تیس نمبر بس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان کے صوبہ ارزگان کی بستی ڈیرہ وود میں محمد انور کے گھر بارات کے استقبال کے انتظامات تقریباً مکمل ہیں۔جن بچوں کو کچھ دیر پہلے ماؤں نے نہلا دھلا کر صاف ستھرے کپڑے پہنائے تھے انہوں نے حجرے کے باہر مٹی میں کھیل کھیل میں ایک دوسرے کے پیچھے بھاگ بھاگ کر خود کو بھوت بنالیا۔ لیجئے بارات کی آمد کے آثار نمایاں ہورہے ہیں۔ کچھ من چلے باراتیوں نے خوشی میں کلاشنکوف سے ہوا میں برسٹ فائر کرکے اپنی موجودگی کا اعلان کیا۔ کچھ دیر بعد محمد انور ہر باراتی سے معانقہ کرکے ایک ایک سے فرشی نشست پر بیٹھنے کی درخواست کرے گا اور اسکے حجرے کا دالان چمکدار واسکٹوں اور اکڑے ہوئے پگڑی کے شملوں سے بھر جائےگا۔ اچانک ایک گڑگڑاھٹ کے ساتھ دو طیارے نمودار ہوئے۔جب زمیں شکن دھماکوں کی گرد بیٹھی تو حجرہ ملبے کا ڈھیر بن چکا تھا۔میدان میں خون کے دھبے اور بکھرے ہوئے گوشت کے لوتھڑے تھے۔چالیس عورتیں، مرد اور بچے مر گئے اور نوے سے زائد زخمی ہوئے۔ آئیے بغداد سے پچاس کیلومیٹر دور محمودیہ قصبے کا رخ کریں جہاں پینتیس سالہ زھیر پچھلے پانچ برس سے سول انجینئر ہونے کے باوجود مسلسل بے روزگاری کاٹ رھا تھا۔آج صبح وہ ایک جاننے والے کی گاڑی میں لفٹ لے کر بغداد پہنچا جہاں ان دنوں بے روزگار نوجوانوں کے پاس ایک ہی راستہ ہے ۔یعنی پولیس میں بطور رنگروٹ بھرتی۔ زھیر بھی اپنی اسناد اور تجربے کے سرٹیفیکیٹس کی فائل لئے پولیس بھرتی مرکز کے باہر موجود بے روزگاری کی طویل قطار میں لگ گیا۔ ٹریفک معمول کے مطابق ہے۔آس پاس پولیس کی چند گاڑیاں اور شہریوں کی کاریں کھڑی ہیں۔اب زھیر اور درخواست وصول کرنے والے کلرک کے درمیان صرف تین امیدوار حائل ہیں۔اچانک سڑک پر جاتی ہوئی ایک کار نوے کا زاویہ بناتی ہوئی قطار چیر کر بھرتی مرکز کی دیوار سے جا ٹکرائی اور ایک سرخ گولے میں تبدیل ہو کر ہوا میں اٹھ گئی۔زھیر سمیت چھبیس بے روزگار عراقی ایک لمحے میں بے روزگاری اور زندگی کے جھمیلے سے آزاد ہوگئے۔کل پھر ایک ایسی ہی قطار ایک اور پولیس بھرتی مرکز کے باہر بن جائے گی۔ اور یہ لندن ہے۔جمعرات سات جولائی کی صبح میں بھی کرسٹی کے لئے کوئی نئ بات نہیں۔وہ جاگنے کے باوجود اسوقت تک بستر سے نہیں اٹھتی جب تک اسے یہ یقین نہ ہوجائے کہ اب وہ واقعی دفتر سے لیٹ ہوجائے گی۔کپڑے بدلتے ہوئے اس نے چائے بنائی اور جسوقت وہ تیس نمبر بس میں سوار ہونے اسٹاپ تک پہنچی بمشکل اپنے بال ہی سیدھے کرپائی تھی۔خیر لپ اسٹک اور کومپیکٹ پاؤڈر تو ہمیشہ ہی ہینڈ بیگ میں ہوتا ہے اور عموماً سفر کے دوران ہی لگانے کا موقع نصیب ہوتا ہے۔ کرسٹی کو سفر کرتے ہوئے پچیس منٹ ہو چلے ہیں۔کوئی سات منٹ بعد وہ اپنی ڈیسک پر ہوگی۔اچانک اسے خیال آتا ہے کہ دفتری کام کی زیادتی کے سبب وہ شائید آج بھی ماں سے ملنے نہ جاسکے ۔اس نے موبائیل پر ماں کا نمبر ڈائل کرنا شروع کیا۔ایک زوردار دھماکہ ہوا۔اسکے بعد کیا ہوا۔کرسٹی کو اب کبھی پتہ نہ چل پائے گا۔ صوبہ ارزگان کا ڈیرہ وود ، وسطی بغداد کا پولیس بھرتی مرکز اور لندن کی تیس نمبر بس۔کیا فرق ہے ان تینوں میں ؟ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||