ترکی یورپی یونین کا حصہ بن سکے گا؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ترکی کی یورپی یونین میں شمولیت نہ صرف مسلمانوں کی ایک بہت بڑی تعداد کو یورپی یونین میں شامل کردے گی بلکہ یہ یورپ کی سرحدیں قدیم میسوپوٹامیہ کے میدانوں سے ملا دے گی۔ یعنی یورپی یونین کی سرحدیں شام، عراق، ایران، جورجیا اور ارمانیہ سے جا ملیں گی۔ کچھ کے لیے یہ خیال خوش آئند ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ترکی مشرق و مغرب کے درمیان رابطہ بن جائے گا۔ ایک ایسا رابطہ جو عیسائیوں کی تاریخ سے مزین براعظم کو اسلامی تہذیب والی سرزمین سے ملا دے گا۔ ترکی کی یورپی یونین میں شمولیت دونوں کے درمیان نیٹو کے ذریعے بننے والے رابطے کو مزید مضبوط سیاسی روابط میں بدل دے گی۔ جبکہ اس خیال کے مخالفین کا کہنا ہے کہ ترکی کو یورپی یونین میں شامل کرنا ای یو کی ’غیر ضروری‘ توسیع ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ترکی کوئی یورپی ملک نہیں بلکہ اسلامی ملک ہے۔ ترکی کی آبادی انہتر ملین ہے جو جرمنی کے بعد دوسرے نمبر پر ہے۔ جرمنی کی آبادی بیاسی ملین نفوس پر مشتمل ہے۔ لیکن ترکی میں آبادی بڑھنے کے تیز رجحان اور جرمنی کے گھٹتے ہوئے رجحان کو دیکھ کر کہا جاسکتا ہے کہ اس صدی کے وسط تک یورپی یونین میں ترکی سب سے زیادہ آبادی والا ملک بن جائے گا۔ یورپی یونین کی جدید حکومتوں میں سے چند کے لیے ترکی کا ماضی تو قابل اعتراض تھا ہی تاہم اب وہ ترکی کے مستقبل سے زیادہ فکر مند نظر آتے ہیں۔ ای یو کا ایک بنیادی اصول ہے لوگوں اور اشیاء کی آزادانہ نقل و حرکت۔ یورپی ممالک کو خدشہ ہے کہ ترکی کی شمولیت کے ساتھ ہی اناطولیا کے لاکھوں غریب افراد یورپی یونین ہجرت کر جائیں گے۔ اس بارے میں ایک تیسرا نقطۂ نظر یہ ہے کہ ترکی کی یورپی یونین میں شمولیت کے مذاکرات ہی ناکام ہوجائیں گے۔ توقع ہے کہ ان مذاکرات کے لیے دسمبر کے اجلاس میں کوئی تاریخ طے کی جائے گی۔ یورپی پالیسی سینٹر کے سیاسی ڈائریکٹر جان پامر کہنا ہے کہ ترکی نے اپنی شمولیت کے لیے اصلاحات تو کی ہیں تاہم یہ ابھی ناکافی ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||