BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 16 December, 2004, 08:58 GMT 13:58 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
شیراک نے ترکی کی حمایت کی
یورپی ارکان پارلیمان ترکی کے حق میں ووٹ دیتے ہوئے
یورپی ارکان پارلیمان ترکی کے حق میں ووٹ دیتے ہوئے
یورپی یونین میں ترکی کی شمولیت پر مذاکرات شروع کرنے کے متعلق آج یورپی رہنماؤں کے اجلاس سے قبل فرانس کے صدر ژاک شیراک نے ٹیلی ویژن پر ایک خصوصی خطاب کے ذریعے ترکی کی حمایت کی ہے۔

ژاک شیراک نے کہا کہ اگر ترکی یورپی یونین میں شمولیت کی رکنیت کی تمام لوازمات مکمل طور پر پورا کرتا ہے تو اسے یونین میں شامل ہونے دینا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ یورپی یونین کے پچیس ارکان میں سے کوئی ملک بھی ترکی کی شمولیت کو ویٹو کرسکتا ہے اور فرانس کو بھی ’حتمی فیصلہ‘ کرنے کا اختیار ہے۔

فرانس کے عوام کی اکثریت یورپی یونین میں ترکی کی شمولیت کے خلاف ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ عوام سے ٹی وی پر خطاب کے ذریعے ژاک شیراک نے فرانسیسی عوام کو اعتماد میں لینے کی کوشش کی ہے۔

اسی ہفتے فرانسیسی اخبار لی فیگارو میں شائع ہونے والے رائے شماری کے ایک جائزے کے مطابق فرانس کی دو تہائی آبادی یورپی یونین میں ترکی کی رکنیت کے خلاف ہے۔ ژاک شیراک نے اپنے خطاب میں کہا کہ ترکی کی شمولیت سے یورپ کو فائدہ پہنچے گا۔

ژاک شیراک نے اپنے خطاب میں سوال کیا: ’کیا یورپ، اور بالخصوص فرانس، کا ترکی کی رکنیت میں کوئی مفاد ہے؟‘ فرانسیسی صدر کا کہنا تھا: ’میرا جواب ہے۔۔۔ ہاں، اگر ترکی وہ شرائط پورے کرلیتا ہے جو ہم ہمارے یونین میں شمولیت کے لیے کسی امیدوار پر عائد کرتے ہیں۔‘

ترکی یورپی یونین میں شامل ہونے والا سب سے بڑا ملک ہوگا۔ ساتھ ہی یہ مسلم اکثریت والا پہلا ملک ہوگا جو یورپی یونین میں شامل ہوگا۔

ژاک شیراک کا بیان یورپی یونین کی پارلیمان کے اس فیصلے کے چند گھنٹوں کے اندر ہی آیا ہے جس کے تحت ارکان پارلیمان نے ایک غیرمشروط قرارداد کے ذریعے ترکی کی یورپی یونین میں ’بلاتاخیر‘ شمولیت کی حمایت کی ہے۔

ترکی کے وزیراعظم طیب اردغان نے یورپی پارلیمان کی حمایت کا خیرمقدم کیا ہے تاہم انہوں نے وارننگ دی کہ ان کا ملک رکنیت کی کوشش چھوڑ دے گا اگر ’ناقابل قبول شرائط‘ ابھر کر سامنے آئے۔

جمعرات اور جمعہ کے روز برسلز میں ایک اجلاس کے دوران یورپی رہنما یہ فیصلہ کریں گے کہ کب، کہاں اور کن حالات میں ترکی کی رکنیت کے بارے میں ترک حکومت کے ساتھ مذاکرات شروع کیے جائیں۔ ان رہنماؤں کو یہ بھی فیصلہ کرنا ہے کہ آیا ترکی سے مذاکرات ہونا چاہئے یا نہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد