 |  بیک اپ سپورٹ کے طور پر فوج سے منسلک ادارے صنعت اور رئیل اسٹیٹ کے کاروبار میں سب سے بڑا گروپ ہیں۔ |
آپ کو یاد ہوگا کہ چند ماہ پہلے بحیرہ عرب میں فائبر آپٹک کیبل کے نظام میں نقص پیدا ہونے سے پاکستان کے ٹیلی مواصلاتی شعبے سے منسلک تجارتی اور کاروباری اداروں کو کروڑوں ڈالر کا نقصان برداشت کرنا پڑا تھا۔اسوقت ٹیلی مواصلاتی ماہرین کی بنیادی شکایت یہ تھی کہ اگر اس فائبر آپٹک نظام کا کوئی متبادل ہنگامی انتظام یا بیک اپ سپورٹ ہوتی تو وقت کے ضیاع اور مالی نقصان سے بچا جاسکتا تھا۔ ہمارا اپنا خیال یہ ہے کہ پاکستان جہاں زندگی پر اثرانداز ہونے والے ہر اہم شعبے میں بیک اپ سپورٹ کا نظام موجود ہے فائبرآپٹک نظام کا ہنگامی متبادل شائد اسلئے بروقت قائم نہیں ہو پایا کیونکہ یہ شعبہ نسبتاً نیا ہے۔ مثلاً سیاسی نظام کو ہی لیجئے جو کسی بھی سماج یا ملک کو رواں رکھنے کے لئے ریڑھ کی ہڈی ہوتا ہے۔اگر سویلین سیاسی سیٹ اپ ناکام ہوجائے تو متبادل کے طور پر فوج حکومت اپنے ہاتھ میں لے لیتی ہے۔اگر پارلیمانی نظام ناکام ہوجائے تو بیک اپ سپورٹ کے طور پر ساری فائلیں اور فیصلے ایوانِ صدر منتقل ہوجاتے ہیں۔بلکہ اکثر یوں محسوس ہوتا ہے جیسے پارلیمانی نظام اصل میں صدارتی نظام کی بیک اپ سپورٹ کے لئے بنایا گیا ہے۔ اسی طرح جماعتی نظام کی بیک اپ سپورٹ کے لئے غیر جماعتی نظام موجود ہے۔اور پارلیمنٹ اور بلدیاتی اداروں کی صورت میں دونوں نظام ایک ہی سیاسی سیٹ اپ میں کامیابی سے کام کررہے ہیں۔ جہاں تک عدالتی نظام ہے تو اینگلو سیکسن روایت کے تحت قائم عدلیہ کی مدد کے لئے شرعی عدالتی نظام اور جرگہ سسٹم کی شکل میں ڈبل بیک اپ سپورٹ مہیا ہے۔ باقی دنیا میں روزمرہ صنعتی، مالیاتی اور تعمیراتی شعبے پبلک یا پرائیویٹ سیکٹر کی شکل میں سویلینز کے ہاتھوں میں ہوتے ہیں لیکن پاکستان میں فوج کے فرائض میں چونکہ ملک کی نظریاتی اور جغرافیائی سرحدوں کے تحفظ کے ساتھ ساتھ ملکی تعمیرِ نو کی زمہ داری بھی شامل ہے اس لئے فوج کو مجبوراً ان شعبوں کو رواں رکھنے کے لئے بھی کام کرنا پڑتا ہے۔اسوقت بیک اپ سپورٹ کے طور پر فوج سے منسلک ادارے صنعت اور رئیل اسٹیٹ کے کاروبار میں سب سے بڑا گروپ ہیں۔ جہاں بیک اپ سپورٹ کا یہ عالم ہو وہاں سیاست، انصاف اور معیشت کا انتظام کبھی بھی جامد نہیں رہ سکتا- |