ترکی:’یورپی اتحاد کا دروازہ کھل گیا‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
یورپی اتحاد نے ترکی کی اتحاد میں شمولیت کے لیے اگلے برس مذاکرات شروع کرنے کی پیشکش کی ہے اور کہا ہے کہ اس سلسلے میں بات چیت کا آغاز تین اکتوبر دو ہزار پانچ سے ہوگا۔ یورپی اتحاد کے رہنماؤں نے کہا کہ یہ مذاکرات، جن کی تکمیل میں پندرہ برس تک لگ سکتے ہیں، ترکی کی اتحاد میں مکمل رکنیت کے لیے ہوں گے لیکن پھر بھی اس اتحاد میں ترکی کی شمولیت کی ضمانت نہیں ہے۔ یورپی اتحاد نے یہ فیصلہ اپنے دو روزہ اجلاس میں کیا جو برسلز میں منعقد ہوا۔ اتحاد کے رہنماؤں نے ترکی کو متنبہ کیا کہ مذاکرات شروع ہونے سے پہلے اسے قبرص کو تسلیم کرنا ہوگا۔ ترکی کے وزیرِ اعظم نے فوری طور پر اپنا ردِ عمل ظاہر نہیں کیا لیکن ایک اخبار نے ان کا ایک انٹرویو شائع کیا ہے جس میں انہوں نے یورپی اتحادی کی پیشکش کا محتاط خیر مقدم کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ یورپی اتحاد کے رہنماؤں کے فیصلے کا ہر لفظ کی بہت اچھی طرح سے جانچ پڑتال کریں گے۔ اگر ترکی یورپی اتحاد کا رکن بن گیا تو وہ پہلا ایسا رکن ملک ہوگا جس میں اکثریتی آبادی مسلمان ہے۔ اٹلی کے وزیرِ اعظم سیلویو برلسکونی نے کہا کہ اگلے سال تین اکتوبر تک ترکی کے پاس اپنی پارلیمان سے اس معاملے کی توثیق کرانے کے لیے کافی وقت ہے۔ ترکی کے وزیرِ اعظم طیب اردگان نے اس سے پہلے کہا تھا کہ منقسم جزیرے کے بارے میں جلد ہی کوئی معاہدہ ہو جائے گا۔ شمالی قبرص پر ترکی کا کنٹرول ہے۔ تاہم ابتدا میں ترکی نے کہا تھا کہ وہ قبرص کو تسلیم کرنے کے معاملے پر نہیں جھکے گا۔ قبرص کا جنوبی حصہ بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ ہے اور یورپی اتحاد کا رکن ہے۔ نیدرلینڈ کے وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ وہ جمعہ کے روز ناشتے پر ترک وزیرِ اعظم کے سامنے یہ تجاویز رکھیں گے۔ علاوہ ازیں اس معاملے میں ترکی کی یورپی اتحاد میں شمولیت کے لیے جو شرائط ہیں وہ بھی زیرِ بحث آئیں گی۔ یورپی یونین کے صدر جوز مینیوئل براسو نے یورپی اتحاد کی ترکی کو پیشکش کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ ’آج رات یورپی اتحاد نے ترکی کے لیے اپنے دروازے کھول دیئے ہیں۔ہمیں امید ہے کہ ترکی اس پیشکش کو بخوشی قبول کر لے گا۔‘ بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے قبرص کا معاملہ بہت ہی پیچیدہ ہے۔ ترکی شمالی قبرص کی انتظامیہ کو تسلیم کرتا ہے لیکن جنوبی قبرص کو تسلیم نہیں کرتا۔ اور جنوبی قبرص کو تسلیم کرنے کا مطلب شمالی قبرص کو تسلیم کرنے سے انکار ہی کے مترادف ہوگا۔ طیب اردگان کے لیے ترک عوام سے اس کی منظوری لینا ایک مشکل کام ہوگا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||