تباہ کن خام مال | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بارہ سے بیس بائیس برس تک کی عمر کو بالی عمریا اس لئے تصور کیا جاتا ہے کہ اس دور میں ہوش پر جوش غالب ہوتا ہے۔ یہی وہ عمر ہے جس میں بچے اس ریموٹ کنٹرولڈ کھلونے کی طرح ہوتے ہیں جن کا رخ انہیں چلانے والا کسی جانب بھی موڑ سکتا ہے۔ ایک رحجان سازاستاد اس نوعمر کو مصور، کھلاڑی، لکھاری اور موسیقار میں بھی بدل سکتا ہے یا اس نوحیزخام مال سے ایک خودکش بمبار بھی تیار کرسکتا ہے۔ آپ نے شائد ہی کبھی یہ سنا ہو کہ کوئی تیس پینتیس برس کا آدمی خودکش بمبار بن گیا ہو بھلے اسکا تعلق القاعدہ سے ہو، تامل ٹائیگرز سے یا فلسطین سے۔ یہ کم و بیش اتنا ہی مشکل ہے جس طرح بوڑھے طوطے کو پڑھانا یا درخت میں قلم لگانا یا منعقہ سے انگور بنانا ۔ خودکش بمبار بنانے کے لئے صرف سازگار حالات ہی نہیں بلکہ کچا ذہن اور جوانی کے جوش کا میٹیریل بھی اشد ضروری ہے۔ تاکہ اگر اسے آدھی تصویر بھی دکھائی جائے تو وہ اسے مکمل تصویر کے طور پر دیکھے اور پلٹ کر سوال نہ کرے۔ اسے یہ بتانا تو ضروری سمجھا جاتا ہے کہ یہ دنیا دارالسلام اور دارالکفر ہونے کے ناطے دارالحرب ہے۔لیکن اسے شائد یہ بتانا ضروری نہیں سمجھا جاتا کہ جائز ہدف کی کیا تعریف ہے اور ناجائز ہدف کسے کہتے ہیں۔عورتوں، بچوں، بوڑھوں یا عام لوگوں کا حملے کی زد میں آنا حلال ہے یا حرام۔ خودکش بمبار کا انسٹرکٹر اسے یہ تو بتاتا ہوگا کہ ظلم روکنے کے لئے جان و مال کی قربانی کس قدر ضروری ہے۔لیکن یہ بتانا شائد ضروری نہ سمجھا جاتا ہو کہ علم کے حصول میں غفلت کتنا بڑا ظلم ہے اور حصولِ علم میں زندگی لگانا اور علم کی بنیاد پر عمل کی مذہب میں کس قدر سخت تاکید ہے۔ یہ راز خودکش بمبار تیار کرنے والوں سے بہتر کون جانتا ہے کہ زیرِ تربیت ذہنوں کو آدھے سچ سے روشناس کرا کے خیانتِ علم کرنا بھی اتنا ہی سنگین ظلم ہے جتنا کہ وہ ظلم کے جس سے ٹکرانے کے لئے خودکش بمبار تیار کئے جاتے ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||