BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 25 July, 2005, 10:46 GMT 15:46 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
برطانوی قومی ڈِش: چکن تکہ مصالحہ؟

چکن تکہ مصالحہ
چکن تکہ مصالحہ: برطانیہ کی ’قومی دش‘۔۔۔
کہانی کچھ یوں شروع ہوتی ہے کہ انیس سو ساٹھ کے کسی ایک دن لندن یا لندن سے باہر کے کسی ایک انڈین ریستوران میں ایک گورا داخل ہوا اور اس نے مینئو کارڈ دیکھ کر اندازے سے ایک ڈش کا آرڈر دے دیا۔ کچھ ہی منٹ میں ایک بنگالی ویٹر نے گورے کے سامنے مرغ مصالحہ لا کے رکھ دیا۔گورے نے پوچھا یہ کیا ہے۔ویٹر نے جواب دیا ’سر چکن تکہ‘۔گورے نے پوچھا لیکن یہ ڈرائی کیوں ہے اسکی گریوی کہاں ہے۔ویٹر اپنا سر کجھانے لگا مگر یہ نہ سمجھا پایا کہ سر چکن تکہ میں گریوی یا کری نہیں ہوتی۔ وہ پلیٹ اٹھا کر کچن میں لے گیا اور بنگالی شیف کو ماجرا کہہ سنایا۔ شیف نے بیرے کو مسکرا کر دیکھا اور حاضر دماغی سے کام لیتے ہوئے قریب پڑا ہوا ٹماٹو ساس اٹھایا اس میں دو تین مصالحے گھولے اور چکن تکے پر انڈیل دیا اور اس دن چکن تکہ مصالحہ کے نام پر وہ ڈش تخلیق ہوئی جس نے برطانیہ میں دیسی فوڈ کی صنعت کو آسمان پر پہنچا دیا۔

سن دو ہزار ایک میں اس وقت کے برطانوی وزیرِ خارجہ رابن کک نے لندن میں سوشل مارکیٹ فاؤنڈیشن کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا:

’بلاشبہہ چکن تکہ مصالحہ برطانیہ کی قومی ڈش ہے اور یہ اس بات کی علامت ہے کہ اہلِ برطانیہ بیرونی اثرات کو کتنے بہتر طریقے سے قبول کرکے اپنا لیتے ہیں۔‘

کئی ایشیائی گھرانوں نے انڈین فوڈ کے شاندار مستقبل کو بھانپتے ہوئے اب سے کوئی بیس پچیس برس پہلے بنے بنائے انڈین کھانوں، اچار اور تیار مصالحوں کے کام میں ہاتھ ڈالا اور آج برطانیہ میں کروڑوں پاؤنڈ سالانہ کا بزنس کرنے والی متعدد ایسی کمپنیاں ہیں جنکا آغاز کسی گھر کے معمولی باورچی خانے اور گھریلو تراکیب سے ہوا تھا۔

آج یہ صورتحال ہے کہ ریستوران تو ایک طرف رہے صرف سپر مارکیٹس سالانہ ساٹھ ملین پاؤنڈ کا ستر سے زائد اقسام کا انڈین یا ایشین فوڈ اور مصالحے فروخت کرتی ہیں۔ صرف مارکس اینڈ سپنسر کے فوڈ سپر اسٹورز پر ہی ہر ہفتے ستر ٹن سے زائد چکن تکہ مصالحہ بکتا ہے۔

اگر آپ کسی ایشین / انڈین ریسٹورنٹ میں جائیں تو وہاں ہندوستانی ، پاکستانی یا بنگلہ دیشی کم اور یورپی نژاد چہرے جن میں اکثریت نوجوانوں کی ہوگی، زیادہ دکھائی دیں گے۔

کھانے کا آرڈر عموماً پاپڑ یا بیسن لگی تلی ہوئی پیاز المعروف ’انین بھاجی‘ سے شروع ہوتا ہے اور چکن تکہ مصالحہ ، نان اور وندالو تک جاتا ہے۔ مصالحے کی تیزی سے بچنے کے لیے کوبرا، کنگ فشر یا ٹائگر نامی بیئر کی بوتلوں کا سہارا لیا جاتا ہے۔ چکن تکہ مصالحہ کے علاوہ وندالو سفید فام اہلِ برطانیہ کو اتنا پسند ہے کہ انیس سو اٹھانوے کے فٹبال ورلڈ کپ میں شرکت کرنے والی برطانیہ کی قومی فٹبال ٹیم کے غیر سرکاری ترانے کا نام ہی وندالو رکھ دیا گیا۔

