بچے بھی تھے جنہیں ایک فیکٹری سپروائزر کے حوالے کردیا گیا اور وہ ہمیں صابن بنانے والے پلانٹ پر لے گیا اور ہمیں فرش پر بکھرے صابن بنانے والے کاسٹک سوڈے کا پانی اور بڑے بڑے جھاگ مسلسل نالی میں ڈالنے کے لئے ایک ایک بڑی جھاڑو تھما دی۔ کاسٹک سوڈے کے جھاگوں سے جو مرغولے سے اٹھتے تھے ان سے آنکھیں جلتی تھیں۔اور جب یہ جھاگ اور پانی ہاتھوں پیروں کو چھوتا تھا تو ایسا لگتا تھا جیسے گوشت کٹ رہا ہو۔لیکن ہمیں کمر سیدھی کرنے کے لئے ہر دو گھنٹے بعد پندرہ منٹ کا وقفہ ملتا تھا۔ باقی وقت ہم مسلسل بڑے بڑے ٹینکوں سے ابل ابل کر فرش پر گرنے والے کاسٹک سوڈے کو تیز دھار پانی اور جھاڑو سے نالی میں ڈالتے رہتے۔ ایک دن ہم مزدوروں نے سپر وائزر سے کہا کہ کیا ہاتھ پیروں کو بچانے کے لئے لانگ بوٹ اور دستانے مل سکتے ہیں۔کہنے لگا ابے انگریز کے بچو اگر اتنے ہی نازک تھے تو یہاں آنے کی کیا ضرورت تھی۔گھر میں اماں کے کلیجے سے لگ کر کیوں نہیں بیٹھ گئے۔بڑے آئے دستانے اور بوٹ دے دو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شام کو پھر آٹھ گھنٹے کی شفٹ کے بعد ٹھیکیدار کے کمرے کے باہر دھاڑی وصول کرنے کے لئے قطار میں لگنا پڑتا اور وہ گن کر نو روپے پچاس پیسے کی دھاڑی دے دیتا۔ یہ نوکری میں نے کوئی چار ماہ کی۔کہیں بعد میں جا کر معلوم ہوا کہ ٹھیکیدار لیور برادرز سے فی مزدور پندرہ روپے وصول کرتا تھا اور اس میں سے ہمیں ساڑھے نو روپے دیتا تھا۔ اگر آج سے انتیس سال پہلے ایک ملٹی نیشنل کارخانے کے یہ حالات تھے تو پھر دیسی فیکٹریوں، اینٹ بنانے والے بھٹوں اور ورکشاپوں میں مجبوراً کام کرنے والے لاکھوں بڑے اور چھوٹے مزدوروں کی کیا بات ہو۔ جنہیں اور جن کے مالکان کو معلوم بھی نہ ہوگا کہ بارہ جون محنت کش بچوں کا عالمی دن ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||