BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کن ٹوٹا

 پاک فوج
سوویت یونین کو افغانستان سے نکالنے کے کام میں پاکستان اکیلا نہیں تھا۔ پاکستان صرف وسائل کی ترسیل اور دیکھ بھال کا ذمہ دار تھا۔ مالی بار مغرب اور اسکے تیل پیدا کرنے والے اتحادی ممالک نے اٹھا رکھا تھا بالخصوص مجاہدین کے لیے سعودی عرب ہر ایک امریکی ڈالر کے بدلے ایک پیٹرو ڈالر دینے کا وعدہ پابند رہا یعنی مجاہدین کو جہادِ افغانستان جاری رکھنے کے لیے تقریباً دس برس تک ہر سال اوسطاً چھ سوملین ڈالر کی جو امداد میسر رہی اس میں تین سو ملین امریکہ کے اور تین سو ملین سعودی عرب کے ڈالر تھے۔

مصر کی ذمہ داری یہ تھی کہ وہ اپنا متروک روسی ساختہ اسلحہ نقد قیمت پر سی آئی اے کے توسط سے افغان مجاہدین کو بھیجے تاکہ روسیوں کو یہ کہنے کا موقع نہ مل سکے کہ یہ انقلاب دشمن رجعت پسند کرائے کے امریکی ٹٹو ہیں۔اس مد میں چین نے بھی اپنا متروک روسی ساختہ اسلحہ مجاہدین کو مہیا کیا۔

برطانوی انٹیلی جینس ایم ائی سکس کی ذمہ داری یہ تھی کہ وہ مجاہدین کو سوویت گن شپ ہیلی کاپٹر گرانے کے لیے کاندھے سے فائر کرنے والے بلوپائپ میزائیل چلانے کی تربیت دے۔ بعد میں اس بلوپائپ کی جگہ امریکی ساختہ اسٹرنگر نے لے لی۔

گلبدین حکمتیار ، برہان الدین ربانی اور صبغت اللہ مجددی جیسے جید مجاہد رہنماؤں کو واشنگٹن میں مدعو کیا جاتا رہا۔ تاکہ وہ ایک ملحد سپرپاور سے جہاد کے فضائل پر میڈیا کے توسط سے عام امریکی کی روح گرمائیں۔

سن اسی کی دھائی میں پشاور کے یونیورسٹی ٹاؤن کی تقریباً ہرگلی میں طرح طرح کی عرب فلاحی تنظیموں کے دفاتر کھلے ہوئے تھے۔ جنہیں کویت، قطر اور متحدہ عرب امارات کے مخیر حضرات اور حکومتوں سے بھاری مالی مدد اور وسائل مہیا ہورہے تھے تاکہ یہ تنظیمیں نہ صرف دنیا کے کونے کونے سے جمع ہونے والے مہمان جہادی رضاکاروں کا خیال رکھیں بلکہ انکے اہلِ خانہ کی بھی خبرگیری کریں۔

یہ تمام انفرادی اور اجتماعی کردار جہادی مشینری کو رواں رکھنے میں اتنے ہی اہم تھے جتنی کہ آئی ایس آئی۔

لیکن پھر یہ کیسے ہوا کہ یہ سب کردار دو دبے پاؤں دامن آلودہ کیے بغیر افغان تھیٹر سے باہر نکل آئے اور پاکستان وہیں بیٹھا رہ گیا۔

اعتدال پسند روشن خیال امیج بنانے کی خواہش اپنی جگہ لیکن اس کا تعین کیسے ہوگا کہ پاکستان کو وہ کن ٹوٹا پہلوان بنانے کا ذمہ دار کون ہے جسے شہر میں ہونے والی ہر واردات کے بعد تھانے میں طلب کرلیا جاتا ہے۔ کیونکہ تھانیدار کو یقین ہوتا ہے کہ اگر یہ کن ٹوٹا واردات میں ملوث نہیں بھی ہے تب بھی اسے یہ تو ضرور ہی پتہ ہوگا کہ کون کون ملوث ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد