BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 17 July, 2005, 07:12 GMT 12:12 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
تباہ کن خام مال

لندن کا خودکش بمبار شہزاد نتویر
بارہ سے بیس بائیس برس تک کی عمر کو بالی عمریا اس لئے تصور کیا جاتا ہے کہ اس دور میں ہوش پر جوش غالب ہوتا ہے۔ یہی وہ عمر ہے جس میں بچے اس ریموٹ کنٹرولڈ کھلونے کی طرح ہوتے ہیں جن کا رخ انہیں چلانے والا کسی جانب بھی موڑ سکتا ہے۔ ایک رحجان سازاستاد اس نوعمر کو مصور، کھلاڑی، لکھاری اور موسیقار میں بھی بدل سکتا ہے یا اس نوحیزخام مال سے ایک خودکش بمبار بھی تیار کرسکتا ہے۔

آپ نے شائد ہی کبھی یہ سنا ہو کہ کوئی تیس پینتیس برس کا آدمی خودکش بمبار بن گیا ہو بھلے اسکا تعلق القاعدہ سے ہو، تامل ٹائیگرز سے یا فلسطین سے۔ یہ کم و بیش اتنا ہی مشکل ہے جس طرح بوڑھے طوطے کو پڑھانا یا درخت میں قلم لگانا یا منعقہ سے انگور بنانا ۔

خودکش بمبار بنانے کے لئے صرف سازگار حالات ہی نہیں بلکہ کچا ذہن اور جوانی کے جوش کا میٹیریل بھی اشد ضروری ہے۔ تاکہ اگر اسے آدھی تصویر بھی دکھائی جائے تو وہ اسے مکمل تصویر کے طور پر دیکھے اور پلٹ کر سوال نہ کرے۔

 زیرِ تربیت ذہنوں کو آدھے سچ سے روشناس کرا کے خیانتِ علم کرنا بھی اتنا ہی سنگین ظلم ہے جتنا کہ وہ ظلم کے جس سے ٹکرانے کے لئے خودکش بمبار تیار کئے جاتے ہیں
مثلاً بطورخودکش بمبار تیار ہونے والے لڑکے یا لڑکی کو یہ بتانا تو ضروری ہے کہ اسکا ہدف کس طرح کا دشمن ہے اور اسے ختم کرنا نہ صرف جہاد ہے بلکہ اسکا اجر جنت ہے۔ لیکن اس لڑکے یا لڑکی کو یہ بتانا شائد ضروری نہ ہو کہ تصورِ جہاد جارحانہ نہیں دفاعی ہے۔ وگرنہ کم از کم اپنے ہی ہم مذہبوں کی عبادت گاہوں، درگاہوں یا اجتماعات پر خودکش حملے نہ ہوتے۔ان نوجوانوں کو یہ تو بتایا جاتا ہے کہ جنت تلواروں کے سائے تلے ہے لیکن کیا اس سے بھی آگاہ کیا جاتا ہے کہ جنت ماں کے قدموں میں بھی مل سکتی ہے۔

اسے یہ بتانا تو ضروری سمجھا جاتا ہے کہ یہ دنیا دارالسلام اور دارالکفر ہونے کے ناطے دارالحرب ہے۔لیکن اسے شائد یہ بتانا ضروری نہیں سمجھا جاتا کہ جائز ہدف کی کیا تعریف ہے اور ناجائز ہدف کسے کہتے ہیں۔عورتوں، بچوں، بوڑھوں یا عام لوگوں کا حملے کی زد میں آنا حلال ہے یا حرام۔

خودکش بمبار کا انسٹرکٹر اسے یہ تو بتاتا ہوگا کہ ظلم روکنے کے لئے جان و مال کی قربانی کس قدر ضروری ہے۔لیکن یہ بتانا شائد ضروری نہ سمجھا جاتا ہو کہ علم کے حصول میں غفلت کتنا بڑا ظلم ہے اور حصولِ علم میں زندگی لگانا اور علم کی بنیاد پر عمل کی مذہب میں کس قدر سخت تاکید ہے۔

یہ راز خودکش بمبار تیار کرنے والوں سے بہتر کون جانتا ہے کہ زیرِ تربیت ذہنوں کو آدھے سچ سے روشناس کرا کے خیانتِ علم کرنا بھی اتنا ہی سنگین ظلم ہے جتنا کہ وہ ظلم کے جس سے ٹکرانے کے لئے خودکش بمبار تیار کئے جاتے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد