یورپی یونین کا مستقبل کیا ہوگا؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
گزشتہ برس جب برسلز میں یورپی یونین میں شامل رکن ممالک نے تاریخ ساز آئین کی تائید کی تو ان رکن ممالک کی قیادت کو یہ گمان بھی نہ ہوگا کہ پچیس میں سے دس ممالک کی جانب سے نئے آئین کی توثیق بھی ان دو ممالک کے ووٹروں کو بالکل متاثر نہیں کرسکے گی جو اس یونین کے بانیوں میں شامل ہیں۔ فرانس جس کے ایک سابق صدر ویلیری جسکارد دیستاں اس آئین کے معمار سمجھے جاتے ہیں انہی کے ملک کے پچپن فیصد ووٹروں نے اس آئین کو مسترد کردیا۔اسکے تین روز بعد اس آئین کو ایک فیصلہ کن دھچکا نیدرلینڈ کے ووٹروں نے پہنچایا جب باسٹھ فیصد کی اکثریت نے اس آئین کو کونے میں دھکیل دیا۔ اگر آئین کا بنظرِ غائر مطالعہ کیا جائے تو اس میں بظاہر ایسی کوئی بات نظر نہیں آتی کہ جو متنازعہ ہو۔ مثلاً آئین کے تحت یورپی یونین کی طاقت کا سرچشمہ رکن ریاستیں ہیں۔اور یونین صرف ان مقاصد کے حصول کے لئے آئینی اختیارات استعمال کرنے کی مجاز ہوگی جن مقاصد کو ریاستیں انفرادی طور پر حاصل نہیں کر سکتیں۔ اسوقت بھی یورپی یونین کو بیرونی تجارت، کسٹمز ، یورپی یونین کی اندرونی منڈی، یورو زون کی مالیاتی پالیسی، زراعت، ماہی گیری، صحتِ عامہ اور ماحولیات سے متعلق اجتماعی پالیسیاں بنانے اور قانون سازی کے اختیارت حاصل ہیں۔ نئے آئین کے نفاز سے صرف یہ فرق پڑتا کہ موجودہ چھ چھ ماہ کی گردشی صدارت کے بجائے یورپی یونین کا صدر رکن ممالک کی کونسل اور یورپی پارلیمان کی مرضی سے ڈھائی برس کی مدت کے لئے منتخب کیا جاتا۔اور یہ صدر ایک اور مدت کے لئے بھی منتخب ہو سکتا۔ اسوقت یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے لئے ایک کمشنر نامزد کیا جاتا ہے۔آئین کے نفاز کے بعد یونین کا ایک وزیرِ خارجہ ہوتا اور ایک ڈپلومیٹک کور قائم ہوتی جو ایسے معاملات پر باقی دنیا سے معاہدے کرتی جس پر یورپی یونین کے رکن ممالک کا اتفاق ہو۔ مثلاً ماحولیات ، عالمی تجارت، مشرقِ وسطی میں قیامِ امن اور امیگریشن اور اسائلم جیسے مسائیل۔ اسکے علاوہ نئے آئین کے تحت یورپی یونین کی مشترکہ سیکیورٹی پالیسی بھی ہوتی جس میں عالمی دھشت گردی سے نمٹنے اور انسانی حقوق جیسے مسائیل پر یونین کی پالیسی پر مزید مربوط طریقے سے عمل درآمد ہو سکتا۔ اس خدشے سے نمٹنے کے لئے کہ یورپی یونین کا ادارہ اس آئین کے بہانے ایک سپر اسٹیٹ بننا چاہتا ہے اور ملکوں کے انفرادی اقتدارِ اعلی کو غصب کرنا چاہتا ہے۔یہ اہتمام کیا گیا کہ خارجہ اور سیکیورٹی امور میں کوئی بھی رکن ممالک چاہے تو ویٹو کا حق استعمال کرسکتا ہے۔