فرانس میں سخت امیگریشن قوانین | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فرانس کی حکومت نے غیر قانونی تارکین وطن کو روکنے کےلئے نئے اقدامات کااعلان کیا ہے۔ ان اقدامات میں ویزے میں بائیو میٹرک معلومات کی شمولیت اور ملک بدری میں اضافہ شامل ہیں۔ فرانس کے وزیر داخلہ، ڈومینک ویلیپن نے فرانسیسی اخبار لی فیاگرو کو بتایا کہ ’جب بات غیرقانونی تارکین وطن کے مسئلے کی ہو تو قانون کا سخت ہونا ضروری ہے۔‘ انہوں نے کہا کہ یورپی یونین کا منشور جس پر 29 مئی کو ریفرینڈم ہونے والا ہے یورپ میں امیگریشن کنٹرول کو آسان بنادیگا اور وہ اس لئے کہ سیاسی پناہ اور امیگریشن کے مسائل پر فیصلہ یورپی اتحاد میں شامل پچیس ممالک کی ایک رائے کے بجائے ووٹوں کی اکثریت کی بنیاد پر کیا جائے گا۔ مسٹر ڈی ویلیپن نے بتایا کہ فرانس میں غیرملکی تارکین وطن کی تعداد دو سے چار لاکھ کے درمیان ہے۔ یہ پہلی دفعہ ہے کہ فرانس میں اس طرح کے اعداد وشمار ظاہر کئے گئے ہیں۔ غیر ملکی تارکین وطن کی روک تھام کے لئے اقدامات میں مضبوط سرحدی کنٹرول، امیگریشن پولیس کا قیام، مرکزی حکومت کے تحت غیرقانونی ملازمین کی روک تھام کےادارے کا قیام ، غیر ممالک میں رہنے والے فرانسیسی باشندوں کی شادیوں کی منظوری سے پہلے پڑتال اور محفوظ ممالک کی فہرست جن کے باشندوں کی ویزہ درخواستوں کی جلد شنوائی شامل ہیں۔ تاہم وزیر داخلہ نے اس امکان کو رد کردیا کہ فرانس سپین کی طرح کئی لاکھ غیرقانونی تارکین وطن کو بغیر کسی تفریق کے شہریت دینے کا ارادہ رکھتا ہے۔ اے ایف پی خبر رساں ایجنسی کے مطابق وزیر داخلہ نے کہا کہ ’اس کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کیونکہ 1981 اور 1997 میں ہونے والی اجتماعی شہریت ناکام ثابت ہوئیں۔ دونوں مرتبہ ایک نئے دباؤ اور مزید تارکین وطن کی آمد میں اضافہ ہی ہوا ہے۔‘ ان نئے اقدامات کی فرانس میں انسانی حقوق کی تنظیم لا لیگ دے تھخوا دے لوم نے مذمت کی ہے۔ اس تنظیم نے اے ایف پی کو ایک تحریری بیان میں بتایا ہے کہ ’یہ اقدامات کچھ حل کرنے کے بجائے غیرملکیوں کو قربانی کا بکرا بنا دینگے۔‘ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||