| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراقیوں کی ناراضی قبول نہیں: ترکی
ترکی کے وزیراعظم رجب طیب اردگان نے اپنے دورۂ سپین کے دوران کہا ہے کہ ان کا ملک واشنگٹن کی خواہش کے پیش نظر عراق میں قیام امن کے عمل میں مدد دینے کے لئے اپنی فوج عراق بھیجنا چاہتا تھا، تاہم اگر اس فیصلہ سے صورتحال کے مزید بگڑ جانے کا اندیشہ ہو تو ترکی ایسا نہیں کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ ترکی اس سلسلے میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد کا انتظار کرے گا۔ سلامتی کونسل کا اجلاس اگلے ہفتہ ہو رہا ہے۔ ترکی کے عراق میں فوج بھیجنے کے فیصلہ پر عراقی انتظامی کونسل نے شدید تنقید کی تھی۔ خاص طور پر شمالی عراق سے تعلق رکھنے والے کرد ارکان نے اس پر اپنی ناپسندیدگی کا اظہار کیا تھا۔ ترکی نے اعلان کیا تھا کہ وہ اپنی دس ہزار سے زیادہ فوج ہمسایہ ملک عراق میں بھیجے گا۔ استنبول میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ اب ایسا لگتا ہے کہ ترکی اپنے اس فیصلہ سے پیچھے ہٹنے والا ہے۔ دوسری جانب امریکی حکام کہتے ہیں کہ ترکی نے خود سے فوج بھیجنے کی پیشکش کی تھی۔ امریکہ نے اس سے کبھی ایسا کرنے کی درخواست نہیں کی۔ ترکی کا یہ فیصلہ خود اس کے اپنے شہریوں کے لئے بھی قابل قبول نہیں رہا۔ رائے عامہ کے جائزوں سے پتہ چلتا ہے کہ عوام کی اکثریت اس کے خلاف ہے۔ تاہم ترک حکومت کی خواہش تھی کہ وہ عراق میں اپنی فوج بھیج کر امریکہ سے اپنے تعلقات پھر سے استوار کرنے کے ساتھ خطے میں ایک فعال کردار بھی ادا کرے۔ لیکن اب صورتحال قدرے مختلف ہے۔ ترکی کے اس فیصلہ کی مخالفت عراقی انتظامی کونسل کے اراکین کی طرف سے بھی کی گئی ہے، بعض یورپی ممالک نے بھی اس پر نکتہ چینی کی ہے اور پھر گزشتہ دنوں بغداد میں ترک سفارتخانے کے باہر کار بم کا حملہ اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ عراقی ترک فوج کے خیرمقدم پر آمادہ نہیں ہیں۔ مگر ان سب کے باوجود ترک حکومت کا اصرار رہا ہے کہ اس کی فوج عراق ضرور جائے گی۔ لیکن اب ترک وزیراعظم کے تازہ بیان سے لگتا ہے کہ انہوں نے اپنے فیصلہ پر نظر ثانی کی ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||