 |  برطانوی راج کے خاتمے کو اٹھاون سال مکمل ہو گئے ہیں |
بر صغیر میں برطانوی راج کے خاتمے کو اٹھاون سال مکمل ہو گئے ہیں۔ چودہ اگست کو پاکستان اور ایک ہی دن بعد انڈیا ’آزاد‘ ہوا۔ تاہم اٹھاون سال بعد ان دونوں ممالک میں غربت، بے روزگاری، ناخواندگی اور انسانی حقوق کی پامالی برقرار ہے۔ آج بھی لاکھوں افراد کو دو وقت کی روٹی تک دستیاب نہیں۔ اٹھاون برس بعد انڈیا اور پاکستان کے عوام کہاں کھڑے ہیں؟ کیا ان دونوں ممالک نے دنیا میں وہ مقام حاصل کر لیا ہے جس کا خواب دیکھا گیا تھا؟ ’آزادی‘ کے لیے کون سے اہم اقدار ہیں جنہیں ریاست کو یقینی بنانا چاہیے؟ آپ کی نظر میں ’آزادی‘ کسے کہتے ہیں؟ آپ کے خیال میں انڈیا اور پاکستان کا مستقبل کیا ہے؟ آپ اپنی رائے اردو، انگریزی یا roman urdu mein bhi bhej سکتے ہیں۔ اگر آپ اپنا پیغام موبائل فون سے ایس ایم ایس کے ذریعے بھیجنا چاہتے ہیں تو براہِ مہربانی اس کے آخر میں اپنا اور اپنے شہر کا نام لکھنا نہ بھولیے۔ ہمارا نمبر ہے:00447786202200
ظہیرالدین رشدی، کراچی: تلخ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کے ’کامن مین‘ یا پاکستان کے لوگوں کے لئے جسے آپ فریڈم کہتے ہیں وہ صرف سفید فام انگریزوں کی حکومت سے ’بلیک انگریزوں‘ کی حکومت میں تبدیلی تھی۔۔۔۔ نامعلوم: میں امید کرتا ہوں کہ دونوں ممالک امریکہ اور برطانیہ کو اپنے اوپر حکومت کرنے دیں گے۔ کم سے کم وہ ایجوکیشن اور زندگی تو بہتر بناتے ہیں۔۔۔۔ سجاد محمود، کینیڈا: کچھ لوگوں کے لئے جو سیاست دان، بیوروکریٹ، جرنیل وغیرہ ہیں، اس آزادی کا مطلب صرف یہ ہے کہ انہیں کوئی نہیں روک سکتا۔۔۔۔ طاہر محمود، امریکہ: پاکستان میں آزادی کا مطلب ہے چوروں اور لٹیروں کو آزادی، چاہے وہ وردی میں ہوں یا بغیر وردی کے، عام انسانوں کے لئے پاکستان ایک قید خانہ ہے، چوروں کو اٹھاون ویں آزادی مبارک ہو، ۔۔۔۔میں اب پاکستانی نہیں ہوں لیکن بدقسمتی سے پاکستان میں پیدا ہوا تھا۔ عبدالسلام صمد، اوسلو: تقسیم گرفتاری تھی۔ جس مقصد کے لئے جنہوں نے پاکستان حاصل کیا تھا وہ کمپلیٹ نہیں ہوا، لہذا ہمیں انڈیا اور پاکستان کے الحاق کے سلسلے میں اسٹرگل کرنی چاہئے۔ قادر قریشی، ٹورانٹو: پاکستانیوں کی آزادی جہالت، کرپشن اور آرمی نے چھین لی ہے۔ ملک آدھا آزاد ہے۔ بابر راجہ، جاپان: ہماری بدقسمتی ہے کہ ہم آزاد تو ہیں مگر نام کے، قانون برطانیہ کا آرڈر۔۔۔ ہمیں سمجھ ہی نہیں آرہی کہ پاک میں ہم نے آدھی ۔۔۔ زندگی آرمی کے انڈر گزار دی۔ جمہوریت نام کی ہے، انڈیا نے ہم سے زیادہ ترقی کی ہے، انڈیا ہر چیز گوڈ بناتا ہے اور جمہوریت بھی ہے مگر انڈیا پاکستان سے پنگا نہ لے تو سوپر پاور اور خوشحال ہندوستان ضرور بنے گا۔ عالمگیر بیگ، سویڈن: اس وقت مجھے جسٹس نصیر اسلم زاہد کی بات یاد آرہی ہے کہ جو ملک اور معاشر کفار پر قائم ہو وہ ملک معاشرہ کیا پھل پھول سکتا ہے، مگر جس ملک یا معاشرے کی بنیاد ہی ناانصافی پہ ہو وہ نہیں چل سکتا ہے۔ پاکستانی قوم کو چودہ اگست چھ ستمبر والے دن بیوقوف بنا کے کہ آپ اس دن آزاد ہوئے تھے آنے والے سال کی ۔۔۔۔۔ (واضح نہیں)۔ چاند بٹ، جرمنی: انیس سو سینتالیس میں ہم غلام تھے، اب ہم غلاموں کے غلام ہیں، حیرت ہے کہ اٹھاون سال بعد بھی ہم خود کو نوزائدہ مملکت کہہ کہہ کر بونا ہونے کا ثبوت دیتے ہیں۔۔۔ شریف خان، پاکستان: بابائے قوم قائداعظم محمد علی جناح نے رات دن ایک کر کے ایک آزاد ملک بنایا۔ میجر عزیز بھٹی جیسے جوان شہید ہوئے اس ملک کے لیے اور آج ہم ایک آزاد ملک میں رہ کر بھی آزادی کا مطلب نہیں سمجھتے۔اٹھاون سال میں دنیا کہاں سے کہاں پہنچ گئی اور ہم لوگ اسی طرح ہیں جیسے اٹھاون سال پہلے تھے۔نہ ہمارے ملک نے کوئی ترقی کی ہے نہ ہم نے کیونکہ ہم ملک کے لیے محنت نہیں کرتے۔ ساجل احمد، لاس ویگاس، امریکہ: خدا کا شکر ہے کہ پاکستان اور انڈیا کو برطانیہ سے آزادی مل گئی۔ جہاں تک خوابوں کی بات ہے تو خواب پورے کرنے کے لیے محنت اور دیانتداری کی ضرورت ہے جو ہم لوگوں میں نہیں۔صرف حکومت کی ہی ذمہ داری نہیں کہ سب کچھ کرے ، پاکستان کو ایک اچھی ریاست بنانے کے لیے ہر ایک کو کام کرنا ہو گا۔ اگر آپ کمزور پر ظلم کریں اور طاقتور کے سامنے جھک جائیں تو ہو گئی ترقی اور مل گئی آزادی۔ اشرف خان، پاکستان: کس نے کہا کہ ہم آزاد ہوئے ہیں۔ برطانیہ سے آزاد ہوئے تو آرمی کے چنگل میں پھنس گئے۔ عمران عباسی، اسلام آباد، پاکستان: ہمیں مکمل آزادی ملی ہی کب تھی۔ برطانیہ نے آزادی کے وقت بھی ’تقسیم کرو اور حکومت کرو‘ کی پالیسی اپنائی اور کشمیر کے مسئلے میں الجھا کر چلے گئے۔ دونوں ممالک تب سے کشمیر کو حاصل کرنے کے لیے تمام وسائل لگا رہے ہیں۔ اگر یہی وسائل عوام کی فلاح کے لیے استعمال ہوتے تو آج حالات کچھ اور ہوتے۔ جواد، جاپان: آزادی تو ملی ہے جبھی تو اب تک جو آئے ہیں آزادی سے سب کچھ کر رہے ہیں۔ کوئی پوچھنے والا نہیں انہیں۔ برطانیہ سے تو آزاد کرا دیا مگر غلام محمد، ایوب خان، یحیٰ ،ضیاء اور مشرف جیسے لوگوں سے آزاد نہیں ہو سکے اور نہ ہو سکیں گے۔ پرویز بلوچ، بحرین: پاکستان کا مطلب کیا۔۔ لاالہ الااللہ، اور آج فوجی حکومت اسی کلمے کو پڑھنے والوں کو دہشتگرد کہہ کر جیلوں میں بند کر رہی ہے۔ وہ مغربی ملکوں کو بتانا چاہتے ہیں کہ ہم مذہب سے بھی آزاد ہیں۔ آزادی صرف حکمرانوں، نوکر شاہی اور سیاست کے سوداگروں کو ملی ہے جبکہ عوام غلاموں کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ راجہ نعیم اختر: پاکستان اور انڈیا نے انگریز سے آزادی حاصل کرلی لیکن کشمیر کو آزادی دینا بھول گئے۔ خود اگر آزادی کا لطف اٹھا رہے ہیں تو کشمیریوں کا بھی احساس کریں۔ سلیم نقوی، پیرس: سن چالیس کی قراردادِ لاہور کی روح کو بھلانے کی وجہ سے ہم پاکستانیوں میں اتحاد نہیں رہا۔ جبران حسنین، کراچی، پاکستان: اس وقت آزادی کا مطلب یہ تھا کہ مسلمانوں کو ایک ایسی زمین ملے جہاں وہ اسلام کے بتائے ہوئے اصولوں کے مطابق زندگی بسر کر سکیں۔ لیکن افسوس کہ ہر دور کی طرح اس دور میں بھی چند منافق تھے جو آزادی کو مختلف سمت میں لے گئے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمیں حقیقی معنوں میں آزادی نہیں ملی، انگلینڈ سے چھٹکارا پا کر ہم امریکہ کے غلام ہو گئے۔ اظفر خان، ٹورانٹو، کینیڈا: آزادی ایک احساس ہے اپنی زندگی کو بہتر سے بہتر بنانے کی جد وجہد کا۔ یعنی ہر حال میں اپنوں کو کچھ دیتے رہنا، اپنے وطن کی تعمیر کرنا آزادی کی ضمانت ہے۔پاکستان میں آزادی ہے ہر چیز کی، مگر جو کچھ نہیں کرنا چاہتے وہ خود کو غلام سمجھتے ہیں۔ فہیم، اوہایو، امریکہ: کافی پرانی بات ہے، روس کے صدر گوربا چوف نے کسی موقع پر کہا تھا کہ پاکستانی قوم اپنے ملک سے محبت کرتی ہے لیکن پاکستانی سیاستدان نہیں، انڈین سیاستدان اپنے ملک سے محبت کرتے ہیں لیکن وہاں کے عوام انڈیا سے اتنی محبت نہیں کرتے جتنی ان کو کرنی چاہیے۔ اگر دونوں ملکوں کے سیاستدان ایک دوسرے سے بدل دیے جائیں تو یہ دونوں ملکوں کے لیے اچھا ہوگا۔ اشرف چوہدری، کینیڈا: پاکستان کی موجودہ حالت بالکل ’ آسمان سے گرا کھجور میں اٹکا‘ والی ہے۔ ندیم، جہلم، پاکستان: پاکستان پر شروع سے ہی حکومت ان لوگوں کی تھی جو جاگیردار تھے یا سرمایہ دار۔ پاکستان صرف ان لوگوں کے لیے آزاد ہوا ہے۔اب بھی اس ملک میں بہت سے لوگ وڈیروں کے غلام ہیں۔ ہم ذہنی طور پر اب بھی آزاد نہیں، ہماری سوچیں آزاد قوموں والی نہیں۔ اس ملک نے سب کو بہت کچھ دیا ہے۔ اللہ میرے ملک کو قائم رکھے اور اس کے لوگوں پر کرم کرے، آمین۔ شبیر حسن، لاہور، پاکستان: اٹھاون برس گزر جانے کے بعد بھی ہم آزاد نہیں کیونکہ کشمیر، جونا گڑھ، حیدر آباد، فیروز پور، گجرات کو آزاد کر کے ہی پاکستان مکمل ہو سکتا ہے۔ اس لیے اصل ضرورت جہاد کی ہے۔ نذیر احمد، حیدرآباد، پاکستان: آج کل جو لوگ حکومت کر رہے ہیں اٹھاون سال پہلے بھی انہی لوگوں کے آباؤاجداد انگریز کے پٹھو تھے اور حکومت کر رہے تھے۔عوام کے لیے جیسی آزادی اس وقت تھی ویسی ہی آج ہے۔ فیاض محمد، پبی، پاکستان: ہم آج بھی بہت پیچھے ہیں۔انڈیا اور پاکستان کو آزاد کرنے کا فیصلہ ہی غلط تھا جسے ابھی تک دونوں ملکوں کے عوام بھگت رہے ہیں۔ پہلے ہم انگریز کے غلام تھے اور اب اپنے ہی ملک میں کالے گورے کے غلام ہیں۔ آزادی کا مطلب ہے کہ اپنے عوام کو کم از کم بنیادی وسائل دیے جائیں تا کہ وہ ایک باعزت زندگی گزار سکیں۔ رضوان اکرم، کینیڈا: یقیناً پاکستان اور بھارت دونوں آزاد ہیں۔ آزادی ایک تحفہ، ایک نعمت اور ایک ذمہ داری ہے۔ یہ سچ ہے کہ ان دونوں ملکوں نے آزادی کے بعد الگ الگ را ستے اختیار کیے۔ ہرملک نے اپنی آزادی کے بعد اپنے لیے ایک راہ کا انتخاب کیا جن میں سے کچھ کو یہ راہ راس آئی کچھ کو نہیں۔ لیکن یہ بات ہم سب کے لیے قابل فخر ہے کہ ہم پاکستان کے نام سے جانے اور پہچانے جاتے ہیں۔ علی خان، سعودی عرب: جی ہاں برطانوی راج سے آزادی ملی مگر آج تک یہی احساس ہوتا چلا آرہا ہے کہ کیا ہم آزاد ہیں؟ میرا خیال ہے ہم نہ کل آزاد تھے اور نہ آج ہیں۔ آزادی تو صرف ان لوگوں کو ملی جو طاقتور تھے اور اب بھی طاقت انہی لوگوں کے پاس ہے۔ پاکستان اور بھارت دونوں کا یہی حال ہے۔ عارف جبار قریشی، سندھ، پاکستان: آزادی تو حاصل ہو گئی مگرحقیقی معنوں میں آزاد نہیں ہوئے۔انڈیا اور پاکستان کے عوام آج بھی بنیادی ضرورتوں کے لیے ترس رہے ہیں۔حکمران تو عیاشی کر رہے ہیں لیکن عوام کے مسائل بڑھتے جا رہے ہیں۔ ہر شاخ پہ الو بیٹھا ہے انجام گلستان کیا ہوگا۔ علی میر، نیویارک، امریکہ: آزادی کا مطلب ایک الگ جھنڈا اور کرنسی ہے، اور کچھ نہیں۔ بزن بلوچ، لندن: سن سینتالیس میں پاکستان نے آزادی حاصل کی لیکن سن اڑتالیس میں اس کی فوج نے بلوچستان پر حملہ کر دیا۔ ہمیں پوری امید ہے کہ ایک دن پاکستان پانچ حصوں، یعنی سندھ، بلوچستان، سرائیکی، پشتون اور پنجاب میں تقسیم ہو جائے گا اور پاکستان دنیا کے نقشے سے مٹ جائے گا۔ امداد حسین، سویڈن: اگر آزادی کا مطلب صرف برطانوی حکومت کا خاتمہ تھا تو ہمیں صرف آدھی آزادی ملی ہے کیونکہ برطانیہ کو اب بھی پاکستان کی کئی پالیسیوں میں دخل ہے۔ اگر آزادی کا مطلب خود مختاری اور ایک آزاد اور پر سکون معاشرے میں زندگی جینے کا حق ہے، تب تو شاید ہمیں کبھی آازادی ملی ہی نہیں۔ پاکستان میں آزادی صرف امیر اورطاقت ور افراد کے لیے ہے اور اس کا استعمال عام آدمی کو دبا کر رکھنے کے لیے کیا گیا ہے۔ اللہ سے یہی دعا ہےکہ اس ملک کے عوام کو کسی دن حقیقت میں آزاد کر دے۔ کبیر احمد، راولاکوٹ دریک، کشمیر: آزادی کا مطلب صرف آزادی ہے۔ اگر اس کی قدر پوچھنی ہے تو کشمیریوں سے پوچھ لو۔ پاکستانی قوم کو آزادی تو ملی مگر آئین سے خالی۔ لگتا ہے پاکستان ابھی تک آزاد نہیں ہوا بلکہ چند لوگوں کی ذاتی ملکیت ہے۔ اللہ ہی حافظ ہے۔ سکندر حیات، متحدہ عرب امارات: میرے خیال میں پاکستانی حکومت اپنی ذمہ داری نبھانے کے قابل ہی نہیں ہے۔ ہر نیا حکمران اپنی ذاتی ضروریات پوری کرنے میں لگ جاتا ہے اور کسی کو بھی ملک کے لیے کام کرنے کا وقت ہی نہیں ملتا۔ پاکستان میں یورپی ممالک کی طرح دو بڑی سیاسی جماعتیں ہونی چاہئیں۔ شیر یار خان، سنگاپور: انڈیا اور پاکستان برطانیہ سے آزادی حاصل کر کے بھی نفرتوں، معاشی بد حالی، غربت، سیاسی بد عنوانی اور بہت سی برائیوں میں قید ہیں۔ عوام کے کے لیے آزادی کا مطلب ہر قسم کی مشکلات سے آزادی یا کم سے کم مشکلات کا سامنا ہے۔ اگر عوام کو اپنی مشکلات کے حل کے لیے کسی دوسرے ملک کی طرف دیکھنا پڑے تو اسے آزادی کہنا مناسب نہیں ہوگا۔ آزادی کے لیے ضروری ہے کہ حکومت اور عوام کے درمیان سے ہر دیوار ہٹا دی جائے۔ شاہ ور اکبر، لاہور، پاکستان: انگریزوں نے آزادی دی اور اپنوں نے غلامی کے طوق گلے میں ڈال دیے۔ اب ہمیں ایک اور قاعد اعظم، ایک اور جدو جہد آزادی اور ایک اور چودہ اگست کی ضرورت ہے۔ زبیر صیف اللہ، برطانیہ: آزادی کا مطلب ہے مسلمان کی کافر سے آزادی، کافرانہ نظام سے آزادی اور کفریہ عمل سے آزادی۔ اس سے بڑی آزادی کیا ہو سکتی ہے کہ ایک مسلمان اپنے رب کے احکامات کو پوری آزادی سے سر انجام دینے کے قابل ہو۔ سید فرحاج، ابو ظہبی: اپنا ملک، اپنی زمین، اپنی سانس، اپنا گھر، آزادی۔۔۔جو چاہو کرنے کی، جو کر سکو، وہ کرنے کی۔ یہی آزادی ہے اور یہ ہمیں جناح کی بدولت ملی ہے۔ کریم خان، کینیڈا: پاکستان اور انڈیا کی تقسیم کا نقصان دونوں ممالک کے عوام برداشت کر رہے ہیں اور فائدہ فوج یا سیاست دانوں کو ہوا۔ قربانی پہلے بھی عوام نے دی تھی اور آج بھی قربانی کے بکرے عوام بن رہے ہیں۔ راجہ یونس، سعودی عرب: آزادی واقعی بڑئ نعمت ہے اور اس کا مطلب یہ ہے کہ کسی ملک کے باسی اپنی سرحدوں میں رہتے ہوئے بے خوف و خطر زندگی گزار سکتے ہیں۔ آزادی کی قدر ہر ایک انسان کا فرض ہے۔ انیس سو سینتالیس میں بر صغیر کی تقسیم یقیناً ایک بہت بڑی تبدیلی تھی۔ آج دونوں آزاد ہونے والے ملک جوہری پاور ہیں اور یہ بات بھی اپنی جگہ درست ہے کہ ابھی تک وہ ثمرات پاک و ہند کے عوام حاصل نہیں کر پائے ہیں جن کی امید تھی۔ مگر یہ بات بھی اپنی جگہ حقیقت ہے کہ انیس سو سینتالیس اور آج کے حالات میں بہت فرق ہے۔۔۔ پاکستان میں فوری طور پر جاگر داری نظام ختم کرنے کی ضرورت ہے۔ دونوں ملکوں کی ترقی کی رفتار اور بھی تیز ہو سکتی ہے اگر کشمیر کا مسئلہ حل ہو جائے۔ بہر حال اہل پاک و ہند کو آزادی مبارک ہو۔ جاوید اقبال ملک، چکوال، پاکستان اس میں قصور دونوں ملکوں کا نہیں ہے۔ اللہ نے پاکستان، انڈیا کو کون سے نعمت ہے جو نہیں دی، مگر اس پر ایسے حکمران نافذ کیے گئے جو کہ ایک ’گھر‘ بھی چلانے کے قابل نہیں تھے، مگر بد قسمتی سے انہیں ریاست چلانے کی ذمہ داری دے دی گئی۔ ہم آج بھی آزاد نہیں ہیں۔ ہمیں ہر وقت دو وقت کی روٹی کی فکر لاحق ہوتی ہے۔ شکیل مرزا، اسلام آباد، پاکستان نہیں۔ ہم انگریز کی غلامی سے نکل کر فوج کی غلامی میں پھنس گئے ہیں اور پتہ نہیں کب اور کتنی قربانیوں کے ےبعد اس غلامی سے نجات ملے گی۔ |