ترکی:ای یو میں شمولیت کوخطرہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
’جنسی بے راہ روی قانون‘ کو جرم قرار دینے پر ترکی کی یورپین یونین میں شمولیت خطرے میں پڑسکتی ہے یہ بات یورپی اتحاد میں توسیع کے کمشنر گیونٹر وریگن نے ایک بیان میں کہی۔ انہوں نے کہا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ایک اسلامی قانون ترک قانون میں شامل کیا جارہا ہو۔ یہ بل اگلے ہفتے پارلیمان میں پیش کیا جانے والا ہے۔ ترکی کے وزیراعظم رجب طیب سردوعان کا کہنا ہے کہ یہ بل خواتین کو تخفظ دلانے میں مدد دے گا۔ ترکی کی پیش رفت کے بارے میں یورپین یونین کی رپورٹ اکتوبر میں پیش کی جائے گی جو ترکی کی یورپین یونین میں رکنیت حاصل کرنے میں مدد دے گی۔ ’جنسی بے رواہ روی قانون‘ کا نفاذ پینل کوڈ میں کی جانے والی تبدیلیوں کا حصہ ہے جس میں تشدد کو ممنوع قرار دینے کے علاوہ انفرادی آزادی پر زور دیا گیا ہے۔ یہ تمام کوششیں ترکی کے قانونی نظام کو یورپی اتحاد کے انسانی حقوق کے قوانین سے ہم آہنگ بنانے کے لیے کی جانے والی کوششوں کا حصہ ہیں۔ وریگن نے ترک اخبار کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں ان خدشات کا اظہار کیا اور کہا کہ ’اگر ترکی اپنے قوانین میں کوئی ایسے اقدام کو جرم قرار دیتا ہے جو دیگر ممالک میں جرم تصور نہیں کئے جاتے تو یورپی یونین اسے یہ سمجھے گی کہ ترکی کے قانون میں اسلامی قانون شامل کیا جارہا ہے۔ خواتین کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے اس بل کی منظوری کے خلاف احتجاج کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو 14 ستمبر کو پارلیمان میں پیش کیا جائے گا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||