زیرو زیرو زیرو ایک فیصد | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسلام آباد میں پچھلے ہفتے صدر جنرل پرویز مشرف نے عورتوں پر تشدد کے موضوع پر ایک علاقائی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عورتوں سے زیادتی کے واقعات دنیا میں ہر جگہ ہوتے ہیں لیکن پاکستان میں بعض نام نہاد این جی اوز نے یہ وطیرہ بنا لیا ہے کہ وہ اس معاملے میں ملک کو بدنام کرنے کا کوئی موقع ضائع نہیں کرتیں۔ صدر مشرف نے کہا کہ انہیں ایسے واقعات سے متاثر خواتین سے پوری ہمدردی ہے اور انہیں پورا انصاف ملنا چاہیے لیکن وہ اس کی آڑ میں ملک کو بدنام کرنے والوں کو برداشت نہیں کرسکتے۔ صدر مشرف کے خیالات سننے کے بعد میرا دل چاہ رہا ہے کہ انہیں پاکستان کو بدنام کرنے والوں سے جو دکھ پہنچا ہے اسے میں بھی صدر کے ساتھ بانٹوں لیکن اسکے لئے ضروری ہے کہ میں کسی پہاڑی کی چوٹی پر ان کے برابر بیٹھ کر نیچے دور تک پھیلے ہوئے پاکستان کو صدرِ مملکت کی نظر سے دیکھوں۔ یہ وہ پاکستان ہے جو سرسبز و شاداب ہے۔ جس کا ماضی شاندار، حال تابناک اور مستقبل خوابناک ہے۔ لوگوں کے چہرے وطن پرستی کے جذ بے سے تمتما رہے ہیں۔ عورتیں اور بالیاں ہمیشہ کی طرح بے خوف و خطر کھیتوں میں کام کررہی ہیں اور کھلکھلاتی ہوئی گھڑے سر پر رکھے پانی لینے جا رہی ہیں۔گاؤں کے کسی بااثر یا بے اثر کو جرات نہیں کہ وہ انہیں نظر بھر کر بھی دیکھ لے۔
شہروں میں ہر صبح جب سینکڑوں خواتین دفتر یا اسکول جانے کے لئے سڑک پار کرتی ہیں تو زیبرا کراسنگ پر ٹریفک رک جاتا ہے۔احساسِ تحفظ سے سرشار ان عورتوں کو معلوم ہے کہ کسی نے ان پر کوئی گھٹیا فقرہ کسنے، جنسی طور پر ہراساں کرنے یا زیادتی کا نشانہ بنانے کی کوشش کی تو ریاست ایک ہاتھ میں قانون کی تلوار اور دوسرے ہاتھ میں حدود آرڈیننس کی ڈھال لے کر انکے تحفظ کے لئے سینہ سپر ہوجائے گی اور مجرم کو اسکی حیثیت سے قطع نظر وہ سزا ملے گی کہ دنیا کان پکڑے۔ اس پاکستان میں کوئی بھی بالغ عورت اپنی مرضی سے شادی کرسکتی ہے۔ اس تناظر میں اگر عورتوں کے قتل کے اکا دکا واقعات ہوتے بھی ہیں تو وہ پورے سماج کی ترجمانی نہیں کرتے۔ اگر پندرہ کروڑ کی آبادی میں ہرسال دو ڈھائی ہزار عورتیں قتل ہو بھی جاتی ہیں تو یہ آبادی کا زیرو زیرو زیرو زیرو ایک فیصد بھی نہیں بنتا۔ اس سے چار گنا عورتیں تو ہرسال زچگی میں ہلاک ہوجاتی ہیں۔ مگر عورتوں کے حقوق کی نام نہاد این جی اوز کو ان اعدادوشمار سے کیا لینا دینا۔ انہیں تو اپنی دوکان چمکانے کے لئے ہروقت کسی شائستہ عالمانی یا مختاراں مائی کی تلاش رہتی ہے۔
آج کل یہ این جی اوز اس پر تو ٹسوے بہارہی ہیں کہ سونیا ناز کو پولیس والوں نے کہیں کا نہ رکھا لیکن انہیں سونیا کی یہ حرکت یاد نہیں رہتی کہ اس نے پارلیمنٹ کے ہال میں زبردستی گھس کر نہ صرف ملک کے لئے مسلسل قانون سازی میں مصروف معزز ارکانِ اسمبلی کی توجہ بٹانے کی کوشش کی بلکہ پارلیمنٹ کا تقدس بھی پامال کیا۔ صرف این جی اوز نہیں بلکہ ان کے بہکائے ہوئے لوگ بھی ملک کو بدنام کر رہے ہیں۔ مثلاً سوئی ریپ کیس کی ڈاکٹر شازیہ خالد کو ہی لے لیں۔ دنیا جانتی ہے کہ صدر مشرف کو ڈاکٹر شازیہ کے ساتھ ہونے والی زیادتی کا اتنا دکھ پہنچا کہ انہوں نے کسی تحقیقاتی ٹریبونل کی تشکیل کا بھی انتظار نہیں کیا اور اپنے طور پر تحقیقات کر کے یہ بات معلوم کرلی کہ اس ریپ کیس میں کوئی فوجی افسر ملوث نہیں ہے۔ اس بات پر ڈاکٹر شازیہ شکرگزار ہونے کے بجائے ملک سے ہی بھاگ گئیں اور اب وہ اس طرح کے بے بنیاد الزامات لگا رہی ہیں کہ انہیں زبردستی ایک انٹیلی جینس ایجنسی نے باہر بھیجا ہے۔ اس تناظر میں تو بس یہی کہا جاسکتا ہے کہ اہلِ پاکستان عاصمہ جہانگیر، مختاراں مائی اور شازیہ خالد جیسے ملک کو بدنام کرنے والے عناصر سے ہوشیار رہیں اور اپنی حکومت، عدلیہ اور پولیس کا بھرپور ساتھ دیں جو دن رات آپکے تحفظ اور خدمت کے لئے کوشاں ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||