یورپی یونین، ترکی مذاکرات میں تعطل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
قبرص کے مسئلہ پر تعطل کو ختم کرنے کے لیے یورپی یونین اور ترکی کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ یورپی یونین کے رہنماؤں نے کہا ہے کہ وہ ترکی کے ساتھ آئندہ سال اکتوبر میں اس کی یورپی یونین میں شمولیت سے متعلق مذاکرات کا آغاز کریں گے لیکن اس سے قبل اسے قبرص کو تسلیم کرنا ہوگا۔ لیکن ایک ترک سفارت کار نے کہا ہے کہ یورپی یونین کے اس مطالبے سے مایوسی ہوئی ہے۔ برطانوی وزیر خارجہ جیک سٹرا نے کہا ہے کہ ابھی معلوم نہیں کہ ترکی ان مطالبات کو تسلیم کرے گا یا نہیں۔ قبرص کا جنوبی حصہ جو بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ ہے یورپی یونین کا رکن ہے تا ہم ترکی شمالی قبرص کے مسلے پر کوئی بھی مطالبات ماننے سے گریزاں ہے۔ شمالی قبرص ترکی کے قبضے میں ہے۔ یورپی یونین کا کہنا ہے کہ اس میں شمولیت کا معاملہ پندرہ سال تک چل سکتا ہے اور اس کے بعد بھی اس بات کی کوئی یقین دہانی نہیں کہ اس رکنیت مل جائے گی۔ دو روزہ کانفرنس سے قبل یورپی یونین کے رہنماؤں نے ترکی کو متنبہ کیا تھا کہ اسے قبرص کو تسلیم کرنے کے لیے اقدامات کرنا ہوں گے۔ یورپی یونین نے اعلان کیا ہے کہ وہ کروشیا کی رکنیت کے لیے اپریل دو ہزار پانچ میں بات چیت شروع کرے گی۔ تا ہم یورپی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ بات چیت اس صورت میں ہوگی جب کروشیا اقوام متحدہ کے یوگوسلاویہ سے متعلق جنگی جرائم کے ٹربیونل کے ساتھ تعاون کرے گا۔ ترکی کے وزیراعظم رسپ طیپ اردوگان نے توقع ظاہر کی ہے کہ کانفرنس کے اختتام سے پہلے قبرص پر کوئی معاہدہ طے پا سکتا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||