دیسی کھانا
’انگریزوں پر ہندوستانی دسترخوان کا جادو چل گیا‘

کھانے کے معاملے میں بنیاد پرست حلقے کا اعتراض یہ ہے کہ انڈین فوڈ کے نام پر اس طرح کے کھانے بھی دستیاب ہیں جن کا انڈین روائیت اور دسترخوان سے دور دور تک تعلق نہیں۔ مثلاً وندالو کو ہی لے لیجئے جو بنیادی طور پر سرکے میں بھگوئے ہوئے گوشت اور آلو کی ڈش ہے جسے لیموں کے رس اور سرخ مرچوں کے ساتھ پکایا جاتا ہے اور اسے پرتگیزی اپنے ساتھ پرتگال سےگوا لائے تھے۔ لیکن اب اسے اہلِ برطانیہ انڈین ڈش سمجھ کر اس کے مزے لیتے ہیں۔ اسی طرح چکن مدراس ، چکن جالفریزی یا ویجیٹیبل قورمے کا نام ہندوستان میں کم لوگ جانتے ہیں لیکن برطانیہ میں اس طرح کے کھانے کو انڈین کہہ کر سادہ لوح گوروں کو بیچا جا رھا ہے۔

لیکن ان خوردنی بنیاد پرستوں کے رد میں جو دلیل دی جاتی ہے وہ یہ ہے کہ ثقافت کی طرح دستر خوان بھی کوئی جامد شے نہیں ہے۔ جب دو کلچر ملنے سے ایک تیسرا کلچر جنم لے سکتا ہے تو یہی کلیہ فوڈ کلچر پر کیوں لاگو نہیں ہوسکتا۔ مثلاً قورمے کا جنم نیپال میں ہوا جہاں یاک کے دودھ میں پکے ہوئے گوشت کو قورمہ کہا جاتا تھا۔ لیکن جب یہی قورمہ مغل ہندوستان میں آیا تو اس کی شکل بالکل بدل گئی۔ اسی طرح شامی کباب اور پلاؤ بنیادی طور پر ترک کھانے ہیں لیکن اب انہیں انڈین فوڈ کا لازمی جزو سمجھا جاتا ہے۔

اگر لاہور کو کڑاہی گوشت کی جنم بھومی سمجھا جاتا ہے تو برمنگھم والے بالٹی گوشت ایجاد کرنے اور سان فرانسسکو کے زانٹے ریستوران والے تندوری چکن اور تندوری سبزیوں سے سجے انڈین پیزا کے موجد ہونے کے دعوی دار ہیں۔

لیکن اس بحث سے قطع نظر آج برطانیہ میں دس ہزار کے لگ بھگ انڈین یا ایشیائی ریستورانوں میں ہر ہفتے ڈھائی ملین لوگ کھانوں سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ یہ برطانوی ان ریستورانوں ، ٹیک اویز ( کھانے پینے کی وہ دوکانیں جن میں آپ بیٹھ کر کھانا نہیں کھاتے بلکہ بندھوا کر لےجاتے ہیں) اور سپر مارکیٹس میں انڈین کھانے پر سالانہ کوئی ڈھائی بلین پاؤنڈ خرچ کرتے ہیں۔ اس وقت دیسی کھانوں کی صنعت سے ستر ہزار کے لگ بھگ لوگوں کا براہ راست اور ڈیڑھ لاکھ لوگوں کا بلاواسطہ روزگار وابستہ ہے۔گویا انڈین فوڈ کی صنعت سے جتنے لوگوں کا روزگار وابستہ ہے وہ برطانوی سٹیل، کوئلے اور جہازسازی کی صنعت میں کام کرنے والوں کی مجموعی تعداد سے بھی زیادہ ہے۔



(پکوان ہےمغلئی اور پکا رہے ہیں بنگالی، پڑھئیے گا وسعت اللہ خان کے اگلے مضمون میں۔۔۔)
پہلا نام
خاندانی نام*
پتا
ملک
ای میل
ٹیلی فون*
* اختیاری
آپ کی رائے
بی بی سی آپ کی آراء میں کاٹ چھانٹ کر سکتی ہے اور اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتی کہ موصول ہونے والی تمام ای میل شائع کی جائیں گی۔
66یہ کری کہاں سے آئی؟
دیس، پردیس اور ’دیسی کھانے‘: نیا سلسلہ
66امریکہ میں ہم جنس
’فری امریکہ‘ پر ذیشان عثمانی کے تاثرات
66کراچی کا کے ایف سی
کے ایف سی میں آتشزدگی صرف خبر نہیں۔۔۔
66میرا شہر
قاہرہ سے فیضہ حسن کا مراسلہ
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد