لبنان میں سابق جنرل کی جیت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لبنان کے پارلیمانی انتخابات کے تیسرے دور میں فوج کے سابق سربراہ اور عیسائی سیاستداں میشیل عون کو بھاری کامیابی حاصل ہوئی ہے۔مسٹر عون کی کامیابی نے پارلیمنٹ میں شام مخالف حزبِ اختلاف کو اکثریت حاصل کرنے سے روک دیا ہے۔ میشیل عون کی اب تک کی وجہ شہرت یہ تھی کہ وہ ایک شام مخالف قوم پرست سیاستداں ہیں تاہم انہوں نے ان انتخابات میں شام نواز امیدواروں سے اتحاد کرکے اپنی کامیابی کی راہ ہموار کرلی۔جبکہ انکے حامی امیدواروں نے مارونی عیسائیوں کے علاقے شمال مشرقی بیروت میں سولہ میں سے پندرہ نشستیں جیت لیں۔ لبنان میں اب تک ایک سو اٹھائیس نشستوں میں سے اٹھاون پر انتخابات مکمل ہوچکے ہیں اور پچاس فیصد سے زائد رائے دہندگان نے ووٹ کا حق استعمال کیا ہے۔ ایک سرکردہ شام مخالف لبنانی دروز رہنما ولید جنبلات نے اگرچہ مسٹر عون کی کامیابی کا اعتراف کرلیا ہے لیکن ساتھ ہی ساتھ یہ بھی کہا ہے کہ مسٹر عون جنہیں چودہ برس پہلے شامیوں نے ہی جلاوطن کیا تھا اب دوبارہ انہیں شامی ایجنٹ کے طور پر واپس لایا گیا ہے تاکہ عیسائی ووٹ تقسیم ہو جائیں۔ واضح رہے کہ انیس سو اسی کے عشرے میں میشیل عون نے ہی بطور وزیرِ اعظم ملک سے شامی فوج کے انخلا کا مطالبہ کیا تھا لیکن حالیہ انتخاب میں انہوں نے اپنی حکمتِ عملی تبدیل کرکے شام نواز دروز امیدواروں سے انتخابی اتحاد کر لیا۔ مسٹر عون نے اپنی کامیابی کے بعد کہا کہ وہ پارلیمنٹ میں دیگر گروہوں کے ساتھ مل کر نئے انتخابی قوانین وضع کرنے، پارلیمان کی معیاد چار برس سے کم کرنے اور بدعنوانیوں کے انسداد کے لئے قانون سازی کے عمل میں تعاون پر تیار ہوں گے۔ لبنان میں عیسائی آبادی کو کم ہونے کے باوجود پارلیمنٹ میں آدھی نشستیں حاصل ہیں جبکہ آئین کے اعتبار سے لبنان کا صدر ہمیشہ ایک مارونی عیسائی منتخب ہوتا ہے۔جبکہ وزیرِ اعظم سنی اور پارلیمانی اسپیکر شیعہ ہوتا ہے۔ مجموعی طور پر اب تک کے انتخابی عمل میں شام نواز امیدواروں نے زیادہ نشستیں حاصل کی ہیں۔انتحابات کا حتمی دور اتوار کو ہوگا جب شمالی لبنان میں پولنگ ہوگی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||