وہ ایک دن | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
چودہ اگست انیس سو سینتالیس کے دن مشرقی پاکستان کا بنگالی، مغربی پاکستان کا پٹھان، بلوچ، سندھی، پنجابی، سرائیکی، کھوکھراپار اور واہگہ پار کرنے والا مہاجر، سیالکوٹ میں بسنے والا عیسائی، لاہور میں مقیم احمدی اور تھرپارکر کا ہندو ایک آزاد ملک کے برابر کے شہری تھے۔ اس روز کسی مسلمان فرقے نے دوسرے ہم مذہب فرقے کو دائرہ اسلام سے خارج کرکے نہ تو اس سے نکاح حرام قرار دیا اور نہ ہی اسکے جوشیلے ماننے والوں نے دیواروں پر کافر کافر کی چاکنگ کی اور نوآزاد ملک کے طول و عرض میں کسی عبادت گاہ یا مذہبی اجتماع میں کوئی بم بھی نہیں پھٹا۔ تقسیم کے نتیجے میں پیدا ہونے والی کشیدگی کے باوجود کسی سیاستداں، زمیندار یا صنعتکار کو چودہ اگست کے دن اپنے تحفظ کے لئے بندوقوں سے مسلح کرائے کے محافظوں کی ضرورت بھی محسوس نہیں ہوئی۔ اس دن کسی وزیر یا دستور ساز اسمبلی کے رکن نے اپنے مخالف کو غدارِ پاکستان کے لقب سے بھی نہیں نوازا۔ کوئی صحافی رپورٹنگ کرتے ہوئے کسی سرکاری ادارے، سیاسی و مذہبی تنظیم کے مشتعل کارکنوں یا اپنے ہی اخبار کے مالک کے غیض و غضب کا نشانہ نہیں بنا۔ کسی پریس فوٹوگرافر کا کیمرہ اور سر بھی نہیں ٹوٹا۔ اس دن نئے ملک میں کہیں بھی کسی عورت کو انتقاماً سرِ بازار عریاں بھی نہیں گھمایا گیا۔کسی مفرور ملزم کے اہلِ خانہ کو کسی پولیس تھانے میں دھوپ میں بٹھا کر رسوا بھی نہیں کیا گیا۔کوئی ملزم پولیس کی گرفت سے فرار ہونے کے جواز میں پولیس مقابلے میں بھی نہیں مارا گیا۔ چودہ اگست انیس سو سینتالیس کے روز خطِ غربت، جعلی ادویات، جعلی کھاد، جعلی سگریٹ اور دو نمبر آدمی کی اصطلاح سے بھی آزاد ملک کا کوئی شہری آشنا نہیں پایا گیا۔ اس روز کسی پاکستانی شہری نے معاشی جبر کے نتیجے میں نیا نیا ملک چھوڑ کر اجنبی سرزمین کا سفر اختیار نہیں کیا۔ چودہ اگست انیس سو سینتالیس کو امریکی ایف بی آئی کا کوئی ایجنٹ، حکومتِ امریکہ کا کوئی ایلچی یا عالمی مالیاتی اداروں کا کوئی وفد دارلحکومت کراچی نہیں پہنچا۔ اور اس دن پاکستانی مسلح افواج کا صرف ایک دستہ بیرکوں سے باہر تھا اور وہ بھی نئے گورنر جنرل کو گارڈ آف آنر پیش کرنے کے لئے۔ چودہ اگست انیس سو سینتالیس واقعی یومِ آزادی تھا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||