تاہم ایک مرتبہ جن آئینی قوانین پر اتفاقِ رائے ہوگیا تو پھر یہ قوانین ملکوں کے انفرادی قوانین پر بالادست ہوں گے۔ جب گزشتہ برس یورپی یونین کے سربراہوں نے آئینی خاکے کی منظوری دی تو تصور یہ کیا گیا تھا کہ عوام بھی اسکی منظوری دے دیں گے۔کیونکہ جب عوام سنگل کرنسی قبول کرسکتے ہیں تو آئین قبول کرنے میں کیا قباحت ہے۔ تاہم تمام تر یقین دھانیوں اور آئینی سیف گارڈز کے باوجود فرانس اور نیدر لینڈ کے ووٹروں کی جانب سے اسے مسترد کیا جانا ظاہر کرتا ہے کہ عام آدمی کا یہ خدشہ اپنی جگہ موجود ہے کہ یورپی یونین کا آئین رکن ممالک کی شناخت اور اقتدارِ اعلی کو نگل سکتا ہے اور جوں جوں نئے ارکان آتے جائیں گے موجودہ ارکان کی سیاسی حیثیت کم ہوتی چلی جائے گی۔ لیکن ریفرینڈم کے نتائج صرف اس بات کے غماز نہیں ہیں کہ ووٹروں نے محض آئین کو مسترد کیا ہے بلکہ اس میں اپنی اپنی حکومتوں کی پالیسیوں پر غصے کا بھی اظہار ہوتا ہے مثلاً نیدر لینڈ کے لوگوں کو یہ غصہ بھی تھا کہ ایک طرف تو انکا ملک فی کس تناسب کے حساب سے یورپی یونین کو سب سے زیادہ امداد دیتا ہے لیکن پھر بھی اسکی معیشت یورپی یونین کی اس مالیاتی پالیسی کی زخم خوردہ ہے کہ کسی بھی رکن ملک کا مالیاتی خسارہ اسکی کل قومی پیداوار کے تین فیصد سے زائد نہیں ہونا چاہئے۔ڈچ ووٹروں کا خیال ہے کہ اس طرح کی پابندیاں معاشی ترقی کا گلا گھونٹنے کے مترادف ہیں اور آئین دراصل وہ جال بن سکتا ہے جس میں اجتماعی مفاد کی قربان گاہ پر انفرادی ترقی کا امکان قربان ہو جائے گا۔ فرانس کے اکثر ووٹروں کا خیال ہے کہ یورو اپنانے کے بعد ضروریاتِ زندگی کی قیمتیں کم ہونے کے بجائے مزید بڑھی ہیں جبکہ اس کرنسی کو چار برس قبل اپناتے وقت حکومتوں نے اسکے برعکس یقین دھانی کروائی تھی۔ تو کیا یورپی آئین نافذ ہونے سے پہلے ہی دفن ہوگیا۔اکثر آئینی ماہرین کا خیال ہے کہ چونکہ اس آئین کی توثیق ہر رکن ملک کی جانب سے پارلیمنٹ یا عوامی ریفرینڈم کے توسط سے لازمی ہے اسلئے کسی ایک بھی ملک کی جانب سے عدم توثیق اس آئین کا مستقبل تاریک کرنے کے لئے کافی ہے۔ اب اس آئین کو بچانے کا ایک ہی راستہ رھ جاتا ہے کہ حکومتیں عوامی عدالت میں جانے کے بجائے پارلیمان سے توثیق کروانے کا راستہ اختیار کریں۔ لیکن ایک بات طے ہے کہ فرانس اور نیدرلینڈ کے ووٹروں کی جانب سے تلخ تجربے کے بعد اس آئین کو دوبارہ ان ووٹروں کے سامنے دوبارہ پیش کرنے کے لئے اب کئی برس اور درکار ہوں گے۔اور یہ بھی خدشہ ہے کہ ان نتائج کی روشنی میں برطانیہ جیسے ممالک شائید لمبے عرصے تک اس آئین کی پارلیمانی یا عوامی توثیق کا حطرہ مول نہ لیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||