BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ترک جمہوریہ کے اسی سال
رکی کے صدر اور وزیر اعظم نے مصطفیٰ کمال پاشا کے مزار پر پھولوں کی چادر چڑھائی
ترکی کے صدر اور وزیر اعظم نے مصطفیٰ کمال پاشا کے مزار پر پھولوں کی چادر چڑھائی

بدھ کے روز ترکی میں جمہوری مملکت کے قیام کی اسیّ ویں سالگرہ منائی جارہی ہے۔ اسی سال قبل مصطفیٰ کمال اتاترک نے خلافت عثمانیہ کے خاتمے کے بعد ترکی میں ایک جمہوریت قائم کی تھی۔ اس موقع پر گزشتہ اسی برسوں میں ترکی میں جدیدیت کو فروغ دینے والی اصلاحات اور ان سے پیدا ہونے والے داخلی تضادات پر بحث و مباحثے منعقد کیے گئے ہیں۔

اس سال جمہوریہ کی اسیّ ویں سالگرہ پر پڑوسی ملک عراق میں امریکی فوج کی موجودگی اور تشدد، ایک سال قبل ترکی میں اسلام پسند حکومت کا قیام اور یورپی یونین میں شامل ہونے کی حکومتی کوششیں ان عوامی مباحث موضوع ہیں۔

ترکی کے اندر اور ترکی سے باہر اسلامی گروہوں کا کہنا ہے کہ اسی سال قبل خلافت عثمانیہ کے خاتمے کی وجہ سے مسلم دنیا ایک مرکزی قیادت سے محروم ہوگئی جس کے نتیجے میں آج بین الاقوامی سیاست میں مسلمانوں کا اثرورسوخ ختم ہوگیا ہے۔

ترکی میں اسلام پسندوں اور سیکولر گروہوں کے درمیان اختلافات ابھر کر سامنے آئے ہیں۔ حال میں ہی ترک فوج کے سربراہ نے ملک کی اسلام پسند حکومت کو خبردار کیا تھا کہ ملک کی سیکولر روایت کے خلاف اقدامات نہ کرے۔

ترکی کی حکومت نے اصلاحات کا عمل جاری رکھتے ہوئے یورپی یونین میں شامل ہونے کی اہلیت اختیار کرنے کی خاطر ملک میں پھانسی کی سزا ختم کردی ہے۔ بعض گروہوں کا کہنا ہے کہ ترکی میں گزشتہ اسی برسوں سے مغربی ممالک کی مداخلت تو نہیں ہے لیکن ان کا اثرورسوخ بڑھ گیا ہے۔

مصطفیٰ کمال پاشا کو مسلم دنیا میں جدیدیت کا علمبردار سمجھا جاتا ہے اور بعض مسلم ملکوں کے سربراہ انہیں اپنا ہیرو تصور کرتے ہیں۔ پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف نے بھی کہا ہے کہ مصطفیٰ کمال پاشا ان کے ہیرو ہیں۔

آج ترکی میں اس بات پر بحث جاری ہے کہ کیا حکومت اسی سال قبل شروع کی جانے والی جدیدیت کو فروغ دینے کی پالیسیاں جاری رکھے۔ گزشتہ اختتام ہفتہ کو مسلم تنظیموں کے خلاف ایک مظاہرہ بھی ہوا۔

ترکی میں خواتین کو عوامی مقامات جیسے اسکولوں اور عدالتوں میں حجاب پہننے کی اجازت نہیں ہے۔ اور اس بات پر بھی بحث جاری ہے کہ ملک کے صدر نے اسلام پسند اراکین پارلیمان کی بیویوں کو آج کی تقریبات میں شامل ہونے کی اجازت نہیں دی ہے کیونکہ وہ حجاب پہنتی ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد